امریکہ اور اسرائیل لبنان میں مہلک غلطی کاارتکاب کر رہے ہیں/ جواد نقوی

لبنان پر اسرائیل کا امریکی حمایت یافتہ حملے (سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پنیٹا نے اسے "دہشت گردی” کی کارروائی سےتشبیہہ دی ہے) کی شروعات کے نتیجے میں ، شاید حزب اللہ کو ایک دھچکا پہنچا ہو، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اچانک حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے صدمے پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب اسرائیل کی اصلیت کااصل امتحان شروع ہو چکا ہے17 اور 18 ستمبر کو اسرائیل نے لبنانی حزب اللہ کے ارکان کو فراہم کیے جانے والے وائرلیس مواصلاتی آلات کو دھماکے سے اڑا کر اندھا دھند حملہ کیا جس میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کی کارروائی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے طور پر بیان کیے جانے والے، ان دھماکوں نے لبنانی عوام کے لیے نفسیاتی دھچکا اور حزب اللہ کی چین آف کمانڈ کے لیے جسمانی چیلنج دونوں کو سامنے لا کھڑا کیا جس سے نمٹنے کی کوشش جاری ہے۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سنگین قتل و غارت کا ایک سلسلہ تھا، جس میں حزب اللہ کے سیاسی اور فوجی رہنماؤں کی پہلی صف کا ایک بڑا حصہ ہلاک ہوا۔ قتل و غارت کایہ سلسلہ 27 ستمبر کو گروپ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے قتل تک گیا، جس میں تقریباً 75 ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا جس نے جنوبی بیروت میں ایک پورے شہری بلاک کو تباہ کر دیا۔
حملوں کا یہ سلسلہ حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کے سر قلم کرنے کے مترادف تھا اور استعمال کیے گئے حربوں کی اندھا دھند نوعیت کے باوجود، امریکی میڈیا نے بوبی ٹریپ حملوں کی تعریف کی اور امریکی صدر جو بائیڈن نے لبنانی دارالحکومت میں ہونے والے قتل پر جشن منایا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ہم 2004 میں حماس کے رہنما شیخ احمد یاسین کے قتل پر نظر ڈالیں تو امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے حقیقت میں اس کی مذمت کی تھی، ان حملوں کی اندھا دھند نوعیت کی وجہ سے جس کے نتیجے میں نو دیگر شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے برعکس، حزب اللہ کے رہنما کے قتل میں اسرائیل کے اپنے اندازوں کے مطابق تقریباً 300 افراد ہلاک ہوئے، اور واشنگٹن میں اس کی تعریف کی گئی۔
اسرائیلی میڈیا کے پیجر حملوں ( pager attacks) اور قتل و غارت کے بعد حزب اللہ کی "تذلیل” اور اس کے”کمزور”
ہونے پر بغلیں جھانکنے کے باوجود ، اورامریکہ کے اس دعوے کے باوجود کہ اس گروپ کو "20 سال پیچھے لے جایا گیا ہے”لہریں پلٹنا شروع ہوچکی ہیں۔ جیسا کہ اب اسرائیل لبنان جنگ کے دوسرے مہینے کے قریب ہے، حزب اللہ نے جاری جنگ کی رفتار کا تعین کرنا شروع کر دیا ہے۔جب کہ اسرائیل نے حزب اللہ کو پے در پے ضربیں لگائیں، جس کا لبنانی گروپ نے اعتراف بھی کیا کہ وہ اس سے متاثر ہوئے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل نے بہت جلد اپنے آپ کو تھکا لیا ہے اور اپنے بہت سے کارڈ جلد بازی میں استعمال کر لیے ہیں۔
مزید برآں، اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان میں زمینی دراندازی کی کوشش شروع سے ہی ناکامی سے دوچار رہی ہے اور اب تک IDF کوئی قابل ذکر زمینی بنیاد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔جہاں تک کہ اسرائیلی اور امریکی حکام لبنان میں اپنی حکمت عملی کی فتوحات پر خوش ہوئے، وہاں دیگر کئی تجزیہ نگاروں نے کامیابی کی اس نوعیت کی نفی بھی کی ، اوریہ دونوں بھی اپنے ہی پروپیگنڈے کے جال میں پھنسنے لگے اور اپنی ہی مبالغہ آرائیوں پر یقین کرنے لگے۔ پھر، یکم اکتوبر کو، ایران نے تقریباً 180 بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی فوجی اڈوں کے خلاف اپنے طویل انتظار کے بعد جوابی حملے شروع کیے، جس نے اس کھیل کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا اوراس نے حزب اللہ کی قیادت کو بھی ایک حوصلہ دیا۔
بینجمن نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) سے خطاب کرنے کے فوراً بعد حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کے قتل کا حکم دینے کے بعد اس قدر حوصلہ مند ہوئے کہ اس نے تہران میں حکومت کا تختہ الٹنے میں ایرانی مخالفین کی مدد کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ایک ویڈیو شائع کی۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس رات نیتن یاہونے تقریر کے دوران، مغربی ایشیا کے لیے جوتصورات پیش کیےوہ ایک "ڈراؤنا خواب” ہیں۔ اس کا خواب بالکل وہی نظریہ تھا جو اس نے ایک سال قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں پیش کیا تھا، تاکہ تل ابیب اور ریاض کے درمیان تعلقات کو معمول پرلاتے ہوئے ہندوستان-مشرق وسطی-یورپ تجارتی راہداری کو حقیقت میں لایا جا سکے۔
یہ نیا زمینی راستہ امریکی صدر جو بائیڈن کے سعودی-اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کو ایک اعلی علاقائی پالیسی ایجنڈے کے طور پر انجام دینے پر اصرار کی وجہ تھا۔ اسی ستمبر میں، نئی دہلی میں منعقدہ G-20 سربراہی اجلاس میں، امریکی صدر نے تجارتی راہداری کا اعلان "واقعی ایک بڑی سودے بازی” کے طور پر کیا۔اسرائیل کی جنگی کوششوں کے پیچھے موجود سوچ میں سٹریٹجک خرابی، جو حقیقت میں واشنگٹن کی قیادت میں ہے، ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ طاقت کے دیوانہ وار مظاہرہ کے ذریعے 7 اکتوبر سے پہلے کی دنیا میں واپس جا سکتے ہیں۔ یہ ان کا عقیدہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر حزب اللہ، حماس اور یہاں تک کہ ایران کو مثال بنا کر پورے خطے کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبورکر سکتے ہیں۔ بینجمن نیتن یاہو کی علاقائی اسلامی مزاحمت پر فتح حاصل کرنے کے عزائم اسی طرح کی تصویر پیش کرتے ہیں، وہ جون 1967 کی جنگ کے دوران سیکولر عرب قوم پرستی پر اسرائیل کی فتح کی طرح لگتی ہے۔
اسرائیل اب لبنان کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے نتائج سے نمٹ رہا ہے، کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ حزب اللہ تیزی سے بحال ہو چکی ہے، اپنی اعلیٰ قیادت کو تبدیل کر رہی ہے، اور دن بدن اس کے خلاف احتیاط سے منصوبہ بند حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اسرائیلی اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کرنے کا عزم کر رہے ہیں، حالانکہ اس طرح کے حملے سے ناقابل شکست تعطل پیدا ہونے کا امکان ہے۔
حتیٰ کہ اسرائیل کے مختلف جنگی کھیلوں میں بھی وہ متعدد محاذوں پر لڑنے کی صلاحیت کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ ​​کے ممکنہ نتائج پر کی گئی سب سے بڑی تحقیق، جس میں 100 سے زائد اعلیٰ حکام اور عسکری شخصیات شامل ہیں، یہ نتیجہ اخذ کیا وہ یہ ہے کہ اس سے جو نتائج پیدا ہوسکتے ہیں وہ ایک سنگین تعطل کی صورت میں سامنے آئیں گے۔
جیسا کہ نظر آتا ہے، امریکہ یا تو فریب کا شکار ہے یا پھر ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کے لیے اپنے موقف پر جھکنے کے لیے تیار ہے، جب کہ منصوبوں کی ناکامی کی صورت میں وہ اسرائیل کی سٹریٹجک شکست کا خطرہ مول لے رہا ہے ۔ ہم ابھی مکمل جنگ کے مرحلے پر نہیں ہیں، لیکن ہم آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اس تک بہت اچھی طرح پہنچ سکتے ہیں۔اس ساری گڑبڑ کی وجہ جو ہم آج دیکھ رہے ہیں،امریکہ کے غزہ کی بربادی سے پہلے کی حقیقت کی طرف واپسی کا وہم ہے جس سے وہ چمٹا ہوا ہے اوراس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جنگ (جس کی طوالت یا اختتام ابھی غیر واضح ہے) کے بعد طاقت کے نئے توازن کے ساتھ اسی طرح کا مشرق وسطی دیکھ سکیں جو کہ پہلے تھا۔
شفقنا اردو
اتوار، 26 اکتوبر 2024
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کےمندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین