ایئر انڈیا کی فلائٹ 171 کیسے کریش ہوئی: اس کے آخری مہلک لمحات/جمیل اختر

تباہی کی ابتدائی تحقیقات سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ 12 جون کو ایک مہلک ایئر انڈیا کے حادثے سے چند لمحے قبل، کاک پٹ میں بوئنگ 787 ڈریم لائنر کا ایندھن کنٹرول سوئچ پراسرار طور پر "رن” سے "کٹ آف” پوزیشن پر چلا گیا۔
کٹ آف پر پلٹنے سے انجن تقریباً فوراً کٹ جاتے ہیں۔ ہفتہ کو علی الصبح انڈیا کے ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی طرف سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں پتا چلا کہ دونوں انجن ایک سیکنڈ کے اندر بند ہو گئے، جس کی وجہ سے جہاز اپنی بلندی فورا” کھو بیٹھا۔
یہ رپورٹ ائیر انڈیا کی فلائٹ 171، جو لندن کے گیٹ وِک ہوائی اڈے کے لیے جا رہی تھی، کے حادثے کا باعث  بننے والے  سوئچز کی منتقلی کی کوئی وجہ نہیں بتاتی ہے۔
بلکہ، رپورٹ سے سامنے آنے والی نئی تفصیلات، بشمول کاک پٹ سے آواز کی ریکارڈنگ، نے اس راز کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے کہ حادثے کی وجہ کیا ہے۔
ہم زیل میں اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ رپورٹ میں سامنے آنے والی تفصیلات کی روشنی میں  ہم طیارے کے گرنے سے پہلے کے آخری لمحات کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔
12 جون کو کیا ہوا؟
12 جون کی سہ پہر 13:38( 08:08 GMT )پر، ڈریم لائنر احمد آباد سے لندن گیٹ وِک کے لیے 230 مسافروں، 10 کیبن کریو اور 2 پائلٹوں کے ساتھ روانہ ہوا۔
40 سیکنڈ سے بھی کم وقت کے بعد، ہوائی جہاز اپنی ابتدائی بلندی حاصل کرنے کے  دوران دونوں انجنوں کا کی حرکت گنوا بیٹھا۔
787 ڈریم لائنر کے لیے اس طرح کے پہلے واقعے میں، طیارہ رن وے سے صرف ایک سمندری میل (تقریباً 1.85 کلومیٹر کے برابر) کے نیچے، شہر کے ایک گنجان آباد مضافاتی علاقے میں بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل اور ملحقہ ڈھانچے سے ٹکرا گیا۔
آگ لگنے سے طیارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا جس سے پانچ عمارتوں کے حصے تباہ ہو گئے۔ طیارے میں سوار ایک کے علاوہ تمام افراد ہلاک ہو گئے۔ زندہ بچ جانے والا واحد شخص وشواس کمار رمیش تھا، جو ہندوستانی نژاد 40 سالہ برطانوی شہری تھا۔
زمین پر موجود 19 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے۔
تحقیقات میں کیا انکشاف ہوا؟
AAIB، ہندوستان کی شہری ہوابازی کی وزارت کے تحت ایک دفترکاعملہ، ایک دہائی کے عرصے کے دوران  میں دنیا کے سب سے مہلک ہوا بازی کے حادثے کی تحقیقات کی قیادت کر رہا ہے۔ تحقیقات میں بوئنگ کے ماہرین اور ریاستہائے متحدہ اور برطانیہ کے شرکاء بھی شامل ہیں۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ہوائی جہاز کا "اڑان بھرنے کے لائق  سرٹیفکیٹ (Airworthiness Review Certificate )مئی 2026 تک کارآمد تھا اور اس کو  ہوا میں اڑان بھرنے کے لیے فٹ قرار دیا گیاا ور  اس کی معمول کے مطابق  دیکھ بھال کی گئی تھی، اور کوئی خطرناک سامان جہاز میں نہیں تھا۔
تاہم، تفتیش کاروں نے دسمبر 2018 سے امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی ایک سابقہ ایڈوائزری کو نوٹ کیا جس میں ہوائی جہاز کے فیول-کنٹرول سوئچ سسٹم میں ممکنہ خامی کا بتایا گیا تھا – جس میں اس سوئچ کے لاکنگ پوزیشن  کی ممکنہ خرابی  کو اجاگر کیا گیا تھا۔
ایئر انڈیا کے حادثے کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ایڈوائزری بوئنگ 737 طیاروں کے آپریٹرز کی رپورٹس کے ذریعے دی گئی تھی، جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی تھی کہ ایندھن کو کنٹرول کرنے والے سوئچز ان کے لاکنگ میکانزم کو منقطع کرنے کے ساتھ نصب کیے گئے تھے۔
ایئر انڈیا نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس ایڈوائزری کے جواب میں کوئی معائنہ نہیں کیا گیا، کیونکہ تعمیل لازمی نہیں تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہوائی جہاز پر تھروٹل کنٹرول ماڈیول کو 2019 میں اور پھر 2023 میں تبدیل کیا گیا تھا۔ تاہم، یہ تبدیلیاں فیول کنٹرول سوئچ سے متعلق نہیں تھیں، اور 2023 کے بعد سے سوئچ سے متعلق کوئی خرابی رپورٹ نہیں ہوئی، رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی۔
کلیدی نظام جیسے کہ ریم ایئر ٹربائن (Ram Air Turbine) اور معاون پاور یونٹ (اے پی یو) عمل میں تھے اورانہوں نے  خود کار طریقے سے بحالی کی کوشش کی تھی، لیکن طیارے کے گرنے سے پہلے انجن صرف جزوی ری۔سٹارٹ  ہی حاصل کرپایاتھا۔
کاک پٹ سے آڈیو ریکارڈنگ سے کیا پتہ چلتا ہے؟
ٹیک آف کے تھوڑی دیر بعد، دونوں انجن تقریباً ایک ساتھ بند ہو گئے، کیونکہ فیول کنٹرول سوئچ ناقابل فہم طور پر "رن” سے "کٹ آف” میں منتقل ہو گیا۔
کاک پٹ کی آواز کی ریکارڈنگ میں ایک پائلٹ دوسرے سے پوچھ رہا تھا، "تم نے کیوں کاٹ دیا؟”
دوسرے پائلٹ نے جواب دیا کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔
پائلٹوں نے تیزی سے کنٹرول بحال کرنے کی کوشش کی: ایندھن کے سوئچز کو "رن” پر واپس کر دیا گیا۔ رام ایئر ٹربائن (RAT) کو عمل میں لایا گیا  تھا۔ اور معاون پاور یونٹ (APU) خود بخود کام کرنا شروع ہوگیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، انجن 1 نے ری لائٹ ہونا شروع کیا، لیکن انجن 2 دوبارہ آگے بڑھنے کی طاقت(thrust) حاصل کرنے میں ناکام رہا۔  ان خرابیوں کے اثر سے کچھ سیکنڈ پہلے، ایک گھبراہٹ میں "مے ڈے مے مے ڈے” کال ٹرانسمٹ کی گئی۔
ایئر ٹریفک کنٹرول نے کیا مشاہدہ کیا؟
احمد آباد میں ایئر ٹریفک کنٹرول آفیسر کو مے۔ ڈے کال سائن کے بعد کوئی جواب نہیں ملا لیکن ہوائی اڈے کی حدود سے باہر ہوائی جہاز کے گرنے کا مشاہدہ کیا گیا۔
ہوائی اڈے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ طیارے کی ریم ایئر ٹربائن ( (جہازوں پر نصب ایک چھوٹی سی ہوائی ٹربائن جو مین سسٹم کے فیل ہونے پر متبادل کے طور پر جہاز کی آگے کی جانب حرکت سے حاصل ہونے والے ہوا کے بہاؤ کو استعمال کرتے ہوئے جہاز کو بلندرکھتی ہے )کو لفٹ آف کے فوراً بعد ابتدائی چڑھائی کے دوران عمل میں لایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ہوائی اڈے کی دیوار کو عبور کرنے سے پہلے طیارے نے اونچائی کھونا شروع کر دی۔
رپورٹ میں اس بات کا تعین نہیں کیا گیا ہے کہ آیا فیول سوئچ بند ہونا مکینیکل تھا یا حادثاتی۔ تفتیش کاروں نے ابھی تک کاک پٹ سے آواز کی ریکارڈنگ پر "اسپیکر کی مہر” نہیں لگائی ہےیعنی کہ اسکی  – شناخت کیا ہے اور کون بول رہا ہے۔
پائلٹ کون تھے؟
کیپٹن سومیت سبھروال، 56 سالہ پائلٹ ان کمانڈ (PIC) کے پاس 15,638 کل پرواز کے اوقات کا وسیع تجربہ تھا، جس میں بوئنگ 787 پر 8,596 گھنٹے شامل تھے، جن میں سے 8,260 گھنٹے PIC کے تھے۔
شریک پائلٹ، یا فرسٹ افسر، کلائیو کنڈر تھا۔ 32 سالہ نوجوان  جس نے 3,403 پرواز کے گھنٹے جمع کیے تھے، بشمول B787 پر 1,128 گھنٹے، سبھی شریک پائلٹ کے طور پر۔ ان کی توثیق میں C172 اور PA-34 بطور PIC اور A320 اور B787 بطور شریک پائلٹ شامل تھے۔
حادثے کے دن، کندر ڈریم لائنر کو اڑانے والا پائلٹ تھا جبکہ سبھروال نے پائلٹ مانیٹرنگ کے طور پر کام کیا، جو ایئر
ٹریفک کنٹرول اور سسٹم مانیٹرنگ کے ساتھ مواصلاتی رابطے کے ذریعے پرواز کو سپورٹ کرنے کا ذمہ دار تھا۔
فلائٹ 171 کے آخری لمحات کی سیکنڈ کے لحاظ سے دوسری ٹائم لائن
08:07:33 [GMT]: احمد آباد کے رن وے 23 سے ٹیک آف کے لیے کلیئر کر دیا گیا۔
08:07:37: ہوائی جہاز نے ٹیک آف رول شروع کیا۔
08:08:33: ہوائی جہاز(ابتدائی ولاسٹی) V1 (153 ناٹس) تک پہنچتا ہے۔
08:08:35: ہوائی جہاز گردش کے لیے Vr(دوسری ولاسٹی) (155 ناٹس) حاصل کرتا ہے۔
08:08:39: لفٹ آف رجسٹرڈ۔
08:08:42: ہوائی جہاز اپنی زیادہ سے زیادہ ریکارڈ شدہ رفتار 180 ناٹس پر پہنچتا ہے۔ دونوں انجن ایندھن کے سوئچ اچانک "کٹ آف” میں منتقل ہو جاتے ہیں۔
08:08:47: انجن طاقت کھو دیتے ہیں۔ RAT ہنگامی ہائیڈرولکس فراہم کرنے کے لیےعمل میں لائی جاتی  ہے۔
08:08:52: انجن 1 فیول سوئچ "رن” پر واپس آ گیا ہے۔
08:08:54: APU inlet دروازہ کھلنا شروع ہوتا ہے (آٹو اسٹارٹ شروع ہوتا ہے)۔
08:08:56: انجن 2 کا فیول سوئچ بھی "رن” پر چلا گیا۔
08:09:05: پائلٹ "MAYDAY MAYDAY MAYDAY” منتقل کرتا ہے۔
08:09:11: حتمی ڈیٹا ریکارڈ کیا گیا۔ ہوائی جہاز زمین سے ٹکراتا ہے۔
ہفتے  کی رپورٹ کے مطابق، تحقیقات کے اس مرحلے پر، بوئنگ 787-8 طیاروں یا GE GEnx-1B انجنوں کے حوالے سے ایئر لائنز یا انجن بنانے والی کمپنیوں کو کوئی کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔
شفقنا اردو
بدھ، 16 جولائی 2025
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین