شہباز شریف کی ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو میں شرکت

شفقنا اردو: پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سعودی عرب کے دور روزہ دورے پر ریاض پہنچے ہیں جہاں وہ 29 سے 31 اکتوبر کو منعقد ہونے والے آٹھویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو (ایف آئی آئی) میں شرکت کریں گے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اپنے دو روزہ دورے میں سعودی عرب میں وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی اعلی قیادت سے ملاقاتیں بھی ہوں گی۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی وزیراعظم کی سعودی ولی شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
’ملاقاتوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین موجود دوطرفہ تعلقات بالخصوص تجارت، توانائی، معدنیات، زراعت اور دفاع کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال ہو گا۔‘
وزیراعظم آٹھویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو میں شرکت پر آئے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرتجارت جام کمال خان، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ نجکاری عبدالعلیم خان، وزیرِ پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک اور وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منگل (آج) سے فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو (ایف آئی آئی) کے آٹھویں ایڈیشن کا آغاز ہو رہا ہے جس میں دنیا بھر سے عالمی رہنما پائیدار ترقی اور سرمایہ کاری پر بات چیت کریں گے۔
یہ کانفرنس 31 اکتوبر تک جاری رہے گی جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر اعظم شہباز شریف کر رہے ہیں۔
اس سال کا موضوع ’لا محدود آفاق: آئندہ کل کی تعمیر کے لیے آج سرمایہ کاری‘ ہے اور اس میں شریک ممالک اپنی معیشت کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار مستقبل کے لیے مشاورتی عمل کا حصہ بنیں گے۔
توقع ہے کہ کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل کانفرنسز سینٹر میں ہونے والی کانفرنس کے دوران 28 ارب ڈالر کے سمجھوتے طے پائیں گے۔
ایف آئی آئی کے چیف ایگزیکٹیو Richard Attisa نے بلومبرگ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ غالب گمان ہے کانفرنس میں دنیا بھر سے آنے والے ایگزیکٹیو حکام 28 ارب ڈالر سے زائد کے سمجھوتوں کا اعلان کریں گے۔
کانفرنس میں پانچ ہزار مہمان اور 500 مقررین 200 نشستوں میں مختلف موضوعات کو زیر بحث لائیں گے۔
ان موضوعات میں عالمی معیشت میں افریقا کا کردار، قائدانہ عہدوں پر خواتین کے کردار کو مضبوط بنانا، معاشی استحکام، منصفانہ ترقی، ماحولیاتی تبدیلی کا انسداد، مصنوعی ذہانت، صحت اور جیو پولیٹکل معاملات نمایاں ہیں۔
ایف آئی آئی کو ڈیووس ان دی ڈیزرٹ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے اور یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں عالمی رہنما، بڑی کمپنیوں کے سربراہان، کاروباری افراد اور پالیسی ساز صنعتوں، گورننس اور انسانیت کے مستقبل کی تشکیل کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
ریاض میں ہونے والی کانفرنس میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، تعلیم، توانائی، خلا، صحتِ عامہ اور پائیدار ترقی کے حوالے سے دنیا کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے گفتگو و مشاورت ہو گی۔
ایف آئی آئی کانفرنس 2017 میں ایک سالانہ اجتماع کے طور پر شروع ہوئی تھی جو دنیا بھر میں کاروبای رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کو اکٹھا کرتی ہے۔
ایف آئی آئی شریک ممالک کو اقتصادی و معاشی صلاحیت کو ظاہر کرنے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور ایک پائیدار مستقبل کی تشکیل کے لیے بات چیت میں مشغول ہونے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
پائیداری اور سماجی اثرات پر توجہ
ایف آئی آئی پائیدار معاشی اور سماجی ترقی کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتا ہے۔
ادارہ معیشت، ماحولیات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم جیسے سماجی شعبوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
دارہ گرین انرجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے نہ صرف معاشی ترقی کو فروغ دے رہا ہے بلکہ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے بھی مؤثر اقدامات کر رہا ہے۔
تحقیق کے منصوبے
ایف آئی آئی مختلف شعبوں میں تحقیقاتی رپورٹس اور پالیسی تجاویز پیش کرتا ہے تاکہ پائیدار ترقی کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔
اس کے علاوہ انسٹیٹیوٹ نے قابل تجدید توانائی اور صاف پانی کے منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کو فروغ دیا ہے جس کے ذریعے کئی ممالک میں ترقیاتی منصوبے کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
کامیابیاں اور وژن
انسٹیٹیوٹ نے اب تک 50 سے زائد ممالک میں 200 سے زیادہ منصوبوں کو کامیابی سے سپورٹ کیا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ عالمی سرمایہ کاری کے ذریعے ایک ایسا مستقبل تشکیل دیا جائے جہاں انسانی فلاح و بہبود اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم ہو۔
ایف آئی آئی کا مشن ہے کہ معاشی ترقی اور انسانی ترقی ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ ادارہ دنیا کے مختلف ماہرین، سرمایہ کاروں اور رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔
Share This Article

تازه ترین