شفقنا اردو: لبیک یا حسین، لبیک یا حسین، لبیک یا حسین ، یہ وہ الفاظ ہیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اہل بیت علیہ السلام سے محبت کرنے والوں کی زبان پر مسلسل رواں ہوتے ہیں۔ ان الفاظ کا کیا مطلب ہے ؟ اہل بیت اطہار علیہ السلام سے محبت کرنے والے ان الفاظ کو واشگاف انداز میں کیوں ادا کرتے ہیں، وہ کیوں گریہ و زاری کرتے ہیں اور خلوص سے باآواز بلند نعرے بلند کرتے ہیں؟ لبیک یا حسین، ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یا ابا الحسین علیہ السلام ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ ہم حاضر ہیں ، ہم جنگ میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ اے حسین ! ہم اپنی مال و دولت، خاندان، شہرت اپنی جانب سب آپ کر قربان کرتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ ہم اس جنگ میں آپ کے شانہ بشانہ لڑیں گے، اے حسین! ہم کس جنگ میں آپ کے ساتھ لڑیں گے؟ ہم نیکی اور بدی، اچھائی اور برائی، غلامی سے آزادی، ناانصافی اور ظلم کے خلاف، عدم مساوات کے خلاف جنگ میں آپ کے شانہ بشانہ لڑتے رہیں گے اور یہ وہی جنگ ہے جو امام عالی مقام علیہ السلام نے عاشورہ کے موقع پر کربلا کے میدان میں لڑی۔جب نواسہ رسول امام عالی مقام اپنے اہل بیت علیہ السلام اور اپنے جانثار ساتھیوں کے ہمراہ کوفہ عراق کی جانب روانہ ہوئے تو ان کا مقصد شر کے خلاف جدوجہد کرنا اور حق کا بول بالا فرمانا تھا۔ عرفہ کے میدان میں امام عالی مقام علیہ السلام نے جو دعا فرمائی وہ ان کی قربانی اور فہم و فراست کا منہ بولتا ثبوت ہے ” ۔ اس دعا کا ایک حصہ ذیل میں ہے۔
اے سب سے بہتر سننے والے اور سب سے زیادہ نگاہ رکھنے والے, سب سے تیز تر حساب کرنے والے، اور سب زیادہ رحم کرنے والے ،محمد و آل محمد پر درود بھیج ،جو بابرکت سرور و سردار ہیں ۔خدایا ! میں تجھ سے ایسی حاجتیں طلب کر رہا ہوں ، کہ اگر تو انہیں پوراکردے گا ,تو باقی سب کا ردکردینا بھی مضر نہ ہوگا ، اور انہیں ردکردے گا,تو باقی سب کا عطا کردینا، بھی مفید نہ ہوگا ، اور وہ یہ ہے کہ میری گردن کو آتش جہنم سے آزاد کردے ,کہ یہ تیرے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے، اور تو وحدہ لاشریک ہے ، تیرے ہی لیے حمد ہے اور تیرے ہی لئے ملک اور تو ہی ہرشیء پر قادر ہے، اے میرے پروردگار ، اے میرے پروردگار ۔
امام عالی مقام کی جدوجہد کا ایک مقصد ظلم اور جبر کے خلاف جنگ اور نانا کے دین کو اسلام کے دشمنوں کے ہاتھوں میں جانے سےبچانا تھا۔ درحقیقت کربلا کی کہانی امام عالی مقام علیہ السلام کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوگئی تھی ۔ بچپن میں ایک مرتبہ جب سید الشہداء مسجد میں داخل ہوئے تو ان کے نانا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں اٹھا لیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا اس کو غور سے دیکھو اور یاد رکھو۔ شاید نبی مہربان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا زور امام عالی مقام کو یاد رکھنے پر تھا کہ وہ جو امام حسین علیہ السلام اور اطہار اہل بیت علیہ السلام سے جنگ کریں گے وہ ان سے ویسی محبت نہیں کریں گے جیسی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کی۔
امام عالی مقام نے مدینہ میں پرورش پائی ، اور مدینہ میں آپ کے ذمے نئے مسلمان ہونے والے افراد کو اسلام کے بنیادی عقائد اور اسلام کی درست تعلیمات سے متعلق آگاہی تھی ۔ انہوں نے اپنے والد علی شیر خدا علیہ السلام کے اعتماد کو بھی برقرار رکھا اور مفلوک الحال اور ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری رکھا۔ 60 ہجری میں جب یزید تخت نشین ہوا تو اس نے آپ کو بیعت کا پیغام بھیجا۔ جس کے جواب میں نواسہ رسول سید الشہداء علیہ السلام نے جواب دیا کہ امیرا جیسا شخص کبھی بھی یزید کے ہاتھ بیعت نہیں کر سکتا کیونکہ یزید اسلامی شعائر کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے ۔ امام عالی مقام علیہ السلام کو اس بات کا یقین تھا کہ انہیں اسلام کو بچانے کے لیے یزید کی مخالف مول لینا پڑے گی۔
اسی اثنا میں انہیں کوفہ کے لوگوں کے جانب سے 12000 کے قریب خطوط موصول ہوئے جن میں ان سےد رخواست کی گئی تھی کہ وہ کوفہ چلے آئیں اور ان کی قیادت کریں۔ آپ نے حج کے ارادے کو ترک کر کے عمرہ ادا کیا اور کوفہ عراق کی طرف عازم سفر ہوئے۔ کوفیوں کو لکھے گئے خط میں امام عالی مقام نے لکھا کہ ” میں جذبات سے کھیلنے نہیں آرہا اور نہ ہی جبر پھیلانے کے ارادے سے آرہا ہوں ۔ میرا واحد مقصد لوگوں کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی طرف لوگوں کو بلانا ہے ۔ میری خواہش ہے کہ میں انہیں اپنے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور اپنے والد علی ابن طالب علیہ السلام کے راستے پر انہیں واپس بلا سکوں ۔
نواسہ رسول ذوالحجہ کو روانہ ہوئے اور 10 محرم الحرام کو کربلا پہنچے۔ جہاں یزید کی بیعت سے مسلسل انکار پر ان کے اہل خانہ، معصوم بچوں اور ان کے ساتھیوں کو یزید کی فوج نے بربریت سے شہید کر دیا۔ اگر امام حسین علیہ السلام کے درس کو مساوات اور جبر کے خلاف کلمہ حق کے طور پر دیکھا جائے تو آج دنیا میں وہ تمام افراد جو رنگ، نسل، زبان، مذہب یا معاشی وسماجی طور پر ظلم کا شکار ہیں وہ اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ ہس امام عالی مقام کی طرح ہم ہر طرح کے جبر و استبداد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوکر یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم امام کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور ان کے درس کی تکمیل کر رہے ہیں۔ دنیا میں تمام پسے ہوائے افراد کے لیے کربلا ایک درسگاہ اور شہادت عالی مقام اور اہل بیت علیہ السلام وہ سبق ہے جس پی پیروی کر کے وہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوسکتے ہین۔