شفقنا اردو:نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک صدر رجب طیب اردوغان نے ہفتے کو استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے 51 ویں اجلاس میں ہونے والی ایک ملاقات میں اسرائیلی حملوں کی مسلسل مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اسی طرح کشیدہ صورت حال کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
فریقین نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روکنے اور غزہ کے محصور لوگوں کو انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کے لیے کوششوں کو تیز کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکی کے باہمی دیرینہ تعلقات کو مزید گہرا اور متنوع بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم نے صدر رجب طیب اردوغان کو وزیر اعظم شہباز شریف کا پرتپاک تہنیتی پیغام پہنچایا اور ازور دیا کہ پاکستان ترکی کے ساتھ پائیدار دوطرفہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔
اسحاق ڈار نے صدر اردگان کو اسلامی تعاون یوتھ فورم کی جانب سے ان کی قیادت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ OIC CFM اجلاس کے کامیاب انعقاد پر بھی مبارکباد دی، ان کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی تھے۔