کیا افریقہ ٹرمپ سے نالاں ہے؟ جمیل اختر

نوٹ:(طافی مہاکہ خلیجی نیوز چینل الجزیرہ کے کالم نگار ہیں اور جنوبی افریقہ کی کیپ ٹاؤن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کا یہ کالم اردو قارئین کے لیے پیش کیا جاتاہے)
16 جون کو نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا کہ ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سفری پابندیوں کی فہرست کو وسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ 36 اضافی ممالک کو شامل کیا جا سکے، جن میں سے زیادہ تر افریقی ہیں – بشمول میرا ملک، زمبابوے۔
بارہ دن پہلے، ٹرمپ نے ایک اعلان نافذ کیا تھا جس میں 12 ممالک کے شہریوں کو امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔ ان میں سے سات – چاڈ، کانگو ریپبلک، استوائی گنی، اریٹیریا، لیبیا، صومالیہ اور سوڈان – افریقی ممالک  ہیں۔
اس نے برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا کے افراد پر مکمل پابندی کے بجائے جزوی سفری پابندیاں بھی لگائیں۔ ان ممالک کے شہریوں کو مستقل طور پر امریکہ منتقل ہونے یا سیاحتی یا طالب علم کے ویزے حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران وعدے کے مطابق، ٹرمپ امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔
میری زندگی میں پہلی بار، اب مجھے امریکہ کے سفر سے روکے جانے کے غیر معمولی امکان کا سامنا ہے – ایک ایسی قوم جسے میرے خاندان کے کئی افراد اور دوست اپنے گھر کہتے ہیں۔
مثال کے طور پر میری کزن، ڈاکٹر انا مہاکا، نے اپنی طبی تعلیم مکمل کی اور خصوصی طور پر امریکہ میں پریکٹس کی۔
اسپینسر ماترے، ایک سابق ہم جماعت، دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے انڈیانا پولس میں مقیم ہیں اور وہ امریکی شہری
ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی پھرتیوں  اور تارکین وطن کی توہین کے باوجود – قانونی اور غیر دستاویزی دونوں – اینا اور اسپینسر، لاکھوں دیگر افراد کی طرح، امریکی معاشرے کے محنتی اور، قانون کی پاسداری کرنے والے ارکان ہیں۔
میں جانتا ہوں کہ افریقہ میں بہت سے لوگ ان کے نقش قدم پر چلنے کی امید رکھتے ہیں، اور ہجرت کی راہ میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں سے بہت پریشان ہیں جو ٹرمپ نے کھڑی کی ہیں۔
پھر بھی، میں ان میں سے نہیں ہوں۔
1997 میں یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد سے، میں نے کبھی بھی امریکہ کا سفر کرنے کی طرف اپنے آپ کو  مائل محسوس نہیں کیا ، وہاں رہنا تو دور کی بات ہے ۔
مجھے علم ہے کہ میری یہ سوچ الجھن پیدا کردینے والی ہے۔
میں ایک ایسے وقت اور جگہ سے آیا ہوں جہاں مغرب کو مثالی بنایا گیا تھا – ایک انگلستانی طرز پرورش  کی مثالی عینگ کے زریعے  رومانٹک بنایا گیا تھا۔ یہ آرزو میرے ارد گرد ہر طرف تھی، نہ صرف میری برادری میں بلکہ پورے افریقی براعظم میں، جس کی تشکیل فرانسیسی، پرتگالی، ہسپانوی اور برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کی پائیدار میراثوں سے ہوئی تھی۔ پھر بھی میں نے اسے کبھی نہیں اپنایا۔
تارکین وطن کے عالمی دن پر – 18 دسمبر 2024 – افروبارومیٹر (۔افریقی براعظم کی غیر منفعتی تنظیم جو افریقی لوگوں کے جمہوریت کے بارے رجحانات کا سروے کرتی ہے۔ Afrobarometer)نے 24 افریقی ممالک کے ڈیٹا پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی۔ اس نے پایا کہ 49 فیصد افریقیوں نے ہجرت کرنے پر غور کیا، جس میں شمالی امریکہ اور یورپ سرفہرست مقامات ہیں – حالانکہ ایک قابل ذکر تعداد نے افریقہ کے اندر نقل مکانی کو ترجیح دی۔
تقریباً 49 فیصد نے ہجرت کرنے کی خواہش کی وجہ کے طور پر کام کے بہتر مواقع کی تلاش کا حوالہ دیا۔ 29 فیصد نے غربت اور معاشی مشکلات کی طرف اشارہ کیا۔
بہت سے افریقی اب بھی "امریکی خواب” – یا اس کے یورپی مساوی – پر یقین رکھتے ہیں اور میں ان سے ناراض نہیں ہوں۔ امریکہ بھر میں، افریقیوں نے کاروبار، تعلیمی، اور کھیل میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (DRC) سے تعلق رکھنے والے مرحوم NBA سٹار Dikembe Mutombo، اس کی مثال ہے۔
اپنی زندگی کے دوران، موٹومبو نے کنشاسا میں بیامبا میری موٹومبو ہسپتال کے قیام کے لیے اپنی دولت میں سے $15 ملین ڈالر  کا عطیہ دیا – ایک 29 ملین ڈالر کا  طبی اور تحقیقی مرکز جو اس کی والدہ کی یاد میں بنایا گیا تھا، جو 1997 میں بروقت دیکھ بھال نہ ملنے کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔
اس کی المناک، اگرچہ عام، کہانی پورے افریقہ میں گہری جڑیں رکھنے والے  سماجی اقتصادی چیلنجوں کی عکاسی کرتی ہے – وہی حالات جو ہجرت کو آگے بڑھاتے ہیں: صحت کی دیکھ بھال کے ٹوٹے ہوئے نظام، اس سے وابستہ  بدعنوانی، بے روزگاری، غربت۔ اس کے برعکس، امریکہ اکثر پناہ گاہ کے طور پر سامنے آتا ہے۔
امریکہ میں سیاہ فام تارکین وطن پر پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research Center on Black immigrants)کی جنوری 2022 کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ افریقی نژاد سیاہ فام تارکین وطن سب سے حالیہ آمد میں شامل ہیں: تین چوتھائی 2000 یا اس کے بعد میں آئے، 43 فیصد 2010 اور 2019 کے درمیان آئے۔
جب میں نے پہلی بار ٹرمپ کی مجوزہ ویزا پابندی کے بارے میں سنا تو مجھے شدید نفرت محسوس ہوئی۔ 11 جنوری 2018 سے اس کے بدنام زمانہ "غلیظ ممالک” کے تبصرے کو بھول جانا ناممکن ہے – نسلی پروفائلنگ کا ایک اور عمل جس کا مقصد افریقی ممالک کو نشانے پر رکھنا ہے۔
لیکن، گہرائی سے دیکھنے پر اس کی پالیسیوں کو ایک مختلف نقطہ نظر سے دیکھا جاسکتاہے۔
20 جنوری کو، اس نے افریقہ کے لیے امریکی امداد کو منجمد کر دیا۔
اب، وہ برکینا فاسو سے لے کر کیمرون اور آئیوری کوسٹ تک ہم میں سے بہت سے لوگوں کے ویزوں سے انکار کرنے کے قریب ہے۔
نادانستہ طور پر، ٹرمپ افریقی قوموں کو زیادہ خود انحصاری کی طرف دھکیل رہا ہے – ہمیں مجبور کر رہا ہے کہ ہم اپنی بے چین آبادی کی پوری نہ کی گئی  ضروریات کا مقابلہ کریں۔
لیکن وہ "افریقی مخالف” سیاست میں اکیلا نہیں ہے۔
امیگریشن مخالف بیان بازی پورے امریکی سیاسی میدان میں سخت ہو گئی ہے۔ افریقیوں کے لیے، یہاں تک کہ سٹوڈنٹ ویزا حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ 2023 میں، سب صحارا افریقی ممالک میں امریکی ویزا سے انکار کی شرح سب سے زیادہ تھی – اوسطاً 57 فیصد۔ جنوبی افریقہ کو چھوڑ کر، جہاں مسترد ہونے کی شرح تقریباً 19 فیصد ہے، دوسرے خطوں میں یہ شرح 61 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔
نام نہاد "آزادلوگوں کی سرزمین” میں قدم رکھنے میں میری ہچکچاہٹ ایک گہرے خوف سے پیدا ہوتی ہے: امریکی پولیس کی بربریت کا ایک اور شکار بننے کا خوف – جیسا کہ دنیا نے 25 مئی 2020 کو منیاپولس میں جارج فلائیڈ کے قتل کو دیکھا۔ میں جانتا ہوں کہ سیاہ فام لوگ – افریقی یا دوسری صورت میں – اکثر امریکی تشدد کے حوالے سے بہت زیادہ امتیازی سلوک اور تعصب  کا شکار ہیں۔
لیکن نسلی طور پر پولیس کی بربریت ہی واحد وجہ نہیں ہے جس سے میں دور رہنے کا انتخاب کرتا ہوں۔ افریقیوں  کے لیے اور بھی بہت سی وجوہات ہیں کہ وہ کبھی بھی وہاں آباد ہونے پر غور نہ کرے۔
بہت سے امریکی اسی، گہری جڑوں والے مسائل کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں جو پورے براعظم میں افریقیوں کو درپیش ہیں۔ ویسٹ ہیلتھ-گیلپ ہیلتھ کیئر انڈیکس کے مطابق، امریکہ میں تقریباً 29 ملین بالغ افراد سستی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں – یہ ایک چیلنج کنشاسا میں اتنا ہی جانا پہچانا ہے  جیسا کہ یہ امریکہ کے بہت سے حصوں میں ہے۔ 2023 میں، امریکی مردم شماری بیورو نے رپورٹ کیا کہ 36.8 ملین امریکی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ہالی ووڈ کی طرف سے پیش کیے گئے چمکدار وہم کے باوجود، امریکہ کوئی یوٹوپیا نہیں ہے۔
جب کہ انا اور اسپینسر جیسے لوگ وہاں کامیاب ہوئے ہیں، زیادہ تر افریقیوں کے لیے "امریکی خواب” کو حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ انہیں اپنا مستقبل اپنے ممالک میں یا افریقہ کے دوسرے حصوں میں تلاش کرنا چاہیے۔
ایک بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
آخر کار، چین نے صرف 40 سالوں میں وسیع پیمانے پر اقتصادی اصلاحات حاصل کیں۔
افریقہ کی وسیع معدنی دولت اور اس کی نوجوان، تعلیم یافتہ آبادی کے ساتھ، ایسی ہی تبدیلی ممکن ہے۔ خام مال کی گھریلو پروسیسنگ پر توجہ صنعتی ترقی، روزگار کی تخلیق، اور اعلی مجموعی گھریلو پیداوار کو آگے بڑھا سکتی ہے۔
لیکن امن اور گڈ گورننس کو پہلے آنا چاہیے۔ اور ہماری سرمایہ کاری کی ترجیحات کو بدلنا چاہیے۔ افریقی حکومتوں کو دفاع اور سلامتی پر پیسہ لگانے کے بجائے مصنوعی ذہانت، صحت کی دیکھ بھال اور سائنسی تحقیق پر توجہ دینی چاہیے۔
افریقی ہونے کے ناطے، ہمیں مغربی امداد، توثیق، یا ہدایات کے ذریعے اپنے آپ کو دیکھنا  چھوڑ دینا چاہیے۔
جو بھی مشکلات آئی گی، مادر وطن میں تیرے ساتھ رہوں گا۔
اپنا امریکہ رکھو مسٹر ٹرمپ – اور ہم اپنا افریقہ رکھیں گے۔
شفقنا اردو
اتوار، 6 جولائی 2025
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین