قانونی طور پر کم از کم اجرت کے قانونی حق کے باوجود، پاکستان میں لاکھوں مزدور خاص طور پر غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے محنت کش منصفانہ اور باعزت روزگار اور اجرت دونوں سے محروم ہیں۔ کم از کم اجرت اور ایک باوقار زندگی گزارنے کے لیے درکار اجرت کے درمیان خلیج کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں ہے۔ یہ سیاسی غفلت، کارپوریٹ اثر و رسوخ اور ریاستی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ مہنگائی، نفاذ کی کمی اور کمزور مزدور تحریک ہر سال اس خلیج کو اور وسیع کرتی ہیں۔
پاکستان میں کم از کم اجرت کے لیے قانون سازی کا باقاعدہ آغاز 1961 کے کم از کم اجرت آرڈیننس سے ہوا، جسے بعد میں 1969 کے غیر ہنر مند مزدوروں کے لیے کم از کم اجرت آرڈیننس نے تبدیل کر دیا۔ 2010 میں 18 ویں ترمیم کے بعد ، صوبوں کو اجرت مقرر کرنے کے اختیارات مل گئے، جنہوں نے اپنے اپنے قوانین بنائے۔ اگرچہ یہ قوانین مزدوروں کے تحفظ کے نام پر متعارف کرائے گئے تھے، لیکن ان کا نفاذ ندارد رہا ہے۔ اجرت بورڈز اور لیبر ڈیپارٹمنٹ مہنگائی معاشی تنظیم نو کے ساتھ قدم نہیں ملا پائے۔ پاکستان میں اجرت کے تعین کا عمل ایک سہ فریقی ڈھانچے پر مبنی ہے۔ آجر، حکومت اور مزدور نمائندے۔ بظاہر، یہ ڈیزائن متوازن ہے درحقیقت ایک ایسی قانونی نظام کی غمازی کرتا ہے جو اشرافیہ کے معاشی مفادات کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے، نہ کہ مزدور طبقے کے ساتھ۔
حالیہ برسوں میں کم از کم اجرت میں اضافے کو ”سائنسی“ طور پر مہنگائی کے تناسب سے منسلک کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آجر طبقہ طے کرتا ہے کہ کیا قابل عمل ہے 2023 میں حکومت نے کم از کم اجرت 32000 روپے مقرر کی؛ 2024 میں یہ 37000 اور رواں سال 40000 روپے ہو گئی۔ دوسری طرف پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق 2023 میں اوسطاً مہنگائی 30 % اور 2024 میں 25 % سے زائد رہی چنانچہ یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ کم از کم اجرت میں یہ اضافے محض نمائشی ہیں مزدور طبقے کی قوت خرید درحقیقت کم ہو رہی ہے
غیر رسمی اور چھوٹے و درمیانے درجے کی فیکٹریوں کے مالکان ٓکھلم کھلا کم از کم اجرت کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں شکایتی نظام کمزور ہے، لیبر معائنے شاذ و نادر ہوتے ہیں، اور جب سال کے وسط میں اجرت میں اضافہ کیا جاتا ہے، تو مزدوروں کو اضافے کے مطابق پچھلی اجرت یعنی ایریرز ادا نہیں کیے جاتے۔
کم از کم اجرت میں اضافے کے خلاف ایک عام دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس سے روزگار یا معاشی ترقی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ تاہم، یہ دعویٰ تحقیق کی روشنی میں بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔ حقیقی دنیا کے اعداد و شمار اور معاشی تحقیق نے بار بار ثابت کیا ہے کہ کم از کم اجرت میں اضافے سے روزگار کے مواقع کم نہیں ہوتے بلکہ یہ اکثر وسیع تر معاشی فوائد پیدا کرتے ہیں۔
یہ کھوکھلا قانونی ڈھانچہ جس میں پرانے قوانین، بیوروکریٹک جمود اور عدالتی بے حسی شامل ہے ایک ایسی ثقافت کو جنم دیتا ہے جہاں اجرت کی چوری معمول ہے۔ آجر قانونی خلا اور نفاذ کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لاکھوں مزدوروں کو ان کا حق دینے سے انکار کرتے ہیں۔ معاوضہ مہینوں یا سالوں تک روک لیا جاتا ہے، جو مزدوروں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے اور ان کی عزت نفس کو چھین لیتا ہے۔ اس سلسلے میں ریاست کی خاموشی قابل غور ہے۔ اجرت کی چوری محض لیبر قانون کی خلاف ورزی نہیں یہ استحصال کا ایک ایسی شکل ہے، جو طبقاتی تفریق کو برقرار رکھنے اور غربت کو گہرا کرنے کا ذریعہ ہے۔
پاکستان کے لیبر ڈیپارٹمنٹس کو معائنوں اور جرمانوں کے ذریعے اجرت کے قوانین کو نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ لیکن انہیں منظم طور پر وسائل اور خودمختاری سے محروم رکھا گیا ہے۔ سیاسی مداخلت عام ہے۔ بدعنوانی خلاف ورزی کرنے والوں کو بچا لیتی ہے۔ خواتین مزدوروں کے لیے، یہ رجحان اور بھی ظالمانہ ہے۔ جب لیبر انسپکٹرز ان فیکٹریوں کو نظر انداز کرتے ہیں جو خواتین کو آدھی اجرت ادا کرتی ہیں، تو وہ پدرشاہی استحصال کے آلے کار بن جاتے ہیں آجر جانتے ہیں کہ اجرت کے قوانین کی خلاف ورزی پر بالعموم کوئی سزا نہیں ہوتی۔
فوجی آمریتوں اور نیو لبرل حکومتوں نے یکساں طور پر یونین سرگرمی کو غیر قانونی بنا دیا ہے۔ آج، صرف 2۔ 3 فیصد مزدور یونین میں منظم ہیں، زیادہ تر سرکاری شعبے میں۔ نتیجہ اجرت کے سوال کا غیر سیاسی ہو جانا ہے : جو کبھی ایک اجتماعی مطالبہ تھا، اب وہ بیوروکریسی کی کاغذی کارروائی بن چکا ہے۔
موجودہ کم از کم اجرت 40000 روپے ہے جو افافی اجرت کے سب سے محتاط اندازوں۔ جو 000 75 سے 000 103 روپے فی خاندان ہیں سے کہیں کم ہے۔ یہ خلیج ظلم کا ایک سوچا سمجھا طریقہ ہے جو لاکھوں کو مکمل وقت ملازمت کے باوجود غربت میں رکھتا ہے۔ اسے بدلنے کے لیے ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے : اشرافیہ کی خدمت گزار پالیسی سے عوامی مرکوز انصاف کی طرف منتقلی۔ پاکستان کا کم از کم اجرت کا نظام ایک دکھاوا ہے جو سرمائے کے ساتھ ریاست کی وفاداری کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ اس کی ناکامی انتظامی نہیں ہے۔ یہ مزدور طبقے کیے ساتھ غداری ہے۔ مزدور حقوق کو بحال کرنے کے لیے، جدوجہد کو معاشی اور نظریاتی دونوں سطح پر لڑنا ہو گا۔ سائنسی اجرت کا تعین، خودکار ایڈجسٹمنٹ اور مزدور تنظیم سازی، در حقیقت معاشی انصاف اور انسانی وقار میں جڑے مطالبات ہیں جو محنت کش طبقے کو سرمایہ دارانہ نظام سے مکمل آزادی تک سہی سمت متعین کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں