غزہ میں کمسن بیٹے کی سرکٹی لاش اٹھائے باپ مغرب کی توجہ کیوں حاصل نہیں کرتا؟ مونا خان
Share
یہ تحریر ڈان نیوز میں شائع ہوئی
’آپ دوسروں پر مظالم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے وہ بھی صرف اس لیے کیونکہ آپ خود ایک وقت میں ظلم کا شکار ہوچکے ہیں، اس کی ایک حد ہونی چاہیے‘۔
ایڈورڈ سیڈ نے یہ جملہ آج سے تقریباً 50 سال پہلے لکھا تھا لیکن انہوں نے جو حدود متعین کی تھیں، اسرائیل کی پروپیگنڈا مشین بہت عرصے پہلے ہی انہیں پار کرچکی ہے جبکہ اس معاملے میں مغربی میڈیا ان کی حمایت میں پیش پیش رہا ہے۔
اگر ایسا نہیں تو پھر آپ 40 بچوں کے سر قلم کرنے کی جھوٹی کہانی پھیلانے کی وضاحت کیسے کریں گے جو ایک سال قبل حماس کے کفار عزا کبوتز نامی اسرائیلی قصبے پر حملے کے بعد سامنے آئی؟ یہ بہت جلد ہی عالمی میڈیا کی شہ سرخی بن گیا اور عالمی سطح پر اس مبینہ واقعے کی مذمت کی گئی جن میں امریکی صدر جو بائیڈن بھی شامل تھے جن کی انتظامیہ نے انہیں اس کہانی کا ذکر کرنے کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔
اس کے باوجود بائیڈن نے ان کی تنبیہات پر کان نہیں دھرا اور کہا کہ انہوں نے بچوں کی تصاویر دیکھی ہیں لیکن بعدازاں انہیں اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ جب تاریخ میں کبھی دوبارہ اس لمحے کا ذکر ہوگا تو ممکنہ طور پر اسے جو بائیڈن کی زائد عمر اور ذہنی کیفیت کے کھاتے میں ڈال دیا جائے گا۔ تاہم ہم میں سے بہت سے لوگ واقف ہیں کہ ’ہمیں‘ کس طرح دکھایا جاتا ہے اور ’وہ‘ صرف ہمارے بدترین پہلوؤں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔
جیسا کہ ایڈورڈ سیڈ نے 1975ء میں شائع اپنی کتاب اورینٹلزم میں لکھا، ’میڈیا کی تصاویر اور ویڈیوز میں ہمیشہ عربوں کو بڑی تعداد یا گروپ کی صورت میں دکھایا جاتا ہے۔ انہیں انفرادیت، ذاتی خصوصیات یا تجربات کے اعتبار سے تقسیم نہیں کیا جاتا۔
’زیادہ تر تصاویر بڑے پیمانے پر غصے اور مصائب یا غیر معقول رویوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان تصاویر کو دکھانے کے پیچھے مقصد یہ ہوتا ہے کہ جہاد کو ایک خطرے کے طور پر دکھایا جائے۔ اس کا نتیجہ اس خوف کی صورت میں سامنے آتا ہے کہ مسلمان (یا عرب) دنیا پر غلبہ حاصل کرلیں گے‘۔
یہی وجہ ہے کہ فلسطینی عربوں کو قابو میں رکھنا ہوگا۔
اگرچہ موجودہ اور متوقع امریکی صدور اسرائیل کی سنائی گئی کہانیوں پر بہت جلد ہی اعتبار کرلیتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ حیران کُن تھا کہ مئی میں رفح میں کی گئی اسرائیلی بمباری سے ہونے والی شدید تباہی کا دفاع کس طرح کیا گیا حالانکہ اس حملے میں بڑی تعداد میں بچوں کی شہادت ہوئی تھی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو رفح میں اپنی جارحیت روکنے کا حکم دیا تھا۔ اسرائیل نے اسے اپنی ’سنگین غلطی‘ قرار دیا۔
40 بچوں کے سر قلم کرنے کی خیالی کہانی کے بجائے رفح میں ہمارے سامنے وہ حقیقی مناظر آئے کہ جن میں ایک باپ اپنے کمسن بچے کی لاش کو اٹھائے ہوئے تھا جس کا سر دھڑ سے جدا تھا لیکن یہ دل دہلا دینے والا منظر مغربی میڈیا کی شہ سرخی نہیں بنا۔
عرب یا مسلم اکثریتی ممالک سے روابط رکھنے والے نامور مصنفین نے اس معاملے پر قلم اٹھایا وہ بھی اپنے ذاتی بلاگز یا سوشل میڈیا پر جبکہ بائیں بازو کے نظریات کی جانب جھکاؤ رکھنے والے دی گارڈین جیسے چند اخبارات نے رفح واقعے پر کالمز شائع کیے۔
اگر سوشل میڈیا یا موبائل فونز غزہ میں جاری ظلم کے مناظر عکس بند نہ کررہے ہوتے تو ہم اسرائیل کے جھوٹ پر انحصار کررہے ہوتے۔ وہ ایسا حمایت، اپنی پالیسی ترتیب دینے کے لیے کرتا ہے۔ وہ یہ یقینی بناتے ہیں کہ فلسطینیوں سے ہمدردی کو فوری طور پر اس سوال سے منسلک کردیا جائے کہ ’کیا آپ حماس کی حمایت کرتے ہیں؟‘ اس مقصد میں انہیں بڑے پیمانے پر مغربی میڈیا، اسکالرز اور انفلواینسرز کی حمایت حاصل ہے۔
قانون کے پروفیسر خالد بیدون نے رفح کے قتل عام کے بعد لکھا، ’اسرائیلی عسکریت پسندی اور امریکا کی غیرمشروط حمایت کے لیے اسرائیلی بچوں کے سر قلم ہونے کا جھوٹ ہی سب کچھ ہے جبکہ دوسری جانب ان کے لیے فلسطینی بچوں کے سر قلم ہونے کی حقیقت کی کوئی اہمیت نہیں‘۔
حماس کو دہشتگرد قرار دینے اور یہ دعویٰ کرنے کے وہ شہریوں کے درمیان یا ہسپتالوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، حماس کی جانب سے جنسی استحصال کے دعوے یا غزہ میں انسانی بحران کو درست طریقے سے دستاویز کرنے میں ناکامی کے علاوہ مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات سے ہوئی کہ مغربی میڈیا نے بچوں پر مرتب جنگ کے اثرات کے حوالے سے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق مارچ 2024ء تک اسرائیل کی جانب سے تقریباً 13 ہزار بچوں کو شہید کیا گیا لیکن اس کے باوجود عالمی میڈیا نے اپنے لب سی لیے۔ ایک مطالعے میں سامنے آیا کہ 7 اکتوبر سے 25 نومبر تک ایک ہزار 100 نیوز آرٹیکلز شائع ہوئے جن میں سے صرف دو میں نوجوان مظلوم فلسطینیوں کا ذکر کیا گیا۔ مذکورہ مدت کے دوران کم از کم 6 ہزار فلسطینی بچے شہید ہوئے۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک حیرت انگیز اور ناقابلِ قبول ہے۔
فلسطینیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک
ایڈورڈ سیڈ نے اپنی تحریر میں فلسطینیوں کے ساتھ غیرانسانی رویے کے حوالے سے خبردار کیا تھا اور ظاہر کیا تھا کہ کیسے فلسطینیوں کی شناخت کو مسخ کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی ہے۔ لیکن موجودہ منظرنامے میں جس طرح فلسطینیوں کی لاشوں کو اعداد میں تولا جارہا ہے، اس انسانیت سوز سلوک پر شاید ایڈورڈ سیڈ بھی مایوسی کا شکار ہوجاتے۔
برطانوی ڈیٹا جرنلسٹ مونا شلابی ہمیں بتاتی ہیں کہ فلسطینیوں کی کوریج کیسے کی جارہی ہے، انہوں نے انسٹاگرام پر لکھا، ’ایک جانب اسرائیلی متاثرین کو اس طرح دستاویز کیا جاتا ہے کہ جیسے ان لوگوں سے سب پیار کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب موت کے معاملے میں بھی فلسطینیوں کی شناخت کو مسخ کیا جارہا ہے‘۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں