ڈی کالونائزیشن اور ٹوٹ پھوٹ/سلیم سیف

نوٹ: (یہ مضون یونیورسٹی آف ایگزیٹرمیِں، یورپی مرکز برئے فلسطینی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ایلان پپے کا تحریر کردہ ہے جو ایک تاریخ دان بھی ہیں۔ یہاں یہ اردو قارئین کے لیے ترجمہ کیا جارہا ہے)7اکتوبر 2023 کو ایک سال گزر چکا ہے، اور اب اس امر کی کھوج کرنے کا وقت ہے کہ کیا ہمیں اس یادگار واقعہ اور اس کے بعد آنے والی ہر چیز کے بارے میں بہتر سمجھ ہے۔
میرے جیسے مورخین کے لیے عام طور پر ایک سال کوئی اہم نتیجہ اخذ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ تاہم، پچھلے 12 مہینوں میں جو کچھ ہوا وہ ایک وسیع تر تاریخی تناظر میں آتا ہے، جو کم از کم 1948 تک پھیلا ہوا ہے، اور میں، حتیٰ کہ 19ویں صدی کے آخر میں فلسطین میں ابتدائی صہیونی آباد کاری تک ، بحث کروں گا۔
لہٰذا، ہم مورخ کی حیثیت سے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ پچھلے سال کو طویل مدتی عمل اور واقعات کے اندر رکھا جائے جو 1882 سے تاریخی فلسطین میں سامنے آئے ہیں۔ میں دو اہم ترین چیزوں کو تلاش کروں گا۔
کالونائزیشن اور ڈی کالونائزیشن
پہلا عمل کالونائزیشن ہے اوردوسرا اس کے برعکس – ڈی کالونائزیشن۔ پچھلے سال غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے دونوں میں اسرائیلی کارروائیوں نے ان جڑواں اصطلاحات کے استعمال کو نئی سند دی۔ وہ فلسطین کی حامی تحریک کے کارکنوں اور ماہرین تعلیم کے الفاظ سے بین الاقوامی عدالت انصاف جیسے بین الاقوامی ٹربیونلز کے کام میں منتقل ہوئے۔مین اسٹریم علمیات (Mainstream academia)اور میڈیا اب بھی صہیونی منصوبے کی تعریف نوآبادیاتی کے طور پر کرنے سے انکار کرتے ہیں، یا جیسا کہ اسے بعض حلقوں کی طرف سےزیادہ درست طریقے سے آبادکار نوآبادیاتی پروجیکٹ کہا جاتاہے۔ تاہم، جیسا کہ اسرائیل اگلے سال فلسطین میں نوآبادیاتی عمل کو تیز کرتا ہے تو، اس سے مزید افراد اور اداروں کو فلسطینی حقیقت کو، نوآبادیاتی ، اور فلسطینی جدوجہد کو استعمار مخالف قرار دینے اور دہشت گردی اور امن مذاکرات جیسے قائم شدہ مفروضوں کو ترک کرنے کا راستہ ملے گا۔
درحقیقت، اب وقت آگیا ہے کہ امریکی اور مغربی میڈیا کی طرف سے "ایران حمایت یافتہ دہشت گرد گروپ حماس” یا "امن عمل” جیسی گمراہ کن زبان کا استعمال بند کیا جائے، اور اس کے بجائے فلسطینی مزاحمت اور فلسطین کو دریا سے سمندر تک آزاد کرنے کی بات کی جائے۔تجزیہ اور معلومات دونوں کے قابل اعتبار ذریعہ کے طور پر مغربی مرکزی دھارے کے میڈیا کی بڑھتی ہوئی بدنامی، ان غلط اصطلاحات کے استعمال کے خاتمے کی اس کوشش میں مددگار ہو گی۔ آج میڈیا کے ذمہ دار ان، زبان میں کسی بھی تبدیلی کے خلاف دانتوں اور ناخنوں سے لڑ رہے ہیں، لیکن آخرکارایک وقت میں وہ تاریخ کے غلط رخ پر اپنے مقام پر پچھتائیں گے۔
بیانیہ کی یہ تبدیلی اہم ہے کیونکہ اس میں سیاست کو متاثر کرنے کی صلاحیت ہے – خاص طور پر ریاستہائے متحدہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی سیاست۔ زیادہ ترقی پسند ڈیموکریٹس نے پہلے ہی فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی زیادہ درست زبان اور خاکہ قبول کر لیا ہے۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا کملا ہیرس کے الیکشن جیتنے کی صورت میں جمہوری انتظامیہ میں تبدیلی کے لیے یہ کافی ہو گا۔ لیکن میں اس طرح کی تبدیلی کے بارے میں اس وقت تک پرامید نہیں ہوں جب تک کہ اسرائیل کے اندر سماجی شکست و ریخت، اس کی بڑھتی ہوئی معاشی کمزوری اور بین الاقوامی تنہائی،یہ تینوں عوامل ملکر مردہ "امن کے عمل” کو دوبارہ زندہ کرنے کی کھوکھلی جمہوری کوششوں کو ختم نہیں کر دیتی۔اگر ڈونلڈ ٹرمپ جیت جاتے ہیں تو اگلی امریکی انتظامیہ موجودہ انتظامیہ جیسی ہو گی یا وہ اسرائیل کو مکمل طور پر کھل کھیلنے کی اجازت دے گی۔
اس سے قطع نظر کہ اگلے ماہ ہونے والے امریکی انتخابات میں کچھ بھی ہو، ایک بات درست رہے گی: جب تک نوآبادیات اور ڈی کالونائزیشن کے ان جڑواں فریموں کو غزہ میں نسل کشی اور دوسری جگہوں پر اسرائیلی مہم جوئی کو روکنے کی طاقت رکھنے والوں کی طرف سے نظر انداز کیا جائے گا۔ پورے خطے میں امن کی امید کم ہے۔
اسرائیل کا انہدام
دوسرا عمل جو اس پچھلے سال پوری قوت کے ساتھ سامنے آیا وہ اسرائیل کی شکست وریخت اور صہیونی منصوبے کا ممکنہ خاتمہ تھا۔فلسطینیوں پر قبضے کے ذریعے عرب دنیا کے قلب میں یورپی یہودی ریاست کے قیام کا اصل صہیونی خیال شروع سے ہی غیر منطقی، غیر اخلاقی اور ناقابل عمل تھا۔یہ اتنے سالوں تک قائم رہا ہے کیونکہ اس نے ایک بہت ہی طاقتور اتحاد کے مقاصد کوپورا کیا ہے جس نے مذہبی، سامراجی اور اقتصادی وجوہات کی بناء پر ایسی ریاست کو اس اتحاد کا حصہ بننے والوں کے نظریاتی یا تزویراتی مقاصد کو پورا کرنے کے مترادف سمجھا ہے، چاہے کبھی کبھی یہ مفادات ایک دوسرے سے متصادم بھی رہے ہیں۔
عرب دنیا کے درمیان استعمار اور سامراج کے ذریعے نسل پرستی کے یورپی مسئلے کو حل کرنے کےاتحاد کا منصوبہ اپنی سچائی کے لمحے میں داخل ہو رہا ہے۔(یہاں اس شاندار جامع تاریخی جملے سے مصنف کی مراد یہ ہے نازی جرمنی میں یہودی نسل پرستی یورپ کااندرونی مسئلہ تھا جسے عرب دنیاکے عین وسط میں لا کر رکھ دیا گیا)معاشی طور پر، ایک ایسا اسرائیل جو ماضی کی طرح مختصر کامیاب جنگ میں نہیں بلکہ ایک طویل جنگ میں ہے جس کی مکمل فتح کے امکانات کم ہیں، بین الاقوامی سرمایہ کاری اور اقتصادی فوائد کے لیے سازگار نہیں ہے۔
سیاسی طور پر، نسل کشی کا ارتکاب کرنے والا اسرائیل یہودیوں کے لیے اتنا پرکشش نہیں ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مستقبل بطور عقیدہ یا ثقافتی گروہ یہودی ریاست پر منحصر نہیں ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اس کے بغیر زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے۔اس وقت کی حکومتیں اب بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں، لیکن ان کی رکنیت کا انحصار سیاست کے مستقبل پر ہے۔ اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ فلسطین میں گزشتہ ایک سال کے دوران رونما ہونے والے تباہ کن واقعات، گلوبل وارمنگ کے ساتھ ساتھ امیگریشن کے بحران، دنیا کے کئی حصوں میں بڑھتی ہوئی غربت اور عدم استحکام نے اس بات کا پردہ فاش کر دیا ہے کہ بہت سے سیاسی اشرافیہ اپنے عوام کی بنیادی امنگوں، خدشات اور ضروریات سے کتنی دور ہیں۔.
اس بے حسی اور لاتعلقی کو چیلنج کیا جائے گا اور جب بھی اس کا کامیابی سے مقابلہ کیا جائے گا، فلسطین پر اسرائیلی استعمار کو برقرار رکھنے والا اتحاد کمزور ہو جائے گا۔جو کچھ ہم نے پچھلے سال میں نہیں دیکھا ، اور اب دیکھنے کا موقع مل رہا ہے، وہ ایک فلسطینی قیادت کا ابھرنا ہے جو فلسطین کے اندر اور باہر لوگوں کے متاثر کن اتحاد اور ان کے لیے عالمی تحریک کی حمایت کی یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ فلسطین کی تاریخ کے ایسے تاریک لمحے میں یہ پوچھنا بہت بڑی بات ہو، لیکن ایسا ہوکر ہی رہے گا، اور میں کافی پر امید ہوں کہ ایسا ہوگا۔
 اسرائیل کی نسل کشی کی پالیسیوں، خطے میں تشدد میں اضافے اور ان حکومتوں کی مسلسل پشت پناہی ، جن کو ان کے میڈیا کی حمایت حاصل ہے، کی مسلسل حمایت کے لحاظ سے ،آنے والے 12 مہینے ،پچھلے سال کی بدتر نقل ہونے والے ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ کسی ملک کی تاریخ کا ایک بھیانک باب اسی طرح ختم ہوتا ہے۔ معاملہ یہ نہیں ہے کہ ایک نیا کیسے شروع ہوتا ہے.۔
مورخین کو مستقبل کی پیشین گوئی نہیں کرنی چاہیے لیکن وہ کم از کم اس کے لیے ایک معقول منظر نامہ بیان کر سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے، میں یہ کہنا مناسب سمجھتا ہوں کہ فلسطینیوں پر جبر کا خاتمہ ہوگا یا نہیں، اس سوال کو اب "کب” سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ہم "کب” کے بارے میں نہیں جانتے، لیکن ہم سب اسے جلد از جلد لانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
شفقنا اردو
جمعتہ المبارک، 11 اکتوبر 2024
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین