Top Posts
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف...
یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں...
بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ...
بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟
حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور...
آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید...
کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے...
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35...
3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی...
گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

ایک واقعہ، پوری ریاست ناکام: کیا ہم ’منفی نفسیات‘ کے قیدی ہیں؟ ڈاکٹر راجہ قیصر احمد

by TAK 13:29 | منگل دسمبر 2، 2025
13:29 | منگل دسمبر 2، 2025 32 views
32
یہ تحریر انڈی پینڈنٹ اردو میں شائع ہوئی
گیسٹالٹ نفسیات بیسویں صدی کی وہ فکری تحریک ہے جس نے انسانی ذہن، ادراک اور اجتماعی رویوں کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ دیا۔ اس نظریے کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ انسان کسی شے کو اس کے انفرادی اجزا میں نہیں بلکہ ایک مکمل، یکجا اور کلّی تصویر کی صورت میں دیکھتا ہے اور اس کا ذہن ٹکڑوں میں بٹی ہوئی حقیقت کو جوڑ کر ایک ایسا مفہوم تشکیل دیتا ہے جو ان ٹکڑوں کے مجموعے سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے۔
گیسٹالٹ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کل جزو کے مجموعے سے بڑا ہوتا ہے۔ سیاست، ریاستی نظم، معاشرتی شعور، میڈیا بیانیوں اور عوامی ذہنیت کو گہرائی سے متاثر کرتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں تاریخ، سیاست اور معاشرتی تصادم کی طویل اور پیچیدہ تاریخ موجود ہے، گیسٹالٹ نفسیات کا اصول ایک منفرد زاویے سے اجتماعی سوچ کی وضاحت کرتا ہے۔
پاکستان میں عام شہری حالات کو معروضی انداز میں نہیں دیکھتا۔ وہ ہمیشہ ایک بڑی، کلی، وسیع اور اکثر سطحی تصویر دیکھتا ہے، جس میں جزئیات کا تنقیدی مطالعہ موجود نہیں ہوتا۔ جب کوئی سیاسی یا ریاستی بحران سامنے آتا ہے، تو عوام اس کی گہرائی میں نہیں جاتے، بلکہ چند واقعات یا چند علامات کو جوڑ کر پورے نظام کے بارے میں فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ یہ عمومی تاثر کہ تمام سیاست دان کرپٹ ہیں۔
اسی طرح عدالت کا ایک متنازع فیصلہ پوری عدلیہ کی ساکھ کو ناکام بنا دیتا ہے۔ کسی پولیس اہلکار کی زیادتی پورے ادارے کو ظالم ثابت کرنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔ کسی سیاست دان کا سکینڈل پوری سیاست کو کرپٹ قرار دینے کا باعث بن جاتا ہے۔ اور کسی حکومتی اقدام کی ناکامی پوری ریاست کی ناکامی کی علامت کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔
یہی وہ طرزِ فکر ہے جو ادھوری معلومات سے ایک مکمل، مگر اکثر غلط، بڑی، اور دیرپا تصویر تخلیق کر دیتی ہے۔
میڈیا اس تصویر کو اور بھی مستحکم اور ڈرامائی شکل دیتا ہے۔ پاکستان کا میڈیا بحرانوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ ہر مسئلے کو قومی سطح کے خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ڈالر چند روپے بڑھ جائے تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب دکھایا جاتا ہے۔ بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہو تو حکومتی ناکامی کو حتمی سچ قرار دے دیا جاتا ہے۔ سیاسی اختلاف سامنے آئے تو جمہوریت کے خاتمے کی پیش گوئی شروع ہو جاتی ہے۔
جب میڈیا مسلسل منفی گیسٹالٹ تصویر بناتا ہے تو عوام کے ذہن میں ایک مستقل احساسِ خطرہ جنم لیتا ہے، جسے مشترکہ اضطراب کہا جاتا ہے۔ لوگوں کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ پوری ریاست ایک غیر یقینی مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔
گیسٹالٹ نفسیات کے مطابق ذہن ابہام اور تضاد کو برداشت نہیں کر پاتا۔ وہ ان کو خود ہی معنی دیتا ہے، چاہے وہ معنی حقیقت پر مبنی ہی کیوں نہ ہوں۔ پاکستان میں ریاستی پالیسیوں کا غیر مستقل ہونا اس بات کو مزید گمبھیر کردیتا ہے۔ ایک دن مذاکرات پر زور دیا جاتا ہے، اگلے دن قوت کے استعمال کی بات کی جاتی ہے۔ ایک دن الیکشن ناگزیر قرار دیے جاتے ہیں، اگلے دن حالات کے خلاف ہونے کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایک دن معاشی بہتری کے دعوے کیے جاتے ہیں، اگلے دن نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔
عوام ان تضادات سے ایک پیٹرن تشکیل دیتے ہیں۔ یہ کہ ریاست غیر منظم ہے، پالیسی بے سمت ہے، اور نظام بنیادی طور پر کمزور ہے۔ یہی ادھورا مگر طاقتور گیسٹالٹ عوام کے دلوں میں عدم اعتماد پیدا کرتا ہے۔
اداروں کے درمیان کشمکش بھی اسی بڑی تصویر کا حصہ بن جاتی ہے۔ جب عدالت، پارلیمان، حکومت، مقتدرہ قوتیں، سیاست دان اور میڈیا ایک دوسرے کے خلاف دکھائی دیتے ہیں، تو عوام چند جھلکیوں کو ملا کر نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ ملک پولارائزیشن کا شکار ہے۔ اکثر یہ تصویر حقیقت سے کہیں زیادہ مبالغہ آمیز ہوتی ہے، لیکن ذہن چونکہ ہمیشہ بڑے پیٹرن کی تلاش میں رہتا ہے، اس لیے وہ چند علامات کو جوڑ کر پوری ریاست کے بارے میں ایک مجموعی رائے بنا لیتا ہے۔ یہی وہ منفی گیسٹالٹ ہے جو پاکستان کو ایک خوف زدہ، بے یقینی اور بے اعتمادی کی فضا میں دھکیل دیتی ہے۔
اس منفی تصویر کا ایک بڑا اثر اجتماعی مایوسی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب ہر طرف سے بدحالی دکھائی جائے تو عوام کے ذہن میں امید مرنے لگتی ہے۔ مثبت پیش رفت کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، کیونکہ کلّی تصویر پہلے ہی منفی بنا دی گئی ہے۔ تعلیمی اصلاحات، صحت کے نظام میں بہتری، پولیس میں اصلاحاتی اقدامات، عدالتی فیصلوں میں شفافیت، یہ سب چیزیں عوامی شعور پر اثر انداز نہیں ہو پاتیں، کیونکہ ان کا ارتباط اس بڑی تصویر سے نہیں ہوتا جو عوام کے ذہن میں پہلے سے موجود ہے۔ یوں معاشرہ ایک مستقل شکست خوردگی کے إحساس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
گیسٹالٹ کی اسی طاقت کو مثبت سمت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر ریاست، سیاست، میڈیا اور سماجی قوتیں مجموعی تصویر کو درست سمت میں تشکیل دیں تو قومی نفسیات میں حیرت انگیز تبدیلی آ سکتی ہے۔ سب سے پہلے ریاستی بیانیے میں تسلسل اور شفافیت ضروری ہے۔ عوام کو ایسے اعلانات، پالیسیاں اور اقدامات چاہیے جن میں تضاد نہ ہو، اور جن سے یہ احساس پیدا ہو کہ ریاست کی سمت واضح ہے۔ جب ریاست ایک منظم، مرحلہ وار اور حقیقت پر مبنی تصویر دیتی ہے تو عوام بھی اطلاعات کو توازن کے ساتھ جوڑتے ہیں، اور مثبت گیسٹالٹ ابھرتا ہے۔
میڈیا کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہو گی۔ مسائل دکھانا ضروری ہے، لیکن ہر مسئلے کو تباہی کے زاویے سے پیش کرنا اجتماعی ذہنیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ میڈیا کا کردار صرف ہیجان برپا کرنا یا بحران دکھانا نہیں بلکہ اصلاحات، امید اور حقیقت پر مبنی معروضات پیش کرنا بھی ہے۔
گیسٹالٹ نفسیات ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسان حقیقت کو نہیں دیکھتا، وہ اس کے بارے میں اپنا ادراک دیکھتا ہے اور یہی ادراک ایک بڑی تصویر بناتا ہے اور قوموں کی سمت متعین کرتا ہے۔
تعلیمی نظام میں تنقیدی سوچ کا فروغ شاید وقت کی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ یہ عوام کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ادھوری معلومات سے بڑی تصویر نہ بنائیں، بلکہ حقائق اور جزئیات کا جائزہ لے کر خود نتیجہ اخذ کریں۔ جب عوام خود تجزیہ سازی کرتے ہیں تو بیانیہ سازی کی منفی طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ریاستی ڈھانچے، سیاسی عمل اور سماجی حرکیات میں پیچیدگیاں موجود ہیں، ضروری ہے کہ ایک ایسا ہم آہنگ مکالمہ قائم کیا جائے جو تمام سٹیک ہولڈرز، ریاستی اداروں، سیاست دانوں، سول سوسائٹی، ماہرینِ قانون و معیشت، اور نوجوان نسل کو ایک مشترکہ بیانیے میں جوڑ سکے۔ یہی قومی بیانیہ مثبت گیسٹالٹ تشکیل دے سکتا ہے۔
گیسٹالٹ نفسیات ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسان حقیقت کو نہیں دیکھتا، وہ اس کے بارے میں اپنا ادراک دیکھتا ہے اور یہی ادراک ایک بڑی تصویر بناتا ہے اور قوموں کی سمت متعین کرتا ہے۔ پاکستان کو ضرورت ہے کہ وہ یہ کلی تصویر کو درست، روشن اور حقیقت پسندانہ بنائے۔ اگر ہم ایسا کر لیں تو نہ صرف سیاسی استحکام ممکن ہے بلکہ قومی نفسیات بھی اعتماد، امید اور توازن کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو بحرانوں کے چکر سے نکال کر مستقبل کے ایک نئے افق کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ایک ایک ایسا مستقبل جو مثبت سوچ کی ترویج سے تشکیل پائے گا، نہ کہ خوف اور ہیجان کی ہماہمی سے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
پاکستان عدلیہگیسٹالٹگیسٹالسٹ نفسیات
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
عمران خان کہاں اور کس حال میں ہیں؟
اگلی پوسٹ
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی رہائشیوں کے لیے شراب کی فروخت پر عائد پابندیوں میں مزید نرمی

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

فوجی تقرریوں سے عدلیہ کی آزادی تک: ’27ویں...

15:32 | پیر نومبر 10، 2025

عدالتی فعالیت اور پاکستان میں جمہوری ارتقا کا...

14:04 | پیر مارچ 3، 2025

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں پاکستانی عدلیہ کیا...

15:22 | اتوار جنوری 19، 2025

آئینی بحران کا خطرہ؟ خلیل احمد نینی تال...

15:54 | اتوار اگست 18، 2024

ایجنسیاں عدلیہ پر دباؤ ڈالتی ہیں جس سے...

09:05 | جمعہ جون 28، 2024

عدلیہ کو زیادہ نقصان کون پہنچا رہا ہے؟/سید...

17:01 | جمعرات مارچ 28، 2024

آئین پاکستان کے ساتھ کھیلنا بند کیجیے

16:49 | پیر مئی 15، 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظور

  • یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں کروڑوں افراد بیروزگار ہونے کا خطرہ

  • بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ سازوں کی آمدنی میں اضافہ: SIPRI رپورٹ: ایس اے شہزاد

  • بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟

  • حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کردی

  • آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید مجاہد علی

  • کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے لے گی؟/جانتھن مارگولس

  • قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35 کیوں حذف کی گئی؟

  • 3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی کو فرق ہی نہیں پڑا! محمد توحید

  • گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد

  • ائیر انڈیا کا احمد آباد طیارہ حادثہ مشکوک ہے: امریکی اخبار کا الزام

  • امریکہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں گرفتارشخص پاکستانی نہیں: دفتر خارجہ پاکستان

  • کرپشن پر آئی ایم ایف رپورٹ چارج شیٹ قرار دی گئی

  • فضائی آلودگی: نئی دہلی میں دو سال میں سانس کی بیماری کے دو لاکھ سے زائد کیسز

  • نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے سے افغانستان کی عوام یا حکومت کا کوئی تعلق نہیں/افغان وزیر خارجہ

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ

  • امریکہ میںپاکستانی نژادنوجوان غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودیہ میں ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات بے نتیجہ ختم

  • وفاقی وزارت تجارت کاانسانی بنیادوں پر طورخم اور چمن تجارتی گزرگاہوں کو کھولنےکا فیصلہ

  • جنوبی افریقا نے دوسرے ون ڈے میں بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی

مقبول ترین

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ