شفقنا اردو: ایران کی پارلیمنٹ نے جوہری تنصیبات کی سلامتی کی ضمانت ملنے تک اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منظوری دے دی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نور نیوز نے بتایا ہے کہ بل پر عمل درآمد کے لیے اب اسے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری درکار ہوگی۔
اس اقدام کا پس منظر ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فضائی جنگ ہے، جس کے دوران اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا چاہتا ہے۔
پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران اپنے سویلین نیوکلیئر پروگرام میں تیزی لائے گا۔
تہران نے ایک بار پھر جوہری ہتھیاروں کے حصول کی خواہش کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں ماہ آئی اے ای اے کی ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے سے متعلق قرارداد نے اسرائیل کو حملوں کا جواز فراہم کیا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ آئی اے ای اے نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرنے کی زحمت بھی نہیں کی اور اپنی بین الاقوامی ساکھ کو فروخت پر لگا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک کہ جوہری تنصیبات کی سلامتی یقینی نہ بنا دی جائے ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم اقوام متحدہ کے نگران ادارے کے ساتھ اپنا تعاون معطل کر دے گی اور ملک کے پرامن نیوکلیئر پروگرام کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے گا۔
قبل ازیں ہفتے کے آغاز میں پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے بل کے عمومی خدوخال کی منظوری دی تھی، کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا تھا کہ یہ بل آئی اے ای اے کے نگرانی کی کیمروں کی تنصیب، معائنوں اور رپورٹوں کی فراہمی جیسے اقدامات کو معطل کرے گا۔
اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں اور امریکی بمباری کے بعد ایران میں حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں کیے گئے وعدوں کو محدود کرے۔
قطری اخبار العربی الجدید کو منگل کے روز دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’میرے خیال میں ہمارے جوہری پروگرام اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام سے متعلق مؤقف میں تبدیلی آئے گی، لیکن یہ کہنا ممکن نہیں کہ وہ تبدیلی کس سمت میں ہوگی‘۔