Top Posts
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف...
یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں...
بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ...
بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟
حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور...
آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید...
کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے...
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35...
3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی...
گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

پاکستان میں کم از کم اجرت کے نفاذ کا بحران/عابدہ علی

by TAK 13:29 | منگل دسمبر 2، 2025
13:29 | منگل دسمبر 2، 2025 25 views
25
یہ تحریر ہم سب نیوز میں شائع ہوئی
قانونی طور پر کم از کم اجرت کے قانونی حق کے باوجود، پاکستان میں لاکھوں مزدور خاص طور پر غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے محنت کش منصفانہ اور باعزت روزگار اور اجرت دونوں سے محروم ہیں۔ کم از کم اجرت اور ایک باوقار زندگی گزارنے کے لیے درکار اجرت کے درمیان خلیج کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں ہے۔ یہ سیاسی غفلت، کارپوریٹ اثر و رسوخ اور ریاستی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ مہنگائی، نفاذ کی کمی اور کمزور مزدور تحریک ہر سال اس خلیج کو اور وسیع کرتی ہیں۔
پاکستان میں کم از کم اجرت کے لیے قانون سازی کا باقاعدہ آغاز 1961 کے کم از کم اجرت آرڈیننس سے ہوا، جسے بعد میں 1969 کے غیر ہنر مند مزدوروں کے لیے کم از کم اجرت آرڈیننس نے تبدیل کر دیا۔ 2010 میں 18 ویں ترمیم کے بعد ، صوبوں کو اجرت مقرر کرنے کے اختیارات مل گئے، جنہوں نے اپنے اپنے قوانین بنائے۔ اگرچہ یہ قوانین مزدوروں کے تحفظ کے نام پر متعارف کرائے گئے تھے، لیکن ان کا نفاذ ندارد رہا ہے۔ اجرت بورڈز اور لیبر ڈیپارٹمنٹ مہنگائی معاشی تنظیم نو کے ساتھ قدم نہیں ملا پائے۔ پاکستان میں اجرت کے تعین کا عمل ایک سہ فریقی ڈھانچے پر مبنی ہے۔ آجر، حکومت اور مزدور نمائندے۔ بظاہر، یہ ڈیزائن متوازن ہے درحقیقت ایک ایسی قانونی نظام کی غمازی کرتا ہے جو اشرافیہ کے معاشی مفادات کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے، نہ کہ مزدور طبقے کے ساتھ۔
حالیہ برسوں میں کم از کم اجرت میں اضافے کو ”سائنسی“ طور پر مہنگائی کے تناسب سے منسلک کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آجر طبقہ طے کرتا ہے کہ کیا قابل عمل ہے 2023 میں حکومت نے کم از کم اجرت 32000 روپے مقرر کی؛ 2024 میں یہ 37000 اور رواں سال 40000 روپے ہو گئی۔ دوسری طرف پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق 2023 میں اوسطاً مہنگائی 30 % اور 2024 میں 25 % سے زائد رہی چنانچہ یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ کم از کم اجرت میں یہ اضافے محض نمائشی ہیں مزدور طبقے کی قوت خرید درحقیقت کم ہو رہی ہے
غیر رسمی اور چھوٹے و درمیانے درجے کی فیکٹریوں کے مالکان ٓکھلم کھلا کم از کم اجرت کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں شکایتی نظام کمزور ہے، لیبر معائنے شاذ و نادر ہوتے ہیں، اور جب سال کے وسط میں اجرت میں اضافہ کیا جاتا ہے، تو مزدوروں کو اضافے کے مطابق پچھلی اجرت یعنی ایریرز ادا نہیں کیے جاتے۔
کم از کم اجرت میں اضافے کے خلاف ایک عام دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس سے روزگار یا معاشی ترقی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ تاہم، یہ دعویٰ تحقیق کی روشنی میں بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔ حقیقی دنیا کے اعداد و شمار اور معاشی تحقیق نے بار بار ثابت کیا ہے کہ کم از کم اجرت میں اضافے سے روزگار کے مواقع کم نہیں ہوتے بلکہ یہ اکثر وسیع تر معاشی فوائد پیدا کرتے ہیں۔
یہ کھوکھلا قانونی ڈھانچہ جس میں پرانے قوانین، بیوروکریٹک جمود اور عدالتی بے حسی شامل ہے ایک ایسی ثقافت کو جنم دیتا ہے جہاں اجرت کی چوری معمول ہے۔ آجر قانونی خلا اور نفاذ کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لاکھوں مزدوروں کو ان کا حق دینے سے انکار کرتے ہیں۔ معاوضہ مہینوں یا سالوں تک روک لیا جاتا ہے، جو مزدوروں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے اور ان کی عزت نفس کو چھین لیتا ہے۔ اس سلسلے میں ریاست کی خاموشی قابل غور ہے۔ اجرت کی چوری محض لیبر قانون کی خلاف ورزی نہیں یہ استحصال کا ایک ایسی شکل ہے، جو طبقاتی تفریق کو برقرار رکھنے اور غربت کو گہرا کرنے کا ذریعہ ہے۔
پاکستان کے لیبر ڈیپارٹمنٹس کو معائنوں اور جرمانوں کے ذریعے اجرت کے قوانین کو نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ لیکن انہیں منظم طور پر وسائل اور خودمختاری سے محروم رکھا گیا ہے۔ سیاسی مداخلت عام ہے۔ بدعنوانی خلاف ورزی کرنے والوں کو بچا لیتی ہے۔ خواتین مزدوروں کے لیے، یہ رجحان اور بھی ظالمانہ ہے۔ جب لیبر انسپکٹرز ان فیکٹریوں کو نظر انداز کرتے ہیں جو خواتین کو آدھی اجرت ادا کرتی ہیں، تو وہ پدرشاہی استحصال کے آلے کار بن جاتے ہیں آجر جانتے ہیں کہ اجرت کے قوانین کی خلاف ورزی پر بالعموم کوئی سزا نہیں ہوتی۔
فوجی آمریتوں اور نیو لبرل حکومتوں نے یکساں طور پر یونین سرگرمی کو غیر قانونی بنا دیا ہے۔ آج، صرف 2۔ 3 فیصد مزدور یونین میں منظم ہیں، زیادہ تر سرکاری شعبے میں۔ نتیجہ اجرت کے سوال کا غیر سیاسی ہو جانا ہے : جو کبھی ایک اجتماعی مطالبہ تھا، اب وہ بیوروکریسی کی کاغذی کارروائی بن چکا ہے۔
موجودہ کم از کم اجرت 40000 روپے ہے جو افافی اجرت کے سب سے محتاط اندازوں۔ جو 000 75 سے 000 103 روپے فی خاندان ہیں سے کہیں کم ہے۔ یہ خلیج ظلم کا ایک سوچا سمجھا طریقہ ہے جو لاکھوں کو مکمل وقت ملازمت کے باوجود غربت میں رکھتا ہے۔ اسے بدلنے کے لیے ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے : اشرافیہ کی خدمت گزار پالیسی سے عوامی مرکوز انصاف کی طرف منتقلی۔ پاکستان کا کم از کم اجرت کا نظام ایک دکھاوا ہے جو سرمائے کے ساتھ ریاست کی وفاداری کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ اس کی ناکامی انتظامی نہیں ہے۔ یہ مزدور طبقے کیے ساتھ غداری ہے۔ مزدور حقوق کو بحال کرنے کے لیے، جدوجہد کو معاشی اور نظریاتی دونوں سطح پر لڑنا ہو گا۔ سائنسی اجرت کا تعین، خودکار ایڈجسٹمنٹ اور مزدور تنظیم سازی، در حقیقت معاشی انصاف اور انسانی وقار میں جڑے مطالبات ہیں جو محنت کش طبقے کو سرمایہ دارانہ نظام سے مکمل آزادی تک سہی سمت متعین کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
پاکستان اجرت آرڈیننسپاکستان لیبر ڈیپارٹمنٹسپاکستان میں کم سے کم اجرتمزدور تحریک
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
’پیغامات‘ اور ’انارکی کا خدشہ‘: اڈیالہ جیل میں عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ کیا ہے؟
اگلی پوسٹ
عمران خان کہاں اور کس حال میں ہیں؟

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظور

  • یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں کروڑوں افراد بیروزگار ہونے کا خطرہ

  • بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ سازوں کی آمدنی میں اضافہ: SIPRI رپورٹ: ایس اے شہزاد

  • بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟

  • حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کردی

  • آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید مجاہد علی

  • کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے لے گی؟/جانتھن مارگولس

  • قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35 کیوں حذف کی گئی؟

  • 3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی کو فرق ہی نہیں پڑا! محمد توحید

  • گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد

  • ائیر انڈیا کا احمد آباد طیارہ حادثہ مشکوک ہے: امریکی اخبار کا الزام

  • امریکہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں گرفتارشخص پاکستانی نہیں: دفتر خارجہ پاکستان

  • کرپشن پر آئی ایم ایف رپورٹ چارج شیٹ قرار دی گئی

  • فضائی آلودگی: نئی دہلی میں دو سال میں سانس کی بیماری کے دو لاکھ سے زائد کیسز

  • نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے سے افغانستان کی عوام یا حکومت کا کوئی تعلق نہیں/افغان وزیر خارجہ

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ

  • امریکہ میںپاکستانی نژادنوجوان غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودیہ میں ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات بے نتیجہ ختم

  • وفاقی وزارت تجارت کاانسانی بنیادوں پر طورخم اور چمن تجارتی گزرگاہوں کو کھولنےکا فیصلہ

  • جنوبی افریقا نے دوسرے ون ڈے میں بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی

مقبول ترین

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ