حضرت آیت اللہ سید علی سیستانی کی عراق میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے خصوصی نمائندے سے ملاقات: ویڈیو

  حضرت آیت اللہ سید علی سیستانی نے آج بروز پیر 4 نومبر کو اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی اور عراق میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن( یو این اے ایم) کے سربراہ ڈاکٹر محمد الحسن سے ملاقات کی۔
شفقنا کے مطابق، حضرت آیت اللہ سیستانی نے لبنان اور غزہ میں ہونے والے سانحات اور ان کا مقابلہ کرنے میں عالمی برادری کی    نااہلی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ملک میں بیرونی مداخلت کے مختلف پہلوؤں کو روکنے کے لیے ایمانداری اور قابلیت کے اصول کو اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے سائنسی اور عملی پروگراموں کی تیاری کی تجویز دی۔ حضرت آیت اللہ سید علی سیستانی نے یہ تمام  تجاوز آج عراق میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ڈاکٹر محمد الحسن اور ان کے ہمراہ موجود وفد سے ملاقات کے دوران پیش کیں۔
اس موقع پر حضرت آیت اللہ سیستانی کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا۔ جس کے  متن میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر محمد الحسن نے مرجع عالی قدر اور شیعہ مذہب کی اعلٰی مذہبی اتھارٹی کو "عراق میں اقوام متحدہ کے وفد کے کاموں اور مستقل میں ان کے کردار کے بارے میں بریفنگ دی۔
اس موقع پر حضرت آیت اللہ سیستانی نے اپنے بیانات میں عراق کو موجودہ وقت میں درپیش بڑے چیلنجوں اور مختلف مسائل کی  کی طرف اشارہ کیا جن سے عراقی عوام دوچار ہیں۔
عزت مآب نے عراق میں اقوام متحدہ کی موجودگی کو سراہا اور تنظیم کے کاموں کی تکمیل میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا: "یہ عراقیوں کے لیے ضروری ہے – خاص طور پر باشعور اشرافیہ کے لیے کہ وہ ان تجربات سے سیکھیں جن سے وہ گزرے ہیں اور ان تجربات کی ناکامیوں پر قابو پانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کارلائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انہیں سنجیدہ اقدامات کے ذریعے اپنے ملک کے لیے ایک بہتر مستقبل حاصل کرنا ہے، ایسا مستقبل جس میں ہر ایک کو سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی حاصل ہو۔
حضرت آیت اللہ سید علی سیستانی نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ  ذمہ داری سنبھالنے میں اہلیت اور ایمانداری کے اصول کی بنیاد پر اس ملک کو کنٹرول کرنے کے لیے سائنسی اور عملی پروگراموں کی تیاری اور اس کے مختلف جہتوں میں غیر ملکی مداخلت کو روکنے، اور قانون کی حکمرانی، ہر سطح پر بدعنوانی کے خلاف جنگ اور ہتھیاروں کو محدود کیے بغیر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عراقیوں کو اس مقصد کے حصول کے لیے بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔”
حضرت آ یت اللہ سیستانی نے خطے کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر لبنان اور غزہ میں جاری المیے پر اپنے گہرے دکھ اور تاسف کا اظہار کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری اور بین الاقوامی  اداروں کی جانب سے اسرائیلی حکومت کی جانب سے وحشیانہ جارحیت کے سانحات کو روکنے یا کم از کم معصوم شہریوں کے تحفظ کے لیے موثر حل تلاش کرنے میں ناکامی پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔

شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
Share This Article

تازه ترین