یہ تحریر کاروان ناروے میں شائع ہوئی
پاکستان میں حکومت سے لے کر اپوزیشن تک سب ہی ملک میں ہائبرڈ نظام کی بات کرتے ہیں۔ گویا اس نظام کو قبول کر لیا گیا ہے۔ اس کے باوجود یہ معلومات بہت کم فراہم کی گئی ہیں کہ یہ نظام کیسے کام کرتا ہے۔ اسی لیے اس بارے میں مباحث یک طرفہ، لاعلمی پر استوار اور ایک دوسرے پر لعن طعن سے لبریز ہوتے ہیں۔
پاکستان میں تقریباً سب سیاسی پارٹیاں چونکہ اس نظام کو ایک بڑی سیاسی سچائی کے طور پر قبول کرتی ہیں لہذا بنیادی طور پر یہ ان سیاسی پارٹیوں ہی ذمہ داری تھی کہ وہ اس نظام کے بارے میں عوام کو آگاہ کرتیں۔ بلکہ سب سے بہتر ہوتا کہ انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے سیاسی پارٹیاں اپنے منشور میں یہ ہی واضح کر دیں کہ وہ ملک میں ہائبرڈ نظام کی حامی ہیں اور اسے بہتری کا راستہ سمجھتی ہیں۔ تاکہ حکومت بنانے والی کسی پارٹی کے بارے میں کوئی ابہام یا غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
یہ سوال اکیڈمک نوعیت کا کہ یہ نظام کیسے استوار ہوا۔ ایک اداریے میں اس کا جواب تلاش کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ البتہ مختصر طور سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ نظام ایک ایسا طریقہ وضع کرتا ہے جس میں عوام کے منتخب نمائندے اور غیر منتخب طاقت ور اداروں کے نمائندے مل جل کر اہم قومی فیصلے کرنے اور نظام حکومت کے بارے میں اتفاق رائے سے کام کرنے پر رضامند ہوتے ہیں۔ کسی سطح پر اس بارے میں چونکہ کوئی پریشانی موجود نہیں ہوتی، اس لیے اس کے بارے میں اصولی طور سے سوال اٹھانے اور اس میں کیڑے نکالنے کا کوئی جواز بھی نہیں ہونا چاہیے۔ جیسا کہ موجودہ حکومتی انتظام کو ہائبرڈ 2 کا نام دیا جاتا ہے جبکہ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کو ہائبرڈ 1 کی حیثیت حاصل تھی۔
تحریک انصاف نے 2018 میں حکومت بناتے وقت سے ہی فوجی قیادت و اداروں کے تعاون سے حکومت اور اہم فیصلے کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس وقت اسے پاک فوج کے ساتھ ون پیج کی سیاست کہا جاتا تھا۔ گویا ہائبرڈ نظام کی ’خوبیوں‘ کے سبب اسے وضع کرنے والے اور اس سے استفادہ کر کے اطمینان سے حکومت کرنے والوں کو اس پر کوئی تحفظات نہیں تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ درحقیقت مکمل اختیارات منتخب ہونے والی حکومت اور وزیر اعظم کے پاس ہیں۔ جبکہ اپوزیشن اس وضاحت کو غلط بیانی قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کرتی تھی کہ یہ جھوٹ ہے۔ اصل اختیار فوجی قیادت کے پاس ہے اور منتخب حکومت اس کی بی ٹیم کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اسی لیے عمران خان کو ’نامزد وزیر اعظم‘ کا نام بھی دیا گیا۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف اس وقت اسی عذر کی بنا پر موجودہ حکومت کو ناقص اور ناقابل اعتبار سمجھتی ہے کیوں کہ اس کے خیال میں یہ بے اختیار ہے۔ وزیر اعظم محض ڈمی کے طور پر کام کرتے ہیں اور وفاقی کابینہ و دیگر عہدیدار صرف سرکاری پروٹوکول اور اس سے منسلک مراعات حاصل کرتے ہیں اور انہیں ملکی معاملات کے بارے میں اس سے زیادہ نہ تو اختیار حاصل ہے اور نہ ہی انہیں اس کی پرواہ ہے۔ اس طرح فوج کو ملک کے اصل اختیارات کا مالک قرار دے کر فوجی قیادت کے بارے میں تند و تیز تنقید کی جاتی ہے۔ چند روز پہلے لاہور میں تحریک انصاف کی طرف سے 90 دن کی احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے بھی یہی الزام عائد کیا اور فوج سے کہا کہ اسے وہ کام نہیں کرنا چاہیے جس کا اسے آئینی اختیار حاصل نہیں ہے۔
ایسے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا پاک فوج واقعی اپنی آئینی حدود سے تجاوز کر کے اس وقت ملک کی اصل حکمران ہے اور منتخب لیڈروں کو کام یا فیصلے کرنے کا حق حاصل نہیں ہے؟ یہ دعویٰ کسی حد تک نامکمل اور شدید غلط فہمی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ سیاسی نعرے بازی میں اپوزیشن کو چونکہ حقوق کا چیمپئن بننے کی ضرورت ہوتی ہے لہذا اسے حکومت پر کوئی ایسا الزام عائد کرنا پڑتا ہے جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ یہ حکومت بے بس اور ناقابل اعتبار ہے کیوں کہ اس کے پاس تو اختیارات ہی نہیں ہیں۔ اگر یہ بات سو فیصد درست ہوتی تو تحریک انصاف جو سوشل میڈیا پر مہمات چلانے کے علاوہ عدالتوں میں اپیلیں دائر کرنے اور آئینی اصول کی وضاحت کے لیے سرگرم رہتی ہے، ضرور کسی عدالت کے سامنے یہ پٹیشن بھی دائر کرتی کہ موجودہ حکومت ہائبرڈ انتظام کے تحت کام کر رہی ہے اور اس کے پاس اختیار نہیں ہے۔ اور جو عناصر فیصلہ سازی کا اختیار رکھتے ہیں، انہیں آئین یہ اختیار نہیں دیتا۔ البتہ دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف یا کسی بھی دوسری سیاسی پارٹی نے کبھی اس معاملہ کو کسی عدالت میں اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاسی نعرے و الزامات اور حقیقی صورت حال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ان نعروں کو دلیل اور شواہد کے ساتھ کسی عدالت کے سامنے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے ہائبرڈ نظام کو عوام کے حقوق پر ڈاکا قرار دے کر نعرے تو ضرور لگائے جاتے ہیں لیکن اس بارے میں کوئی دلیل سننے میں نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سوال پر عدالتوں کو ملوث کرنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔
اسی بحث کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تحریک انصاف مسلسل اسٹیبلشمنٹ یا حقیقی با اختیار لوگوں سے بات کرنا چاہتی ہے۔ علی امین گنڈا پور نے لاہور کی پریس کانفرنس میں یہ مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ چونکہ اصل اختیار عسکری قیادت کے پاس ہے، اسی لیے سیاسی حکومت یا پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ تحریک انصاف کے اس موقف کو اگر درست مان لیا جائے تو اس سے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف بھی ہائبرڈ نظام ہی کے تحت کام کرنے پر راضی ہے لیکن اس کا ماننا ہے کہ حکومتی اختیار دوسری پارٹیوں کی بجائے تحریک انصاف کے پاس ہونا چاہیے کیوں کہ وہی عوام کی پسندیدہ اور مقبول پارٹی ہے۔
کسی سیاسی پارٹی کی طرف سے مقبولیت کے دعوے کی تصدیق چونکہ صرف انتخابی نتائج سے ہی ہو سکتی ہے، شاید اسی لیے انتخابات کو ہر بار مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور ہارنے والے سیاسی عناصر انہیں دھاندلی زدہ قرار دیتے ہیں۔ یہ الزامات بھی درحقیقت اسی شکوے کی بنیاد پر ہوتے ہیں کہ ہمیں شریک اقتدار کرنے کی بجائے، ہمارے مخالفین کو کیوں حکومت بنانے کا موقع دیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں اگر آئی ایس پی آر کی طرف سے بار بار سامنے آنے والے ان بیانات کو سامنے رکھا جائے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور مختلف سیاسی پارٹیاں اسے سیاسی معاملات میں ملوث کرنے کی کوشش نہ کریں۔ فوج کا کہنا یہ ہے کہ آئین کے تحت وہ حکومت وقت کے ماتحت محکمہ ہے اور جب بھی حکومت اس کی خدمات مانگے گی، وہ انہیں فراہم کرے گی۔ یہ خدمات سکیورٹی معاملات سے لے کر معاشی فیصلوں اور خارجہ حکمت عملی تک کے حوالے سے ہو سکتی ہیں۔ یہی صورت حال اس وقت دکھائی بھی دیتی ہے۔ اسی کو حکومت وقت اپنی طاقت جبکہ اپوزیشن غیر آئینی انتظام قرار دیتی ہے۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر سیاسی پارٹیاں ہائبرڈ نظام کو سیاسی نعرے بازی کے لیے استعمال نہ کرتیں تو حکومت وقت اور فوج کے درمیان تعلق و تعاون کی صورت حال درحقیقت ملک کے مفاد میں ہی استعمال ہوتی ہے۔ فوج ایک منظم ادارہ ہے جو ایک خاص ڈسپلن میں چین آف کمانڈ کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کے پاس عسکری معاملات کے علاوہ دیگر شعبوں کے بارے میں بھی صلاحیت و معلومات ہوتی ہیں۔ کوئی حکومت اگر ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہتی ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ اس حد تک یہ طریقہ یعنی حکومت و فوج کا تعاون جسے عرف عام میں ہائبرڈ نظام کہا جاتا ہے، ملکی آئین کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہی کام کرتا ہے۔ اس پر کوئی بھی اعتراض ناجائز اور غلط ہونا چاہیے۔
اس معاملہ میں قباحت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ شبہات جنم لینے لگیں کہ کسی خاص پارٹی یا گروہ کو عوام کی خواہش کے برعکس جعلی ہتھکنڈوں سے انتخابات میں کامیاب کرا کے اقتدار سونپا جاتا ہے۔ گویا ملک میں یہ رائے راسخ کردی گئی ہے کہ حکومت سنبھالنے والے لوگ درحقیقت عوام کے نمائندے نہیں ہوتے بلکہ فوج کی مرضی سے انہیں اسمبلیوں میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ تاثر خواہ جتنا بھی بے بنیاد یا غلط ہو لیکن اس کی وجہ سے ملک میں عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ اس فضا کو پیدا کرنے میں درحقیقت تمام سیاسی پارٹیوں نے کردار ادا کیا ہے۔ اور بدقسمتی سے فوج جو سب شہریوں کی امیدوں کا مرکز ہونی چاہیے، اس کے بارے میں غلط فہمیاں اور گمراہ کن معلومات عام کی گئی ہیں۔ اب یہ تفہیم عام ہو گئی ہے کہ ہائبرڈ نظام کسی حکومت کی مرضی سے استوار نہیں ہوتا۔ یعنی کوئی حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد فوجی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ نہیں کرتی بلکہ ہائبرڈ نظام پہلے ہی موجود ہوتا ہے، اور وہی طے کرتا ہے کہ کسے اقتدار سونپا جائے۔
یہ تفہیم غلط اور حقیقی صورت حال کے برعکس ہے۔ ملکی فوج ایک منظم ادارہ ہے۔ اسے اپنی طاقت اور حدود کا بخوبی علم ہے۔ ماضی میں اس طاقت کا غلط استعمال آمریت کے نفاذ کی صورت میں دیکھنے میں آتا رہا ہے۔ البتہ جب فوجی ادارے کسی منتخب حکومت کی صوابدید پر مختلف شعبوں میں تعاون کرتے ہیں تو انہیں اختیارات سے تجاوز کہنا ممکن نہیں ہے۔ البتہ اس بارے میں ہر سطح پر بے بنیاد پروپیگنڈے اور غلط معلومات کی وجہ سے شدید غلط فہمیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ اس لیے فوج کو بھی مختلف طریقوں سے وضاحت کرتے رہنا چاہیے کہ حکومت کے ساتھ فوج کے جس ورکنگ ریلیشن شپ کو ہائبرڈ نظام یا فوجی آمریت قرار دیا جاتا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے۔ اسی طرح سیاسی پارٹیوں کو بھی دیانت داری سے مان لینا چاہیے کہ فوج تو اقتدار میں آنے والی پارٹی کے ساتھ ہی تعاون کرے گی۔
ہائبرڈ نظام کے بارے میں قبولیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ فوج اور حکومت کا تعاون کیسے ملکی مفاد کے لیے کام کرتا ہے اور اسے کیوں اختیار کیا جاتا ہے۔ دوسرے سول حکومت انتخابات کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرے۔ یعنی ملک میں وسیع تر سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ سول ادارے، خاص طور سے الیکشن کمیشن خود مختار ہو جو شفاف انتخابات منعقد کرانے کے قابل ہو۔ اگر الیکشن کمیشن ہی کو جانبدار قرار دیا جائے گا اور انتخابی دھاندلی کا الزام تسلسل سے غیر منتخب اداروں پر عائد ہو گا تو موجودہ سیاسی تصادم کبھی ختم نہیں ہو سکے گا۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں