شفقنا اردو:
تبتی بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لاما نے اعلان کیا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد نئے جنم میں ان کا جانشین ضرور آئے گا اور صرف دلائی لاما کا دفتر ہی ان کے اگلے جنم کی شناخت کا مجاز ہوگا۔
دلائی لاما کا یہ اعلان ان کے 90ویں یومِ پیدائش سے قبل سامنے آیا ہے جسے وہ اس اتوار منائیں گے۔
دلائی لاما نے بدھ کے روز جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’میں دلائی لاما کے ادارے کے تسلسل کی تصدیق کر رہا ہوں‘۔
دلائی لاما نے یہ پیغام بھارتی شہر دھرم شالہ میں ایک مذہبی اجتماع میں شریک مذہبی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے دیا۔
دلائی لاما کا یہ اعلان دراصل چین سے ایک فیصلہ کن مقابلے کی نوید ہے، یہ مقابلہ اس بات پر ہے کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے دوبارہ جنم کا تعین چین کرے گا یا پھر دلائی لاما کا دفتر۔
تبتی بدھ مت کے عقائد کے مطابق عام انسانوں کے برعکس دلائی لاما اس بات پر قادر ہوتا ہے کہ لوگوں کے مفاد کے لیے اپنے نئے جنم کی جگہ اور وقت کا تعین کرسکتا ہے۔
دلائی لاما نے اپنی سوانح میں واضح کیا ہے کہ ان کا اگلا جنم چین کے بجائے ’آزاد دنیا‘ میں ہوگا اور دنیا بھر کے تبتی بدھ مت کے پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ چین کی طرف سے نامزد کسی بھی امیدوار کو تسلیم نہ کریں۔
تاہم چینی کمیونسٹ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اسے دلائی لاما کے نئے جنم کا تعین کرنے کا حق حاصل ہے۔
دلائی لاما کا سلسلہ صدیوں پر محیط ہے اور موجودہ دلائی لاما تینزن گیاتسو 14ویں دلائی لاما ہیں، 1950 میں جب چینی افواج تبت میں داخل ہوئیں تو وہ صرف 15 سال کے تھے۔ تبت میں کشیدگی بڑھنے کےساتھ ہی وہ تبت میں دلائی لاما کا محل چھوڑ کر بھارت آگئے اور جلاوطنی میں اپنی حکومت قائم کی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران چین میں بھی کئی ایسی لاما سامنے آئے ہیں جو چینی حکومت کی حمایت کرتے ہیں، ان لاما میں پنچن لاما بھی شامل ہیں جو تبتی بدھ مت میں دلائی لاما کے بعد سینیئر ترین لاما ہوتا ہے۔
تاریخی طور پر دلائی لاما اور پنچن لاما ایک دوسرے کے نئے جنم کا تعین کرنے اور اس کی توثیق میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم 10ویں پنچن لاما کی وفات کے بعد 1995 میں چینی حکومت نے خود ایک پنچن لاما کا تقرر کردیا جس کے بعد دلائی لاما کا متعین کردہ پنچن لاما منظر عام سے غائب ہوگیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق موجودہ دلائی لاما کی وفات کے بعد بھی چینی حکومت اپنے طور پر دلائی لاما کا تقرر کرسکتی ہے۔
دلائی لاما کے دوسرے جنم کی شناخت کیسے ہوتی ہے؟
تبتی بدھ مت کے عقیدے میں روحانی پیشوا کو ایک ایسی ہستی سمجھا جاتاہے جو انسانیت کی مدد کے لیے دوبارہ جنم لینے کا انتخاب کرتی ہے۔
دلائی لاما کے نئے جنم کی تلاش ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے۔ اس میں اہم سراغ دراصل وہ ہدایات یا اشارے ہوتے ہیں جو پچھلے دلائی لاما اپنی وفات سے پہلے چھوڑ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ روحانی پیشواؤں سے رہنمائی لینا، نجومیوں سے مشورہ کرنا اور سینیئر لاماؤں کو مراقبے کے دوران آنے والے خواب کی تعبیر سے بھی مدد لی جاتی ہے۔
ان اشارات کی بنیاد پر تلاش ٹیمیں ان بچوں کو تلاش کرتی ہیں جو دلائی لاما کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ہوں اور جن کے بارےمیں دلائی لاما کا نیا جنم ہونے کا امکان ہو۔ ان بچوں کو متعدد آزمائشوں سے گزارا جاتا ہے جن میں وہ چیزیں پہچاننا بھی شامل ہے جو پچھلے دلائی لاما کی ملکیت تھیں۔
تاہم دلائی لاما کا جنم ہمیشہ تبت میں نہیں ہوا، 16ویں صدی میں چوتھے دلائی لاما کو منگولیا میں تلاش کیا گیا جبکہ چھٹے دلائی لاما کا جنم تقریباً ایک صدی بعد موجودہ اروناچل پردیش میں ہوا۔
موجودہ دلائی لاما کی سوانح عمری کے مطابق وہ تبت کے شمال مشرقی علاقے میں ایک کسان خاندان میں پیدا ہوئے اور محض دو سال کی عمر میں بطور دلائی لاما شناخت کیے گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اگر روایت کے مطابق اگلے دلائی لاما کو بھی اس کے بچپن میں شناخت کیا گیا تو قیادت سنبھالنے سے پہلے اُس کی تربیت میں ایک سے 2 دہائیاں لگ سکتی ہیں اور یہ وہ وقت ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین اپنے نامزد کردہ دلائی لاما کو تیار کرسکتا ہے۔