Top Posts
دہشتگردی کا نیا خطرہ افغانستان سے اٹھ رہا...
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت...
کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کا...
دوسرا ٹی ٹوئنٹی: بھارت کو جنوبی افریقا کے...
مہنگائی اور کرپش کے خلاف مسلسل احتجاج پر...
جنرل فیض حمید عمران خان کے خلاف گواہ...
غزہ میں مسلسل دوسرے روز بارش سے اسرائیلی...
آسٹریا نے اسکولوں میں 14 سال سے کم...
یوکرین جیسے تنازعات تیسری عالمی جنگ تک پہنچ...
حمید کے بعد ثاقب نثارہو یا بانی پی...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

سعودی ولی عہد واشنگٹن میں: ممکنہ نتائج اور خطے پر اثرات

by TAK 13:51 | منگل نومبر 18، 2025
13:51 | منگل نومبر 18، 2025 40 views
40
یہ تحریرڈی ڈبلیو میں شائع ہوئی
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان غزہ جنگ بندی کے بعد پہلی بار امریکی صدرٹرمپ سے براہ راست ملاقات کریں گے۔
تجزیہ کار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی وائٹ ہاؤس آمد سے دو اہم نتائج کی توقع کر رہے ہیں: دوستانہ ملاقات اور متعدد معاہدوں پر دستخط۔ ۔
لندن کے تھنک ٹینک چھیتم ہاؤس کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پروگرام سے وابستہ نیل کویلیم نے ڈی ڈبلیو کو اس بارے میں بتایا، ”دونوں فریق یہ چاہیں گے کہ ملاقات کے بعد کوئی بڑا معاہدہ یا ایسی پیش رفت سامنے آئے جو اس ملاقات کو شاندار کامیابی ثابت کرے۔‘‘
محمد بن سلمان ، یا ایم بی ایس کے لیے یہ دورہ سیاسی منظرنامے پر ان کی مکمل واپسی کی علامت ہے۔ ان کا آخری دورہ 2018 ء میں ہوا تھا، جو سعودی ناقد جمال خاشقجی کے قتل کے باعث تنازع کا شکار رہا۔
صدر ٹرمپ کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں!
اس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات بڑی حد تک بحال ہو چکے ہیں۔ جنوری 2025 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر بنے تو ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ریاض کا تھا، جہاں انہوں نے امریکہ میں 600 ارب ڈالر (517 ارب یورو) کی سعودی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔
اس بار واشنگٹن میں دونوں فریقین کے درمیان مصنوعی ذہانت، سرمایہ کاری، دفاع، سلامتی اور جوہری امور پر بات چیت متوقع ہے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کی نازک صورتحال کے پیشِ نظر۔
جون میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں کئی روز تک جھڑپیں جاری رہیں۔ ستمبر میں اسرائیل نے قطر میں حماس کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا اور اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی سے ایک نازک جنگ بندی عمل میں آئی، جس نے غزہ میں تقریباً دو سالہ جنگ کو روک دیا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (ایم بی ایس) واشنگٹن میں ایک ایسے دفاعی معاہدے کے خواہاں ہیں جو کم از کم قطر کو صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی سکیورٹی ضمانتوں کے برابر ہو۔ قطر کو یہ معاہدہ اسرائیل کے حملے کے بعد ملا تھا، جو انتظامی حکم کے ذریعے نافذ ہوا۔
سعودی عرباور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں ایک معاہدہ زیر غور تھا، جس میں سکیورٹی ضمانتیں اور سعودی جوہری پروگرام شامل تھے۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد سعودی عرب نے واضح کر دیا کہ اسرائیل سے کسی بھی معاہدے کے لیے دو ریاستی حل ضروری ہے، جسے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مسترد کر دیا ہے۔
کیا شام اور لبنان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں؟
ٹرمپ کا ماننا ہے کہ سعودی عرب بالآخر ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو گا، لیکن فی الحال ایم بی ایس اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے پر آمادہ نہیں۔ اس کی بجائے سعودی عرب امریکہ سے فلسطینی ریاست کے لیے مضبوط حمایت اور غزہ میں جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر زور دے گا، جس میں اسرائیل کا انخلا، حماس کا غیر مسلح ہونا، عبوری انتظامیہ اور کثیر القومی سکیورٹی فورس کی تعیناتی شامل ہے۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 ء کو حماس کے اسرائیل پر حملے سے قبل، جس نے غزہ میں جنگ کو بھڑکایا، اسرائیل اور سعودی عرب امریکی ثالثی میں تعلقات معمول پر لانے کے ایک معاہدے کے قریب تھے، جو ابراہیمی معاہدوں کا حصہ تھا۔ دیگر عرب ممالک بشمول بحرین، متحدہ عرب امارات، سوڈان اور مراکش، پہلے ہی 2020ء اور 2021 ء میں اسرائیل سے تعلقات معمول پر لا چکے تھے۔
کون سی مشکلات آڑے آ رہی ہیں؟
سعودی عرب کے لیے یہ معاہدہ ایک سہ فریقی ڈیل ہوتا، جس میں امریکہ سکیورٹی ضمانتیں دیتا يعنی وہ تحفظ اور تعاون جو نیٹو کے رکن ممالک کو ملنے والی حمایت کے برابر ہو اور اس معاہدے میں سعودی عرب کے لیے ایک سول نیوکلیئر پروگرام بھی شامل ہوتا۔
تاہم غزہ میں جنگ کے آغاز کے ساتھ، سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کو اُس وقت تک کے لیے مسترد کر دیا ہے، جب تک کہ اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی قابل اعتبار راستہ نہ نکلے۔
اُدھر اس منصوبے کو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے عوامی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اس تضاد کے باوجود ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہسعودی عرب بالآخر ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ نومبر کے اوائل میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ٹرمپ نے پیش گوئی کی تھی کہ سعودی مملکت فلسطینی ریاست کے حوالے سے پیش رفت کے باوجود جلد ہی معاہدے میں شامل ہو جائے گی۔
ریاض کی کوششیں
ریاض حکومت، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو ”فیز ٹو‘‘ میں منتقل کرنے کے عزم کے ساتھ، فلسطینی ریاست کے لیے مضبوط امریکی حمایت پر زور دے گی۔ اس مرحلے میں غزہ سے اسرائیل کا انخلاء، حماس کو غیر مسلح کرنا، ایک عبوری اتھارٹی کا قیام اور غزہ میں ملٹی نیشنل سکیورٹی فورس کی تعیناتی شامل ہو گی۔
جاری تنازعات کے باوجود، دونوں فریق تیل کی پیداوار پر اختلاف رکھتے ہیں۔ امریکہ پیداوار میں اضافہ چاہتا ہے، جبکہ ریاض حکوعمت کمی کی خواہاں ہے کیونکہ قیمتیں اس کی توقعات کے مطابق نہیں ہیں۔
لندن میں قائم دفاعی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ (RUSI) میں مشرقِ وسطیٰ سکیورٹی کے مشیر مائیکل اسٹیفنز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،”ایک اور حساس مسئلہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال ہو سکتا ہے۔‘‘ تاہم اسٹیفنز کا ماننا ہے کہ یہ اختلافات ملاقات پر غالب نہیں آئیں گے۔ ان کے مطابق، ”یہ ایک نتیجہ خیز اور دوستانہ ملاقات ہو گی اور دیکھنا ہوگا کہ یہ کس سمت جاتی ہے کیونکہ ان کے سامنے کئی جغرافیائی سیاسی سوالات ہیں، جنہیں حل کرنا ہے۔‘‘
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
ڈونلڈ ٹرمپسعودی حکومتسعودی ولی عہدمحمد بن سلمانوائٹ ہاؤسواشنگٹن
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
غزہ میں کوئی بھی انسانی شکار کھیل سکتا ہے/وسعت اللہ خان
اگلی پوسٹ
بہار الیکشن میں مودی نے غیرمعمولی کامیابی کیسے حاصل کی؟ عامر خاکوانی

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

یوکرین جیسے تنازعات تیسری عالمی جنگ تک پہنچ...

04:19 | جمعہ دسمبر 12، 2025

امریکا وینزویلا کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے...

04:08 | جمعہ دسمبر 12، 2025

پاکستان میں ’جبر کی بڑھتی ہوئی مہم اور...

04:29 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے امریکی صدر...

03:47 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

صدر پیوٹن یوکرین کے ساتھ جنگ ختم کرنا...

03:52 | جمعرات دسمبر 4، 2025

اسلامو فوبیا دراصل ڈر اور خوف کی سیاست...

04:30 | بدھ دسمبر 3، 2025

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی رہائشیوں کے...

13:52 | منگل دسمبر 2، 2025

امریکی صدر افغانستان سے آنے والے تمام تارکین...

04:16 | منگل دسمبر 2، 2025

تضادات کا شکار وفاقی حکومت/سید مجاہد علی

13:17 | پیر دسمبر 1، 2025

پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کا امریکا...

07:54 | پیر دسمبر 1، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • دہشتگردی کا نیا خطرہ افغانستان سے اٹھ رہا ہے/شہباز شریف

  • حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت کے موقع پر آیت اللہ سیستانی کی نجف اشرف میں مومنین کے گروپ سے ملاقات

  • کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال نہیں ہونے دیں گے، سختی سے کارروائی ہوگی: امیر خان متقی

  • دوسرا ٹی ٹوئنٹی: بھارت کو جنوبی افریقا کے ہاتھوں شرمناک شکست کا سامنا

  • مہنگائی اور کرپش کے خلاف مسلسل احتجاج پر بلغاریہ کے وزیراعظم مستعفی

  • جنرل فیض حمید عمران خان کے خلاف گواہ بن سکتے ہیں: ذرائع

  • غزہ میں مسلسل دوسرے روز بارش سے اسرائیلی حملوں سے تباہ حال فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا

  • آسٹریا نے اسکولوں میں 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی عائد

  • یوکرین جیسے تنازعات تیسری عالمی جنگ تک پہنچ سکتے ہیں: امریکی صدر

  • حمید کے بعد ثاقب نثارہو یا بانی پی ٹی آئی سب کو سزا ملےگی: وزیر مملکت

  • امریکہ نے 6 بحری جہازوں اور وینزویلا کے صدر کے خاندان کے 3 افراد پر پابندیاں عائد کر دیں

  • چین کے بڑے فضائی ڈرون کیریئر جیو تیان (Jiu Tian) نے اپنی پہلی آزمائشی پرواز مکمل کرلی

  • مشکل حالات اور سیلاب کے باوجود پاکستانی معیشت مستحکم ہوئی: آئی ایم ایف

  • امریکا وینزویلا کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف زمینی کارروائی کا عندیہ دیدیا۔

  • ہر صبح گرم پانی میں لیموں کا عرق ملا کر پینے سے واقعی کوئی فائدہ ہوتا ہے؟

  • ہندوستان کی جانب سے پاکستانیوں کو بے دخل کرنے سے خاندان اب بھی تقسیم ہیں/ شہریار حسن

  • افغانستان قیادت دہشت گردی کے خلاف تحریری ضمانت دے: پاکستان

  • حکومت اور پی ٹی آئی ’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ پر پہنچ چکی ہیں؟

  • پاکستان میں گاڑیوں پر ڈسکاؤنٹ، عارضی رعایت یا مارکیٹ میں سخت مقابلے کا آغاز؟

  • کیا نواز شریف اپنی سیاسی وراثت بچانا چاہتے ہیں؟ سید مجاہد علی

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ