Top Posts
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف...
یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں...
بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ...
بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟
حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور...
آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید...
کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے...
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35...
3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی...
گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

ملاقات ہونے تک!تنویر قیصر شاہد

by TAK 13:17 | پیر دسمبر 1، 2025
13:17 | پیر دسمبر 1، 2025 39 views
39
یہ تحریر ایکسپریس نیوز میں شائع ہوئی
وزیر اعلیٰ کے پی کے، جناب محمد سہیل آفریدی، نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہر جمعرات کو اڈیالہ آئیں گے اور دھرنا دیں گے، یہاں تک کہ اُن کی ملاقات بانی پی ٹی آ ئی سے ہو جائے۔ نوجوان وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی صاحب کے اِس اعلان میں اُن کا جوان عزم جھلکتا ہے۔
سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیر اعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے ۔وہ ابھی صرف 36سال کی عمر ہی کے ہُوئے تھے کہ سی ایم کے خوابناک عہدے پر متمکن ہو گئے ۔ یہ ایک سیاسی کارکن کے لیے کامیابی کی معراج ہے ۔
انھوں نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی اعلان فرمایا تھا کہ اُن کے وزیر اعلیٰ بننے کا واحد مقصد اور ہدف ہی یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ زندان کے اندھیروں سے باہر نکالا جائے۔ سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ کے تخت پر بیٹھے ہوئے6 ہفتے گزر چکے ہیں ،مگر وہ اپنے قائد اور بانی پی ٹی آئی کو جیل سے رہا کروانا تو درکنار، اُن سے ایک بار بھی ملاقات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جمعرات پیروں، فقیروں اور صوفیائے کرام کا دن ہے، اس لیے ممکن ہے کہ سہیل آفریدی کے تازہ اعلان میں جمعرات کے کارن کچھ برکت پڑجائے اور وہ اپنے قائد سے ملنے اور انھیں قید و بند کی بندشوں سے نجات دلانے میں کامیاب ہو جائیں۔ یوں اُن کے اعلان کی شرم بھی رہ جائے گی۔
جناب سہیل آفریدی بحیثیتِ ایم پی اے، کے پی کے اسمبلی میں اسٹیبلشمنٹ اور شہبازحکومت پر مسلسل یوں گرجتے برستے رہے کہ پسِ دیوارِ زنداں بانی پی ٹی آئی کی بھرپور توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈا پور، بھی بانی صاحب کی آشیرواد ہی سے برسر اقتدار آئے تو آتے ہی اعلان کیا تھا کہ اُن کے وزیر اعلیٰ بننے کا واحد مقصد ہی یہ ہے کہ قید میں رکھے اپنے لیڈر کو باعزت جیل کی سلاخوں سے باہر لائیں۔19 ماہ اقتدار میں گزر گئے مگر علی امین اپنے اعلان میں مطلوبہ رنگ نہ بھر سکے۔ موصوف پر ’’دونوں طرف کھیلنے‘‘ کے الزامات بھی لگتے رہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اُن پر بانی پی ٹی آئی کے اعتماد کی بنیادیں لرزنے لگیں؛چنانچہ ڈیڑھ ماہ قبل انھیں بانی صاحب کے حکم اور اشارے پر وزارتِ اعلیٰ سے سبکدوش کر دیا گیا۔سبکدوشی سے علی امین گنڈا پور کو کوئی بڑا سیاسی ، سماجی اور معاشی دھچکا نہ لگا کہ وہ اقتدار سے محروم کیے جانے کی بُو پہلے سے ہی سو نگھ چکے تھے؛ چنانچہ اقتدار سے نکلنے یا نکالے جانے کے بعد انھوں نے فِیل مچایا نہ کوئی واویلا کیا۔ چپکے اور دلیری کے ساتھ اقتدار سہیل آفریدی کے ہاتھ میں تھمایا اور امن کے ساتھ ڈی آ ئی خان پدھار گئے۔
سہیل آفریدی کی آمد اور علی امین کی رخصت سے سب پر ایک بار پھر عیاں ہو گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی اپنی پارٹی اور اپنے ’’ماتحت‘‘ ارکانِ اسمبلی پر گرفت کس قدر مضبوط ہے۔ بطوررکن اسمبلی سہیل آفریدی نے طاقتوروں کے خلاف بیانات کے بعض ایسے گولے داغے تھے کہ کہا جانے لگا تھا کہ انھیں وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پر نہیں بیٹھنے دیا جائے گا۔ کشمکش کے عجب ماحول میں مگر وہ سی ایم بن ہی گئے۔ اسمبلی میں اُن سے اختلاف کیا گیا نہ اُن کے خلاف کوئی فارورڈ بلاک بن سکا۔ یہ اُن کی پہلی بڑی کامیابی تھی۔
وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے ہی موصوف نے پہلا بڑا اعلان یہ کیا تھا کہ جب تک بانی صاحب سے میری ملاقات نہیں کروائی جاتی، وہ اپنی کابینہ نہیں بنائیں گے۔ مگر جب انھوں نے یہ دیکھا اور محسوس کیا کہ ہوائیں ناموافق اور ناسازگار ہیں تو وہ اپنے دبنگ اعلان سے دستکش بھی ہو گئے اور اپنی کابینہ بھی تشکیل دے ڈالی۔ یوں سہیل آفریدی صاحب پر پہلی بار یہ حقیقت روشن ہوئی کہ اپنے اعلان کی لاج رکھنا اتنا آسان بھی نہیں ہے، اور یہ بھی کہ جن کی مٹھی میں طاقتیں ہیں، اُن کے سامنے ضد اختیار کرنا دراصل دیوار سے سر پھوڑنے کے برابر ہے۔
کابینہ تشکیل دے کر انھوں نے حکمت و دانائی کا مظاہرہ کیا۔ ساتھ ہی مگر مخالفین کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ کابینہ ترتیب دینا آفریدی صاحب کی پہلی پسپائی ہے۔ اب نئے حالات میں اُن کے دوسرے اعلان کی حقیقت بھی جلد ہی سامنے آجائے گی۔ پسِ دیوارِ زنداں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا پی ٹی آئی اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا آئینی، اخلاقی اور قانونی حق ہے۔ کوئی بھی اِس حق کی نفی نہیں کر رہا مگر اِس حق کے حصول کے لیے دباؤ اور دھونس کے جو حربے اور ہتھکنڈے بروئے کار لائے جا رہے ہیں، وہ شاید مناسب نہیں ہیں ۔ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرگان اڈیالہ جیل کے باہر آئے روز دھرنا دیتی نظر آ رہی ہیں ۔
سڑکیں بلاک کر دی جاتی ہیں۔ عوام کی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ سڑکیں بلاک کرنے اور دھرنا دینے والی ہمشیرگان کا مقصد بھی شاید یہی ہوتا ہے کہ عوامی پریشانی سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا تو بھائی سے ملاقات کے لیے دروازے بھی کھل جائیں گے ۔سہیل آفریدی بھی پشاور سے اڈیالہ جیل آتے ہیں تاکہ ملاقات ہو جائے ۔
ساتھ ہی انڈین میڈیا اور افغان طالبان کے سوشل میڈیا ( جن کے ڈانڈے مبینہ طور پر بھارت ہی سے مل رہے ہیں) نے یہ درفنطنیاں چھوڑی ہیں کہ بانی پی ٹی آئی ، خدانخواستہ، جیل میں بخیریت نہیں ہیں ۔ اِن سے متاثر ہو کر حتیٰ کہ سابق وزیر اعظم کی پوتی اور سابق وزیر اعظم کی بھتیجی ،محترمہ فاطمہ بھٹو، نے بھی اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے : بانی پی ٹی آئی سابق وزیر اعظم ہیں، اُن سے ملاقات نہ کروانے کے لیے حکومت کو بہانے نہیں ڈھونڈنے چاہئیں۔
بانی پی ٹی آئی کی خیریت اور صحت سب کو عزیز ہونی چاہیے ۔ وہ قیدی ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اُن کے فیملی ممبرز، وکلا ، پارٹی وابستگان اور عشاق کو اُن کی خیر خیریت سے باقاعدہ آگاہ ہی نہ کیا جائے ۔ سہیل آفریدی صاحب اگر ایسے مشکوک اور مشتبہ ماحول میں بانی صاحب اور اپنے قائد سے ملاقات پر مُصر ہیں تو اِس میں بے جا عنصر کوئی کارفرما نہیں ہے۔ سہیل آفریدی شاید اِسی فرسٹریشن میں یہ کہنے پر مجبور ہُوئے ہیں کہ (۱) میرا پاسپورٹ بلاک کیا گیا ہے جب کہ ایک وزیر اعلیٰ کو سرکاری جہاز پر ملک سے باہر بھیجا گیا (۲) مجھے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے بھی ملنے سے انکار کر دیا (۳) مجھ سے اور میرے صوبے کے عوام سے امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔شکوؤں اور شکایات کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی ۔دوسری جانب وفاقی وزرا بیانات پر بیانات دے رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی مکمل خیریت سے ہیں اور اڈیالہ ہی میں ہیں۔
ساتھ ہی وزیر اطلاعات سے منسوب یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ’’ بانی سے ملاقات کرانے کا مطالبہ غیر قانونی ہے ۔‘‘ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تو بالآخر کروا ہی دی جائے گی کہ دباؤ متنوع ہیں ۔ سہیل آفریدی صاحب کو مگر شکوہ ہے کہ انھیں 8مرتبہ بانی صاحب سے ملاقات کروانے سے انکار کیا گیا ہے اور یہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ کی ’’صریح توہین ‘‘ ہے ۔ نون لیگی سینیٹر اور وزیر اعظم کے سیاسی مشیر، رانا ثناء اللہ، کا خصوصاً یہ کہنا کہ ’’نومبر کے مہینے میں پی ٹی آئی کے افراد کو بانی سے اس لیے لیے نہیں ملنے دیا گیا کہ یہ لوگ ایک بار پھر26نومبر دہرانے کا پروگرام بنا رہے تھے ۔‘‘
فریقین کے ایک دوسرے سے گلے شکوے اپنی جگہ اہم ہیں ۔ پی ٹی آئی کے کئی ’’اقدامات‘‘ کے پس منظر میں حکومت کو پی ٹی آئی کے لیڈروں سے جو شکایات ہیں، وہ بھی قابلِ نظر انداز نہیں ہیں ۔ مثال کے طور پر بانی پی ٹی آئی کی ایک ہمشیرہ کا انڈین میڈیا کو انٹرویو۔ اور پی ٹی آئی کے ارکانِ پارلیمنٹ کی یہ غیر مبہم دھمکی کہ ’’جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جاتی ، پارلیمنٹ کو نہیں چلنے دیا جائے گا۔‘‘ کل منگل کے لیے عالیہ حمزہ کی دھمکی بھی موجود ہے۔ پارلیمنٹ کا کام البتہ نہیں رکے گا، مگر کہا جارہا ہے کہ اب دسمبر کے شروع ہوتے ہی بانی سے ملاقاتیں بھی شروع ہو جائیں گی کہ’’ نومبر کا موہوم خطرہ‘‘ بھی ٹل چکا ہے ۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
اڈیالہ جیلبانی پی ٹی آئی عمران خانخیبر پختونخواہشہباز حکومتعلی امین گنڈا پورمحمد سہییل آفریدیوزیر اعلی کے پی کے
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
نور مقدم کیس میں تکلیف دہ اضافی نوٹ/محمد بلال غوری
اگلی پوسٹ
تضادات کا شکار وفاقی حکومت/سید مجاہد علی

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

ایک نوٹی فکیشن کو قومی سانحہ بنانے کا...

13:30 | بدھ دسمبر 3، 2025

بانی پی ٹی آئی صحت یاب ہیں: بہن...

15:14 | منگل دسمبر 2، 2025

’پیغامات‘ اور ’انارکی کا خدشہ‘: اڈیالہ جیل میں...

13:29 | منگل دسمبر 2، 2025

پی ٹی آئی احتجاج: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد...

04:14 | منگل دسمبر 2، 2025

عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کی صورت...

03:58 | پیر دسمبر 1، 2025

کیا خیبر پختونخواہ میں گورنر راج لایا جارہاہے؟

13:01 | اتوار نومبر 30، 2025

عمران خان کی رہائی۔ سنجیدہ حکمتِ عملی کی...

16:15 | ہفتہ نومبر 29، 2025

سسٹینیبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن رپورٹ/پاکستان میں رواں برس...

15:44 | ہفتہ نومبر 29، 2025

حالات خراب ہوئے تو کنٹرول نہیں ہوسکیں گے:...

03:45 | ہفتہ نومبر 29، 2025

امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر اڈیالہ...

18:12 | جمعہ نومبر 28، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظور

  • یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں کروڑوں افراد بیروزگار ہونے کا خطرہ

  • بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ سازوں کی آمدنی میں اضافہ: SIPRI رپورٹ: ایس اے شہزاد

  • بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟

  • حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کردی

  • آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید مجاہد علی

  • کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے لے گی؟/جانتھن مارگولس

  • قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35 کیوں حذف کی گئی؟

  • 3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی کو فرق ہی نہیں پڑا! محمد توحید

  • گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد

  • ائیر انڈیا کا احمد آباد طیارہ حادثہ مشکوک ہے: امریکی اخبار کا الزام

  • امریکہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں گرفتارشخص پاکستانی نہیں: دفتر خارجہ پاکستان

  • کرپشن پر آئی ایم ایف رپورٹ چارج شیٹ قرار دی گئی

  • فضائی آلودگی: نئی دہلی میں دو سال میں سانس کی بیماری کے دو لاکھ سے زائد کیسز

  • نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے سے افغانستان کی عوام یا حکومت کا کوئی تعلق نہیں/افغان وزیر خارجہ

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ

  • امریکہ میںپاکستانی نژادنوجوان غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودیہ میں ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات بے نتیجہ ختم

  • وفاقی وزارت تجارت کاانسانی بنیادوں پر طورخم اور چمن تجارتی گزرگاہوں کو کھولنےکا فیصلہ

  • جنوبی افریقا نے دوسرے ون ڈے میں بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی

مقبول ترین

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ