جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں شدید مہنگائی، روزگار کے مخدوش حالات اور صحت و تعلیم کی خدمات تک ناقص رسائی کے باعث لاکھوں لوگ خطرات مول لے کر ہجرت کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا ہے دونوں خطوں سے مہاجرت اختیار کرنے والے بیشتر لوگوں مجبوری کے تحت یہ قدم اٹھاتے ہیں کیونکہ اپنے ممالک میں ان کے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق غیرمحفوظ ہیں۔ غربت، بے روزگاری، ناقص عوامی خدمات اور موسمیاتی تبدیلیاں روزگار کے مواقع کو محدود کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کے پاس ہجرت کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچتا۔
جنوب مشرقی ایشیا میں ‘او ایچ سی ایچ آر’ کی سربراہ سنتھیا ویلیکو نے کہا ہے کہ ہجرت مایوسی سے جنم لینے والی مجبوری نہیں بلکہ انتخاب ہونا چاہیے۔ جب لوگوں کو اپنے ممالک میں مناسب روزگار، معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں نہیں ملتیں تو وہ غیر محفوظ ہجرت اور استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے انہیں اور ان کے خاندانوں کو شدید نقصان ہوتا ہے۔
7 کروڑ 20 لاکھ ہجرتیں
2024 میں جنوبی و جنوب وسطی ایشیا خطے سے سات کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ایک سے دوسرے ملک میں مہاجرت اختیار کی جو 2020 کے مقابلے میں تقریبا 13 فیصد اضافہ ہے۔ تمام بین الاقوامی مہاجرین میں سے تقریباً ایک چوتھائی اسی خطے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں بالخصوص نوجوانوں اور خواتین کو بے روزگاری، کم اجرتوں اور جنس پر مبنی امتیاز جیسے مسائل کا سامنا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی زراعت اور غیر رسمی کام کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
خوراک اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور مقامی کرنسی کی قدر میں کمی نے غریب گھرانوں پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے جو پہلے ہی اپنی نصف سے زیادہ آمدنی خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ تعلیم و صحت کی سہولتوں اور مستحکم روزگار کی کمی کے باعث بہت سے لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے ہجرت کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔
گزشتہ سال اس خطے میں کم از کم 2,514 مہاجرین کی ہلاکت ہوئی جو یہاں کسی ایک سال میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ اموات اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 59 فیصد زیادہ ہیں۔
مایوس کن مستقبل
ادارے نے بتایا ہے کہ خطے کے کئی حصوں میں مستقبل سے مایوسی کا احساس بڑھ رہا ہے جہاں لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں عزت کی زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
سنتھیا ویلیکو کا کہنا ہے کہ یہ صرف انفرادی خواہشات نہیں بلکہ تعلیم، صحت کی سہولیات، مناسب کام اور صحت مند ماحول انسانی حقوق ہیں اور ریاستوں کو اپنے شہریوں کے یہ حقوق یقینی بنانا چاہئیں۔
‘او ایچ سی ایچ آر’ نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے ترسیلات زر بہت سے خاندانوں اور ملکی معیشتوں کے لیے اہم ہوتی ہیں لیکن اکثر یہ شدید سماجی نقصانات کو چھپا لیتی ہیں۔ غریب گھرانے عام طور پر یہ رقومات بنیادی ضروریات جیسا کہ خوراک، روزمرہ کے اخراجات اور صحت کے ہنگامی مسائل کو حل کرنے پر خرچ کرتے ہیں جس سے تعلیم یا طویل مدتی استحکام کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ بچے والدین سے دور رہتے ہیں، خاندان کے معمر ارکان کو دیکھ بھال نہیں ملتی اور معاشرہ کام کی اہلیت رکھنے والے افراد کو کھو دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سفارشات
‘او ایچ سی ایچ آر’ نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع اور موسمیاتی تحفظ میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں اور وسائل تک منصفانہ رسائی کے ذریعے عدم مساوات میں کمی لائیں۔
دفتر نے محفوظ اور باقاعدہ ہجرت کے راستوں میں اضافے کے لیے کہا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ قرضوں اور مالیاتی پالیسیوں کو ریاستوں کی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کریں۔
شفقنا اردو
جمعتہ المبارک، 29 نومبر 2025
نوٹ: شفقنا نے یہ رپورٹ یو این سے لی