Top Posts
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف...
یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں...
بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ...
بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟
حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور...
آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید...
کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے...
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35...
3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی...
گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

حسینہ شیخ کی سزائے موت سے نہ امن آئے گا اور نہ جمہوریت/سید مجاہدعلی

by TAK 13:51 | منگل نومبر 18، 2025
13:51 | منگل نومبر 18، 2025 46 views
46
یہ تحریر کاروان ناروے میں شائع ہوئی
بنگلہ دیش کے ایک خصوصی ٹریبونل نے سابق وزیر اعظم حسینہ شیخ اور وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال کو موت کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ گو کہ سزا پانے والے لیڈر ان سزاؤں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر سکتے ہیں لیکن حسینہ شیخ اور ان کے صاحبزادے سجیب واجد نے ایسی اپیل دائر کرنے سے انکار کیا ہے۔
بنگلہ دیش میں سابق وزیر اعظم کو دی جانے والی سزا اس وقت بھی متنازعہ ہے اور مستقبل میں بھی اس کے بارے میں سوال اٹھائے جاتے رہیں گے۔ یہ کہنے کا ہرگز مقصد نہیں ہے کہ حسینہ شیخ اپنے پندرہ سالہ دور حکومت میں سیاسی مخالفین اور اپنے آمرانہ انداز حکومت پر انگلی اٹھانے والوں کے بارے میں سخت گیر نہیں رہیں اور انہوں نے ملک میں جمہوری روایات اور عوامی حقوق سلب نہیں کیے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ حسینہ شیخ 5 اگست 2024 کو اپنے خلاف احتجاج کے خوف سے بھارت فرار ہونے سے پہلے ملک کی منتخب وزیر اعظم تھیں۔ اور اس وقت ملک پر ایسی نگران حکومت مسلط ہے جسے فوجی تائید سے قائم کیا گیا ہے اور اسی کی حمایت سے عبوری نظام چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیش اگرچہ پاکستانی حکمرانوں کے جابرانہ فیصلوں اور ظلم کے خلاف عوامی احتجاج اور بغاوت کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا لیکن اپنے قیام کے بعد جمہوری حکومتوں کو ملک میں مسلسل مسائل کا سامنا رہا ہے اور فوج نے سیاسی معاملات میں مداخلت کی ہے۔ حسینہ شیخ نے 2009 میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے ایک طرف فوج کے ساتھ قریبی تعلقات استوار رکھے تو دوسری طرف انہوں نے معیشت اور سماجی ترقی پر پوری توجہ مبذول کی۔ اس دور میں بنگلہ دیش نے معاشی ترقی کی اور خواتین کو ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ البتہ یہ مقصد حاصل کرتے ہوئے حسینہ شیخ جمہوری روایت پر عمل کرنے اور سیاسی پارٹیوں کو آزادی سے کام کرنے کا موقع دینے میں ناکام رہیں۔
حسینہ شیخ کے دور حکومت میں ’جنگ آزادی‘ میں غداری کرنے والوں کے خلاف خصوصی ٹریبولز میں مقدمے چلا کر انہیں 1971 میں پاکستان کا ساتھ دینے کے الزام میں پھانسیاں دی گئیں۔ ان میں اکثر جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بزرگ لیڈر تھے جو بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کے دوران متحدہ پاکستان کے حامی تھے۔ ان لوگوں کو چن چن کر سزائیں دینے کا مطلب بنگلہ دیشی عوام کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے ملک میں دہشت کا ماحول پیدا کرنا تھا۔ اسی لیے حسینہ کی حکومت نے بیگم خالدہ ضیا کو مسلسل حراست میں رکھا اور ان کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کو آزادی سے سیاسی کام کرنے یا انتخابات میں حصہ لینے سے محروم کیا گیا۔ اب وقت کے تبدیل ہوتے ہوئے پہیے میں حسینہ شیخ خود اور ان کی پارٹی عوامی لیگ آئے ہوئے ہیں۔ ستم ظریفی ہے کہ انہیں سزائے موت دینے والا خصوصی ٹریبونل بھی اسی طرز پر قائم ہوا ہے جیسے ٹریبونل قائم کر کے انہوں نے متعدد لیڈروں کو ملک سے غداری کے الزام میں موت کی سزائیں دلوائی تھیں۔ نہ حسینہ شیخ نے انصاف نافذ کرنے کی کوشش کی تھی اور نہ ہی اب انہیں انصاف مل پا رہا ہے۔
بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے۔ ایک عوامی انقلاب کے نتیجے میں پاکستان سے علیحدہ ہو کر خود مختار ملک بننے کے بعد بنگلہ دیشی عوام مسلسل جبر و آمریت کا شکار رہے ہیں۔ کبھی فوج نے حکومت کی اور کبھی جمہوریت کے نام پر حکومت سنبھالنے والوں نے اپنا راستہ ہموار کرنے کے لیے سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی۔ حسینہ شیخ نے خاص طور سے اپنے 15 سالہ دور حکومت میں عوامی خواہشات نظر انداز کرنے اور سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے بدترین ریاستی جبر کا مظاہرہ کیا۔ تمام ریاستی اداروں پر ان کی پارٹی عوامی لیگ کے لیڈر اور کارکن مسلط کر دیے گئے تھے اور اختلاف رائے کے لیے سیاسی پارٹیوں یا میڈیا کا ہر راستہ مسدود کیا گیا۔ عوامی محرومیوں کے سبب اور عوامی لیگ کی بالادستی کے خلاف گزشتہ سال جولائی میں شروع ہونے والے طلبہ احتجاج کو سیاسی چابک دستی سے حل کرنے کی بجائے طاقت کا بھرپور استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ مظاہرین پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کے تشدد کے نتیجے میں 1400 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ مشتعل ہجوم جب وزیر ہاؤس پر دھاوا بولنے والا تھا اور فوج نے حسینہ شیخ کی حفاظت سے انکار کیا تو وہ آرمی چیف کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت بھارت فرار ہو گئیں۔
عوامی لیگ کی حکومت ختم ہونے کے بعد نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں ایک عبوری انتظامی حکومت قائم کی گئی ہے۔ اس انتظام کو حسینہ شیخ اور ان کی پارٹی عوامی لیگ غیر جمہوری اور ناجائز قرار دیتی ہے۔ نگران حکومت کے دور میں ہی حسینہ شیخ اور ان کے قریبی ساتھیوں کے گھروں کو تباہ کیا گیا۔ اور عوامی لیگ کے ہر مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ حکومت ملک کی اہم سیاسی پارٹی کو کسی قسم کا تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس وقت عوامی لیگ کے بیشتر لیڈر یا تو ملک سے فرار ہو کر بھارت یا کسی دوسرے ملک میں پناہ لیے ہوئے ہیں یا ان کی کثیر تعداد جیلوں میں بند ہے۔ کسی ایک لیڈر کی سیاسی غلطیوں کی سزا اس کے سیاسی حامیوں کو دینا کسی بھی قانون کے تحت جائز نہیں ہو سکتا لیکن جمہوری راستے سے جابرانہ حکومتیں قائم کرنے کا چلن صرف بنگلہ دیش تک ہی کی حد موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ راستہ کبھی بھی کسی ملک کے لیے امن یا خوشحالی کا پیغام نہیں لا سکتا۔
گزشتہ سال بنگلہ دیش میں ہونے والے تشدد میں 1971 کی جنگ کے بعد سب سے زیادہ لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود حکومتی انتظام سنبھالنے والے عناصر یہ باور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ عوام کے غصے اور احتجاج کا سلسلہ سیاسی پارٹیوں و لیڈروں کو نشانہ بنانے سے کم نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے ایک طرف عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی، دوسرے ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے انہیں ملکی سیاسی عمل کا باقاعدہ حصہ دار بنایا جائے۔ حسینہ شیخ اور عوامی لیگ نے جو غلطی کی تھی، بدقسمتی سے بنگلہ دیش میں اب بھی اسے ہی دہرایا جا رہا ہے۔ بس اب یہ فرق پڑا ہے کہ پہلے عوامی لیگ کے مخالفین نشانے پر تھے اور ان عوامی لیگ خود ریاستی جبر و پابندیوں کا شکار ہے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے فروری 2026 میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن عوامی لیگ پر پابندی لگا کر اسے انتخابات میں حصہ لینے کا نا اہل قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ عوامی لیگ کی مقبولیت یا عوام کی طرف سے مسترد کرنے کا اختیار تو صرف عوام کو حاصل ہونا چاہیے۔ اگر عوام کو اس حق سے محروم کیا جائے گا تو ایسے انتخاب نہ تو جمہوری عمل کو مضبوط کریں گے اور نہ ہی عوام کے حقیقی نمائندے اقتدار تک پہنچ سکیں گے۔ عوامی لیگ کی جلاوطن لیڈر شپ کا بھی یہی موقف ہے کہ وہ کسی ایسے انتخاب کو نہیں مانیں گے جن میں عوامی لیگ کو مساوی بنیاد پر حصہ لینے کا موقع نہ دیا جائے۔
اگلے سال عام انتخابات سے پہلے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے ایک ناقابل اعتبار ٹریبونل کے ذریعے سابق وزیر اعظم کو سزائے موت دلا کر اپنے تئیں سیاسی ماحول صاف کرنے اور عوامی لیگ پر پابندی کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ اس فیصلہ کا اعلان ہونے سے پہلے حفاظتی انتظامات اور حسینہ شیخ کو سزائے موت کے اعلان کے بعد ہونے والے ملک گیر ہڑتال اور تشدد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ملک میں عوامی لیگ کی حمایت موجود نہیں ہے۔ بنگلہ دیش میں اس وقت سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے نظام حکومت مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس سے ملتے جلتے ہتھکنڈوں کا مشاہدہ اہل پاکستان بھی کرتے رہے ہیں۔ تاہم یہی اصول مسلمہ ہے کہ عوام کی رائے تبدیل کرنے کے لیے ریاستی جبر اور آزادی رائے پر پابندیاں کار آمد نہیں ہو سکتیں۔
حسینہ شیخ کو اس کے جرائم کی سزا ضرور ملنی چاہیے لیکن آمرانہ ہتھکنڈوں سے ملک پر 15 سال مسلط رہنے والے لیڈر کی حقیقی سزا یہ ہوگی کہ عوام اس کی اصلیت سے آگاہ ہوں اور اپنے ووٹ سے اسے مسترد کریں۔ مشکوک عدالتوں سے سیاسی بنیاد پر سنگین سزائیں دلا کر درحقیقت ایسے لیڈروں کے لیے عوام ہمدردی کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔ لگتا ہے حسینہ شیخ اور عوامی لیگ کو ڈھاکہ کی عدالت سے ملنے والی سزا کا سیاسی فائدہ ہو گا۔ کیوں کہ یہ سزا ایک مشکوک ماحول میں دی گئی ہے اور اسے عوامی لیگ کو سیاسی طور سے ختم کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا جائے گا۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
اسد الزمان خان کمالبنگلہ دیشسابق بنگالی وزیر داخلہشیخ حسینہ واجدعوامی لیگ
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
نیا سماجی معاہدہ ناگزیر ہو چکا ہے/ڈاکٹر راجہ قیصر احمد
اگلی پوسٹ
ناروے نے اٹلی کو شکست دے کر 28 سال بعد فیفا ورلڈ کپ میں جگہ بنا لی

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

حسینہ کے حامیوں نے وزیر اعظم کی سزائے...

15:18 | پیر دسمبر 1، 2025

سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی صحت انتہائی...

04:00 | اتوار نومبر 30، 2025

کیا ہم انتخابی عمل سے لا تعلق ہو...

12:39 | جمعرات نومبر 27، 2025

سزائے موت کے فیصلے کے بعد شیخ حسینہ...

12:46 | پیر نومبر 24، 2025

وعدے کا بوجھ/ثاقب سلیم ستی

15:01 | بدھ نومبر 19، 2025

پی آئی اے اور بنگلہ دیش کی بمان...

15:24 | پیر نومبر 17، 2025

سزائے موت کی سزا: بنگلہ دیش کا شیخ...

13:40 | پیر نومبر 17، 2025

سابق وزیراعظم حسینہ واجدکو انسانیت کے خلاف جرائم...

08:29 | پیر نومبر 17، 2025

لیبیا کے ساحل پر تارکین وطن کی دو...

03:25 | اتوار نومبر 16، 2025

ویسٹ انڈیز نے ون ڈے کرکٹ کی 54...

14:07 | منگل اکتوبر 21، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظور

  • یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں کروڑوں افراد بیروزگار ہونے کا خطرہ

  • بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ سازوں کی آمدنی میں اضافہ: SIPRI رپورٹ: ایس اے شہزاد

  • بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟

  • حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کردی

  • آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید مجاہد علی

  • کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے لے گی؟/جانتھن مارگولس

  • قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35 کیوں حذف کی گئی؟

  • 3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی کو فرق ہی نہیں پڑا! محمد توحید

  • گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد

  • ائیر انڈیا کا احمد آباد طیارہ حادثہ مشکوک ہے: امریکی اخبار کا الزام

  • امریکہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں گرفتارشخص پاکستانی نہیں: دفتر خارجہ پاکستان

  • کرپشن پر آئی ایم ایف رپورٹ چارج شیٹ قرار دی گئی

  • فضائی آلودگی: نئی دہلی میں دو سال میں سانس کی بیماری کے دو لاکھ سے زائد کیسز

  • نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے سے افغانستان کی عوام یا حکومت کا کوئی تعلق نہیں/افغان وزیر خارجہ

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ

  • امریکہ میںپاکستانی نژادنوجوان غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودیہ میں ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات بے نتیجہ ختم

  • وفاقی وزارت تجارت کاانسانی بنیادوں پر طورخم اور چمن تجارتی گزرگاہوں کو کھولنےکا فیصلہ

  • جنوبی افریقا نے دوسرے ون ڈے میں بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی

مقبول ترین

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ