شفقنا اردو:امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نےکہا کہ امریکا نے بھارت اورپاکستان سے مسلح تصادم بند کرنے کا کہہ دیا ہے، امریکا سمجھتا ہے کہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ افسوس ناک ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ فریقین سے کہتے ہیں کہ مسائل کےحل کے لیے ذمہ دارانہ اقدامات کریں، پاکستان پہلگام واقعے کی تحقیقات چاہتا ہے۔
ٹیمی بروس نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ کی وزیراعظم شہبازشریف اور بھارتی وزیر خارجہ سے بات ہوئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مارکو روبیو نے پاکستان اور بھارت سےکشیدگی کم کرنے پر بات کی ہے، پاکستان اور بھارت میں براہ راست رابطوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فونک گفتگو میں وزیر اعظم شہباز شریف نے خبردار کیا تھا کہ بھارت کے حملوں نے ناصرف پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کیا۔
وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ دوران گفتگو شہباز شریف نے بھارت کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی، جس کے نتیجے میں 31 شہری شہید اور 57 زخمی ہوئے اور انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام بھارت کی بلااشتعال جنگی کارروائیوں سے شدید غصے میں ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔