غزہ مظالم کی مذمت کافی نہیں خونریزی کو روکنا ہوگا، وزیراعظم پاکستان / نیتن یاہو کے خطاب کے دوران پاکستان کا احتجاجاً واک آؤٹ

 نیویارک: پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ غزہ میں جاری مظالم کی صرف مذمت کافی نہیں بلکہ اس بربریت کو فوری طور پر رکنا چاہیے۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں سیشن سے خطاب کا آغاز قرآن کی آیت سے کیا اور فلسطین میں جاری اسرائیلی بربریت و مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں مصروف ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج، ہمیں عالمی سطح پر انتہائی خطرناک چیلنجز کا سامنا ہے، ایک طرف غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے، دوسری طرف یوکرین میں ایک خطرناک تنازع موجود ہے جبکہ افریقا اور ایشیا میں تباہ کن تنازعات، بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی؛ دہشت گردی، تیزی سے بڑھتی ہوئی غربت اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے ساتھ بھاری قرض جیسے عوامل ہیں، جس کے باعث دنیا اب ایک نئی سرد جنگ میں داخل ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کی حالت زار پر پاکستانی عوام کے دکھ اور درد کا اظہار کرنے کے لیے آپ کے سامنے کھڑا ہوں، فلسطینیوں پر جاری مظالم پر ہمارے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں، ارض مقدس میں ایک سانحہ جاری ہے جس نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو تقریر کیلیے آئے تو پاکستان سمیت دیگر ممالک نے احتجاجا واک آؤٹ کیا۔

وزیراعظم اپنی تقریر ختم کر کے مقرر کردہ نشست پر پہنچے تو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو خطاب کیلیے مدعو کیا گیا، اس دوران وزیراعظم شہباز شریف سمیت پاکستانی وفد نے احتجاج اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

شفقنا اردو

Share This Article

تازه ترین

کشمیر میں لوٹس اسٹیم کی کٹائی