Top Posts
دہشتگردی کا نیا خطرہ افغانستان سے اٹھ رہا...
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت...
کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کا...
دوسرا ٹی ٹوئنٹی: بھارت کو جنوبی افریقا کے...
مہنگائی اور کرپش کے خلاف مسلسل احتجاج پر...
جنرل فیض حمید عمران خان کے خلاف گواہ...
غزہ میں مسلسل دوسرے روز بارش سے اسرائیلی...
آسٹریا نے اسکولوں میں 14 سال سے کم...
یوکرین جیسے تنازعات تیسری عالمی جنگ تک پہنچ...
حمید کے بعد ثاقب نثارہو یا بانی پی...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

بہار الیکشن میں مودی نے غیرمعمولی کامیابی کیسے حاصل کی؟ عامر خاکوانی

by TAK 13:51 | منگل نومبر 18، 2025
13:51 | منگل نومبر 18، 2025 46 views
46
یہ تحریر ادو نیوز  میں شائع ہوئی
نومبر کا دوسرا ہفتہ انڈین سیاست میں بہت اہم تصور ہو رہا تھا کیونکہ اسی میں ایک اہم ریاست بہار کا ریاستی الیکشن ہونا تھا۔ اسی الیکشن کے نتیجے سے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کا سیاسی مستقبل وابستہ ہو چکا تھا۔
کہا جا رہا تھا کہ اگر مودی بہار کا الیکشن ہار گئے تو پھر ان پر آر ایس ایس کی جانب سے دباؤ بڑھ جائے گا کہ خود پیچھے ہٹ جائیں اور اپنے کسی سیاسی جانشین کو آگے لے آئیں۔ اسی طرح انڈین نیشنل کانگریس اور راہُل گاندھی کی واپسی کا بھی اسی ریاستی الیکشن سے پتہ چلنا تھا۔ پاکستان میں اس صورت حال کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جا رہا تھا۔
ہمارے ہاں میڈیا، سوشل میڈیا اور تجزیہ کاروں کا تاثر تھا کہ آپریشن سندور کا جو نتیجہ نکلا، جس طرح انڈیا کو خفت اٹھانا پڑی اور عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری برتری کا تاثر بنا، اس سے بی جے پی اور نریندر مودی کی انڈیا کے اندر مقبولیت کم ہو چکی ہے ۔اور بہار کے الیکشن میں انہیں شکست ہو جائے گی۔
الیکشن نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ ہمارے ہاں جو کچھ سمجھا جا رہا تھا، اس کے برعکس ہوا ہے۔ بہار کے الیکشن میں مودی فاتح بن کر ابھرے ہیں۔ پہلے سے زیادہ طاقتور، پہلے سے زیادہ خطرناک اور بااثر۔

الیکشن نتائج

مودی اور ان کے اتحادیوں نے بہار کے الیکشن میں لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل کی ہے۔ بی جے پی کے اتحاد یعنی این ڈے اے نے کل 243 میں سے 202 نشستیں حاصل کر کے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ توقعات سے بھی زیادہ بہتر پرفارمنس۔
مودی کی جماعت بی جے پی نے سب سے زیادہ یعنی 89 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ ان کے اتحادی سابق وزیراعلٰی نتیش کمار کی جنتا دل یونائٹڈ نے 85 اور رام ولاس کی پارٹی نے 19 سیٹیں جیتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں کانگریس کو صرف چھ سیٹیں ملی ہیں، اگرچہ اس نے 61 نشستوں پر الیکشن لڑا۔ کانگریس کے اتحاد مہاگٹھ بندھن کو بمشکل 34/35 سیٹیں ملیں۔ کانگریس کی سب سے بڑی اتحادی جماعت راشٹریہ جنتا دل تھی، جس کے بانی اور سرپرست لالو پرساد یادو ہیں۔ وہی لالو پرساد جن کے نام پر ایک گیت بھی مشہور ہوا تھا؛ ’جب تک سموسے میں آلو رہے گا، تب تک بہار میں لالو رہے گا۔‘
اب لالو پرساد ضعیف اور علیل ہیں، کچھ قانونی مسائل بھی ہیں، ان کی جگہ ان کا بیٹا تیجسوی یادو پارٹی سنبھالتا ہے۔ یہ کانگریس کے مین اتحادی تھے مگر اس الیکشن میں ان کا بھی بیڑا غرق ہوا ہے اور صرف 25 سیٹیں ہاتھ آئیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ الیکشن میں اسی جماعت نے سب سے زیادہ سیٹیں جیتی تھیں اگرچہ نتیش کمار اور بی جے پی کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے یہ حکومت نہیں بنا سکتے تھے۔ بہرحال اس بار لالو پرساد کی پارٹی ٹھس ہو گئی۔
الیکشن میں بعض نئی جماعتیں بھی آئی تھیں، وہ ناکام ہوئیں، خاص کر پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی کو ایک سیٹ بھی نہیں ملی۔ اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد مسلمین نے البتہ پانچ نشستیں جیتی ہیں۔ اویسی کی پارٹی نے بعض سیٹوں میں مسلم ووٹ لے کر کانگریس کو قدرے نقصان بھی پہنچایا۔
پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا میں یہ بیانیہ چل رہا تھا کہ چونکہ آپریشن سندور میں مودی حکومت موثر پرفارمنس نہیں دکھا پائی، رفال طیارے گرنے سے انہیں ندامت اٹھانا پڑی۔ جو بلند بانگ دعوے کیے تھے، وہ ناکام ہوئے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور جگہ جگہ سات طیارے گرنے کی بات کر کے مودی حکومت کے لیے خفت کا ساماں پیدا کیا۔ ہمارے ہاں یہ خیال تھا کہ اس کا اثر بہار کے الیکشن میں سامنے آئے گا۔
ایسا نہیں ہو سکا۔ بہار کے نتائج نے یہ بات غلط ثابت کر دی۔ ریاستی سطح پر بی جے پی نہ صرف قائم ہے بلکہ اس کی گرفت گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انڈیا ایک بہت ہی متنوع، بے پناہ قسم کی لسانی، طبقاتی، قومیتی تقسیم والا ملک ہے۔ اس کی سیاست بھی پیچیدہ ہے، وہاں پر بعض اوقات نیشنل لیول پر سیاست کچھ اور طرح سے چلتی ہے جبکہ ریاستی یعنی صوبائی سطح پر سیاست کا رخ اور رنگ مختلف ہوتا ہے۔
انڈیا کی ریاستی سیاست قومی سلامتی کے بیانیے سے ہمیشہ متاثر نہیں ہوتی۔ بہت سی ریاستوں میں مقامی ذات پات کی تقسیم اور طبقاتی ووٹ، ویلفیئر سکیمز اور مقامی سیاسی اتحاد زیادہ اہم اور فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ بہار میں یہ سب کچھ بی جے پی اور مودی کے حق میں گیا یا یہ کہہ لیں بڑے طریقے سے اسے اپنے حق میں بنایا گیا۔
کسی حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ مودی کا مقبولیت کا گراف قائم ہے، ان کی شخصیت میں کشش بدستور موجود ہے اور وہ ووٹرز کو اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں۔ مودی نے اس جیت پر کہا ہے کہ ’میں نے بہار کے لو گوں کا دل چرا لیا ہے۔ اس جیت نے بنگال میں بی جے پی کی جیت کے لیے راستے ہموار کر دیے ہیں۔‘ ایسا ہو پائے یا نہیں، لیکن ابھی مودی دعوے تو کر سکتے ہیں۔

بہار کے اہم سیاسی گروہ اور پاکٹس

بہار میں کاسٹ سسٹم بہت زیادہ ہے، یہاں ان کی سیاسی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ ای بی سی یعنی ایکسٹریملی بیک ورڈ کاسٹ، او بی سی یعنی ادر بیک ورڈ کاسٹ، مہا دلت، اپر کاسٹ، مسلم ووٹ۔ یہ سب مختلف گروہ ہیں۔
او بی سی انڈیا میں وہ سماجی گروہ ہے جو تاریخی، معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ سمجھے جاتے ہیں، انہیں ملازمتوں، تعلیمی اداروں میں کوٹہ اور دیگر سہولتیں دی جاتی ہیں۔ جبکہ او بی سی میں سے بھی سب سے زیادہ پسماندہ طبقہ ای بی سی کہلاتا ہے۔ بہار میں ای بی سی ایک بہت مضبوط سیاسی بلاک ہے، جس پارٹی کو یہ ووٹ ملے تو اسے جیت میں سہولت ہو جاتی ہے۔ نتیش کمار کا زیادہ کام اسی حلقے میں ہے۔ ہر الیکشن لڑنے والا ان تمام ووٹر بلاکس کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ الیکشن نتائج سے اندازہ ہوا کہ بی جے پی کا اتحاد اس حوالے سے زیادہ موثر اور کامیاب ہوا۔

مودی کی جیت کے اہم فیکٹرز

مضبوط شخصی تاثر اور مستحکم سیاست: یہ ایک اہم فیکٹر ہے کہ بی جے پی کے اتحاد کو نریندر مودی کی شخصی کشش اور نتیش کمار کے ایماندار امیج کا بھی ایڈوانٹیج تھا اور ساتھ ہی یہ یہ تاثر بھی ان کے ساتھ تھا کہ بی جے پی اور نتیش کمار کی جماعتوں کی مخلوط حکومت اچھے سے صوبے کو چلا سکے گی۔ دوسری طرف کانگریس اور تیجسوی یادو کے اتحاد مہا گٹھ بندھن میں انتشار اور کمزوری کا تاثر مل رہا تھا۔ ریاستی انتخابات میں لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کون سی حکومت مضبوط اور مستحکم رہے گی اور اسے کام کرنے کا موقعہ ملے گا۔ یہ بات کانگریس کے خلاف گئی۔
غیرمعمولی سیٹ مینجمنٹ
مودی اور ان کے اتحادیوں نے گراؤنڈ لیول پر سیٹ بائی سیٹ پلاننگ کی۔ وہ آپس میں سیٹوں کے جھگڑے میں نہیں پڑے، صرف یہ دیکھا کہ کہاں کون سا امیدوار مقامی سطح پر زیادہ موثر ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس کانگریس کے اتحاد میں سیٹوں پر بہت سے اختلافات نظر آئے۔ کانگریس نے 70 سیٹوں کا مطالبہ کیا اور 61 پر الیکشن لڑا مگر صرف چھ سیٹیں جیت پائی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگریس صرف 10، 12 سیٹوں ہی پر اچھا الیکشن لڑنے کی پوزیشن میں تھی، اسے زیادہ لالچ کے بجائے صرف اپنی مضبوط سیٹوں پر فوکس کرنا چاہیے تھا اور باقی سیٹیں مقامی سطح پر زیادہ بڑی پارٹی راشٹریہ جنتا دل کو دے دینی چاہیے تھیں۔
اسی جھگڑوں کی وجہ سے امیدوار بھی دو ہفتے بعد فائنل کیے گئے جس کا الیکشن مہم میں بہت نقصان ہوا۔
دھڑوں کی کامیاب سیاست
بی جے پی اور اس کے اتحادی نتیش کمار کی جماعت نے بہت اچھی دھڑوں کی سیاست کی۔ بی جے پی کی اصل بنیاد اعلٰی زات کے ہندو ہیں۔ انہوں نے اپنی قوت کو نہیں چھوڑا اور ان کے ساتھ او بی سی میں بھی نفوذ کیا۔ نتیش کمارکی اصل قوت انتہائی پسماندہ ذاتیں یعنی ای بی سی ہیں۔ نتیش کے جنتا دل یونائٹڈ نے ای بی سی اور خواتین ووٹ بنک کو بہت اچھے سے موبائلائز کیا اور اس کے ثمرات وصول کر لیے۔ جنتا دل یونائٹڈ کو کسی حد تک مہا دلت ووٹ بھی ملا۔
ڈبل انجن سرکار
یہ دلچسپ نعرہ بی جے پی نے متعارف کرایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرکز میں جس کی حکومت ہو، صوبے میں بھی اس کی حکومت اگر بنے تو زیادہ کام ہوں گے، یعنی ڈبل انجن والا ایفیکٹ ملے گا۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ دونوں جگہ ان کی حکومت ہو تو ترقیاتی کام جلد ہوتے ہیں۔ فنڈز جاری ہونا آسان ہوتا ہے۔ ریاستی و مرکزی حکومت ایک دوسرے کو سپورٹ کرتی ہیں۔ سیاسی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ پروجیکٹس وقت پر مکمل ہوتے ہیں۔ اسی لیے اسے ڈبل انجن کہا جاتا ہے یعنی دو انجن چلیں گے تو رفتار دوگنی ہو گی۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
انڈین کانگریساین ڈی اےبہار انتخاباتراہل گاندھینتیش کمارنریندرا مودی
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
سعودی ولی عہد واشنگٹن میں: ممکنہ نتائج اور خطے پر اثرات
اگلی پوسٹ
نیا سماجی معاہدہ ناگزیر ہو چکا ہے/ڈاکٹر راجہ قیصر احمد

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی...

04:23 | بدھ دسمبر 10، 2025

ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں...

15:15 | منگل دسمبر 9، 2025

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے روسی شہریوں...

03:57 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

جنوبی ایشیا: جمہوریت کے نام پر سکڑتی اپوزیشن/عدنان...

08:17 | اتوار نومبر 30، 2025

بھارتی جریدے دی وائر نے مودی، امبانی اور...

13:18 | پیر نومبر 24، 2025

دہلی دھماکا : پولیس کے اسے ‘دہشت گردی’...

16:00 | اتوار نومبر 16، 2025

کیا طالبان افغانستان کو مزید برباد کرنا چاہتے...

15:41 | اتوار نومبر 16، 2025

بہار الیکشن؛ مودی نے کسی مسلمان کو ٹکٹ...

03:53 | اتوار نومبر 16، 2025

بہار میں مودی کی جیت، پاکستان سے تعلقات...

14:36 | ہفتہ نومبر 15، 2025

ہم ایسے انتخابات میں فتح حاصل نہیں کر...

03:44 | ہفتہ نومبر 15، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • دہشتگردی کا نیا خطرہ افغانستان سے اٹھ رہا ہے/شہباز شریف

  • حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت کے موقع پر آیت اللہ سیستانی کی نجف اشرف میں مومنین کے گروپ سے ملاقات

  • کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال نہیں ہونے دیں گے، سختی سے کارروائی ہوگی: امیر خان متقی

  • دوسرا ٹی ٹوئنٹی: بھارت کو جنوبی افریقا کے ہاتھوں شرمناک شکست کا سامنا

  • مہنگائی اور کرپش کے خلاف مسلسل احتجاج پر بلغاریہ کے وزیراعظم مستعفی

  • جنرل فیض حمید عمران خان کے خلاف گواہ بن سکتے ہیں: ذرائع

  • غزہ میں مسلسل دوسرے روز بارش سے اسرائیلی حملوں سے تباہ حال فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا

  • آسٹریا نے اسکولوں میں 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی عائد

  • یوکرین جیسے تنازعات تیسری عالمی جنگ تک پہنچ سکتے ہیں: امریکی صدر

  • حمید کے بعد ثاقب نثارہو یا بانی پی ٹی آئی سب کو سزا ملےگی: وزیر مملکت

  • امریکہ نے 6 بحری جہازوں اور وینزویلا کے صدر کے خاندان کے 3 افراد پر پابندیاں عائد کر دیں

  • چین کے بڑے فضائی ڈرون کیریئر جیو تیان (Jiu Tian) نے اپنی پہلی آزمائشی پرواز مکمل کرلی

  • مشکل حالات اور سیلاب کے باوجود پاکستانی معیشت مستحکم ہوئی: آئی ایم ایف

  • امریکا وینزویلا کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف زمینی کارروائی کا عندیہ دیدیا۔

  • ہر صبح گرم پانی میں لیموں کا عرق ملا کر پینے سے واقعی کوئی فائدہ ہوتا ہے؟

  • ہندوستان کی جانب سے پاکستانیوں کو بے دخل کرنے سے خاندان اب بھی تقسیم ہیں/ شہریار حسن

  • افغانستان قیادت دہشت گردی کے خلاف تحریری ضمانت دے: پاکستان

  • حکومت اور پی ٹی آئی ’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ پر پہنچ چکی ہیں؟

  • پاکستان میں گاڑیوں پر ڈسکاؤنٹ، عارضی رعایت یا مارکیٹ میں سخت مقابلے کا آغاز؟

  • کیا نواز شریف اپنی سیاسی وراثت بچانا چاہتے ہیں؟ سید مجاہد علی

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ