پاکستان میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران موسمیاتی واقعات کی وجہ سے 120 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ملک مون سون کے موسم کے آغازکا سامنا کرنے کے لیے اپنی کمر کس رہاہے۔
بدھ کو جاری ہونے والی اپنی تازہ ترین صورتحال کی رپورٹ میں، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے انکشاف کیا ہے کہ 26 جون سے اب تک ملک بھر میں 63 بچوں سمیت کل 124 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
این ڈی ایم اے کو معلوم ہوا ہے کہ تقریباً دو تہائی اموات مکانات کے گرنے اور سیلاب کے باعث ہوئیں، جب کہ ڈوبنے سے ہونے والی اموات 10 میں سے صرف ایک کی شرح سے تھی۔
پاکستان، جس کی آبادی 250 ملین سے زیادہ ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک ممالک میں سے ایک ہے۔
اس نے بار بار ماحولیاتی آفات کا سامنا کیا ہے، خاص طور پر 2022 کے تباہ کن سیلاب، جس میں تقریباً 1,700 افراد ہلاک اور 30 ملین سے زیادہ لوگ ملک بھر میں بے گھر ہوئے، جنہوں نے اپنے گھر اور مویشیوں کو کھو دیا یا جن کی فصلوں کو نقصان پہنچا ۔
اس وقت کے اندازوں کے مطابق، 2022 کے سیلاب سے املاک اور زمین کو14.8ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) میں15.2ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
پاکستان کی حکومت موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی جانب سے امداد کی کمی کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے، جو سیلاب اور دیگر آفات کا سبب بن رہی ہے۔ تاہم، بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی بے عملی نے موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
کون سے علاقے موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں؟
این ڈی ایم اے کے تازہ ترین اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 24 جون سے سب سے زیادہ اموات پنجاب اور خیبرپختونخوا صوبوں میں
ہوئیں، جن میں بالترتیب 49 اور 38 اموات ہوئیں۔
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں گزشتہ ہفتے موسلادھار، وقفے وقفے سے بارش ہوئی جس سے شہر کے کئی نشیبی علاقے بجلی سے محروم ہو گئے اور اس کے نتیجے میں شہر کی تنگ گلیوں میں پانی جمع ہو گیا۔ وسطی اور جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی موسلادھار بارش ہوئی، محکمہ موسمیات نے آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
اسی طرح صوبہ خیبرپختونخوا جہاں گزشتہ ماہ پکنک منانے کے دوران ایک ہی خاندان کے کم از کم نو افراد دریائے سوات میں ڈوب گئے، وہاں بھی مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان کے محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کا ایک اور طاقتورموسمی نظام آئندہ چند دنوں میں خیبر پختونخواہ کے بیشتر علاقوں سے ٹکرائے گا جب کہ پنجاب میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے کے ایک اہلکار نے، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنے کا مجاز نہیں تھا، نے الجزیرہ کو بتایا کہ، موسم کی پیشن گوئی کے مطابق، اتھارٹی 2022 کی طرح "اس مرحلے پر بڑے پیمانے پر دریائی سیلاب” کے دوبارہ آنے کی توقع نہیں کر رہی ہے۔
لیکن اہلکار نے مزید کہا کہ مقامی نوعیت کے سیلاب اور شہری سیلاب پورے ملک میں ایک اہم تشویش بنی ہوئی ہیں۔
"این ڈی ایم اے نے صوبائی حکام اور عوام کو ابتدائی انتباہات اور مشورے جاری کیے ہیں اور حساس مقامات پر اہم امدادی سامان کو پہلے سے تیار رکھا ہے۔ ہم سیٹلائٹ پر مبنی سسٹمز، موسمی ماڈلز اور ریئل ٹائم گراؤنڈ رپورٹنگ کے ذریعے صورتحال کی نگرانی کرتے رہتے ہیں،” اہلکار نے مزید کہا۔
موسمیاتی تبدیلی کس طرح بحران پر اپنا اثر ڈال رہی ہے؟
جنوبی ایشیائی ممالک، بشمول پاکستان، عام طور پر مون سون کے موسم میں اپنی سالانہ بارش کا 70 سے 80 فیصد حاصل کرتے ہیں، جو جون کے آخر سے ستمبر تک رہتی ہے۔ اس سال، مون سون کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو ملک کے شمالی گلگت بلتستان کے علاقے میں شدید گرمی کی وجہ سے بڑھا وا ملا ہے، جسے "تیسرا قطب” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا کے کئی اہم گلیشیئرز کا گھر ہے۔
پی ایم ڈی کے مطابق، پہاڑی علاقے کے کچھ حصوں میں سطح سمندر سے کم از کم 1,200 میٹر (4,000 فٹ) بلندی پر واقع ہونے کے باوجود درجہ حرارت 48 ڈگری سیلسیس (118 ڈگری فارن ہائیٹ) سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
گلگت بلتستان ہزاروں گلیشیئرز کا گھر ہے اور دنیا بھر سے کوہ پیماؤں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ پاکستان کی وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی اور اطالوی تحقیقی ادارے EvK2CNR کی جانب سے گزشتہ سال کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ملک میں 13,000 سے زیادہ گلیشیئر موجود ہیں۔
ضرورت سے زیادہ گرمی نے اس سال ان گلیشیئرز کے پگھلنے میں تیزی لائی ہے، جس سے سیلاب اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کا خطرہ بڑھ گیا ہے، ساتھ ہی زندگی، زمینی اور پانی کی سلامتی کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔
ماہر ماحولیات اور گلگت میں فاطمہ جناح ڈگری کالج کی اسسٹنٹ پروفیسر ستارہ پروین نے کہا کہ جون کی گرمی کی لہر نے برفانی تودے کے تیزی سے پگھلنے کو شروع کیا، کچھ علاقوں میں درجہ حرارت نے تقریباً تین دہائیوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔
پروین نے الجزیرہ کو بتایا، "تاہم، "چھوٹے برفانی عہد(Little Ice Age)”کے شواہد کو دیکھتے ہوئے، مون سون کے ساتھ سیلاب کا خطرہ زیادہ ہے، جہاں زیادہ درجہ حرارت کے ساتھ بارش زیادہ رہی اور کم درجہ حرارت کے ساتھ کم بارش ہوئی،” پروین نے الجزیرہ کو بتایا۔
"چھوٹا برفانی دور” علاقائی ٹھنڈک کا دور تھا، جو بنیادی طور پر 14ویں صدی کے اوائل سے 19ویں صدی کے وسط تک شمالی بحر اوقیانوس کو متاثر کرتا تھا۔
گلگت بلتستان کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ذاکر حسین نے الجزیرہ کو بتایا: "درجہ حرارت میں اضافے اور انسانی آب و ہوا کی تبدیلی کے پیش نظر، گلگت بلتستان میں نازک ماحولیاتی نظام کو اچانک آنے والے سیلابوں اور گلیشیئر ز کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرے کا سامنا ہےجو سیلاب کی ایک ایسی قسم ہے جو گلیشئیرجھیل سے پانی کے اچانک اخراج سے آتاہے ۔”
پاکستان میں بحران کا ذمہ دار کون؟
پاکستان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری مدد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی۔
2023 میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے دلیل دی کہ بین الاقوامی برادری امداد فراہم کرنے کی پابند ہے، کیونکہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس کے اخراج کا صرف نصف فیصد ذمہ دار ہے لیکن اس کے لوگوں کی موسمیاتی آفات سے مرنے کے امکانات 15 گنا زیادہ ہیں۔
2022 کے سیلاب کے بعد، پاکستان نے جنوری 2023 میں اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک عالمی ڈونر کانفرنس کی میزبانی کی، جس
میں تقریباً 10 بلین ڈالر کا عطیہ دینے والے ممالک نے وعدہ کیا تھا – اگرچہ زیادہ تر قرضوں کی شکل میں تھا۔ لیکن 2024 تک، پاکستان کو ان وعدوں میں سے صرف 2.8 بلین ڈالر ملے تھے۔
اس سال کے شروع میں، پاکستان کے مرکزی بینک کے ایک سابق سربراہ نے کہا کہ ملک کو اپنے بڑھتے ہوئے موسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے 2050 تک 40-50 بلین ڈالر کی سالانہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔
انٹرنیشنل سنٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ (ICIMOD) کے مطابق، ہمالیائی گلیشیئر صدی کے اختتام تک اپنی 75 فیصد برف سے محروم ہونے کے راستے پر ہیں۔ جب برفانی جھیلیں بھر جاتی ہیں یا ان کا کنارہ غیر محفوظ ہوجاتا ہے، تو وہ پھٹ جاتی ہیں، جس سے مہلک سیلاب آتے ہیں جو کہ پلوں اور عمارتوں کو بہا دیتے ہیں اور ہندوکش، قراقرم، اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں سے زرخیز زمین کو مٹا دیتے ہیں۔
تاہم، جب کہ پاکستان کو موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے، کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے حکمرانی کی ناکامیوں اور ناقص پالیسی فیصلوں کی وجہ سے یہ بحران مزید سنگین ہوا ہے۔
کئی حالیہ واقعات میں، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں شہری ہلاکتوں کاسبب دریا کے کنارے کے قریب گھروں کی غیر قانونی تعمیر اور ناقص تعمیر شدہ مکانات کو بہا لے جانے والے سیلاب ثابت ہوا۔
UN-Habitat کی 2023 کی ایک رپورٹ، جو ماحولیات کے لحاظ سے پائیدار شہروں اور قصبوں کو فروغ دیتی ہے، پاکستان کی غیر منظم شہری منصوبہ بندی کے مسئلے کو اجاگر کرتی ہے، جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ تیزی سے دیہی سے شہری نقل مکانی نے مکانات کی شدید قلت کی وجہ سے کچی آبادیوں کو پھیلایا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ "اس پورے نہ ہو سکنے والے مطالبہ کی وجہ سے 50 فیصد سے زیادہ شہری آبادی ان آبادیوں یا غیر رسمی بستیوں میں مقیم ہے جسے کچی آبادی کہا جاتا ہے”۔
این ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ایجنسی نے ایک کثیر سطحی تیاری کا طریقہ اختیار کیا ہے جہاں توجہ صرف ہنگامی ردعمل پر نہیں ہے، بلکہ خطرے میں کمی اور جلد انخلاء بھی ہے۔
ایک اہلکار نے کہا، "ہم نے خطرے سے دوچار اضلاع کے لیے خطرے کے نقشے جاری کر دیے ہیں، اور صوبائی حکومتیں ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنے کے لیے کام کررہی ہیں کہ جہاں ضروری ہو، زیادہ خطرے سے دوچار کمیونٹیز، خاص طور پر وہ لوگ جو نالہ (پانی کے
راستوں) کے قریب رہتے ہیں، اور لینڈ سلائیڈنگ کا شکار پہاڑیوں کی شناخت کریں”۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
پاکستانی موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین تشویش ہے، لیکن ادارہ جاتی ناکامیوں سے اس کے اثرات میں اضافہ ہوا ہے۔
اسلام آباد میں رہنے والے موسمیاتی ماہر، علی توقیر شیخ نے کہا، "جو نقصانات اورتباہی آپ دیکھ رہے ہیں وہ بے عملی کی قیمت ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے دریا کے کنارے مکانات کی تعمیر جاری ہے۔ "مون سون کی بارش کا قصور کیسےہوا؟”
شیخ نے کہا کہ پاکستان میں شہری منصوبہ بندی کے فقدان اور تیاری کی عدم موجودگی نے لوگوں کو مختلف قسم کے خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جن میں دریائی سیلاب، شہری سیلاب اور شدید گرمی کی لہریں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "یہ چیلنجوں کی الگ الگ قسمیں ہیں، اور نقصان کا پیمانہ، لوگوں اور بنیادی ڈھانچے دونوں کے لیے ، مختلف ہوتا ہے کیونکہ ان کے نقصانات کی مختلف جہتیں ہیں۔”
شیخ نے بامعنی موسمیاتی اصلاحات کو نافذ کرنے میں حکومت کی ناکامی پر بھی تنقید کی، اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ اس کا ردعمل غیر ملکی قرضوں کو حاصل کرنے اور اندرونی ساختی تبدیلیوں کے بغیر منصوبوں کو شروع کرنے تک محدود ہے۔
"میں ایک بھی پالیسی اصلاحات کے بارے میں سوچ نہیں سکتا جو حکومت نے 2022 کے سیلاب کے بعد کی ہو، وزراء اور دیگر عہدیداروں کے تمام بڑے دعوؤں کے باوجود۔ کمزور علاقوں میں کمیونٹیز کی خطرے کے لیے تیاری کو بڑھانے کے لیے اندرونی توجہ مرکوز کرنے والی اصلاحات مکمل طور پر غائب ہیں،” انہوں نے کہا۔
"ہم اصلاح کے مخالف معاشرہ ہیں، اور ہم کوئی ایسی تبدیلی نہیں لانا چاہتے جواپنی فطرت میں کافی ہو، اور یہ رویہ صرف کمزوریوں کو برقرار رکھتا ہے۔”
نہ ہی NDMA اور نہ ہی ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی وزارت نے ان مسائل کے بارے میں کسی سوال کا جواب دیا۔
شفقنا اردو
اتوار، 20 جولائی 2025
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں