شفقنا اردو:پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران کے پر امن اور شہری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے جوہری پروگرام کے حق کا حامی ہے۔
تہران میں پیر کو ایرانی صدر ڈاکٹر مسعودپزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میری ایرانی صدر سے بڑی سیر حاصل اور فائدہ مند ملاقات ہوئی جس میں باہمی مفادات اور تعاون کا احاطہ کیا گیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس پر اتفاق ہوا کہ دونوں برادر ہمسایہ ممالک تجارت، معیشت، سرمایہ کاری اور زندگی کے ہر شعبے میں تعاون کو بڑھائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’پاکستان اور ایران کے گہرے ثقافتی، اور تاریخی روابطہ ہیں اور اب ہم نے ان روابط کو مختلف شعبہ دونوں ممالک کے مفاد میں مختلف ہائے زندگی تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے چند ہفتے قبل مجھے فون کیا اور خطے کی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار اور پاکستان کے عوام کے لیے اپنے برادرانہ جذبات کا اظہار کیا، اور خواہش ظاہر کی کہ یہ بحران سنگین ہونے سے پہلے ختم ہونا چاہیے۔‘
اس مشترکہ پریس کانفرنس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف تہران میں سعد آباد محل پہنچے، جہاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ان کا استقبال کیا، دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے جبکہ وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کا اہم پڑوسی اور برادر ملک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اور پاکستان خطے، بین الاقوامی اور اسلامی دنیا کے معاملات پر مشترکہ موقف کے حامی ہیں۔‘
’میں نے اپنے بھائی اور ان کے وفد کے ساتھ ملاقات میں ہم نے سیاست”، معیشت، ثقافت اور بین الاقوامی تعاون سمیت کئی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے بارے میں گفتگو کی۔ اس موقع پہلے دستخط شدہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر عمل درآمد پر بھی اتفاق کیا گیا۔‘
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی جمہوریہ پاکستان ی سرحدوں کو کسی بھی قسم کے عدم تحفظ، مجرمان اور دہشت گر گروہوں کی موجودگی اور کارروائیوں سے پاک ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں ہمیں سرحدی علاقوں میں تعاون کو بڑھانا چاہیے تاکہ جو مشکلات کھڑی کر رہے ہیں ان کے خلاف لڑا جا سکے۔‘