Top Posts
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف...
یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں...
بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ...
بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟
حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور...
آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید...
کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے...
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35...
3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی...
گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

’پیغامات‘ اور ’انارکی کا خدشہ‘: اڈیالہ جیل میں عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ کیا ہے؟

by TAK 13:29 | منگل دسمبر 2، 2025
13:29 | منگل دسمبر 2، 2025 31 views
31
یہ تحریر بی بی سی اردو میں شائع ہوئی
سابق وزیرِ اعظم عمران خان گذشتہ تقریباً تین برسوں سے جیل میں قید ہونے کے باوجود خبروں میں رہتے ہیں کیونکہ ان سے ملاقات کرنے والے خاندان کے افراد اور پارٹی رہنما ان کے پیغامات میڈیا کے ذریعے ان کے حامیوں تک پہنچاتے رہتے ہیں۔
ان کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ تقریباً ایک مہینے سے ان کی ملاقات سابق وزیرِ اعظم سے نہیں کروائی گئی ہے کیونکہ ان کے مطابق ’حکومتی حکام نہیں چاہتے کہ عمران خان کے پیغامات جیل سے باہر آئیں۔‘
بی بی سی سے خصوصی گفتگو کے دوران عمران خان کی بہن نورین خان نے الزام عائد کیا کہ: ’ان (حکومتی حکام) کو اسی بات کی پریشانی ہے کہ باہر آ کر عمران خان کی بات بتائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے انھوں نے بالکل ملاقاتیں ختم کر دی ہیں۔‘
عمران خان کی بہنوں کا کہنا ہے پہلے ہر منگل کو عدالتی حکم کے مطابق ان کی ان کے بھائی سے ملاقات کروائی جاتی تھی لیکن ابھی ان کی آخری ملاقات عمران خان سے چار نومبر کو ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے تمام پارلیمنٹیرین نے منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر پرامن احتجاج کی کال دے رکھی ہے تاہم اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
عمران خان کی دوسری بہن علیمہ خان بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ چار نومبر کو جیل حکام نے نورین خان کی ملاقات عمران خان سے کروائی تھی اور ’اس کے بعد کسی سے ملنے نہیں دیا۔‘
عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے بیٹوں سمیت ’کسی سے بھی فون پر بات تک نہیں کروائی جا رہی۔‘ ان کے مطابق عمران خان کے بیٹے ’خط تک نہیں بھیج سکتے۔‘
سابق وزیرِ اعظم کی بہن نورین خان نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ‘پاکستانی حکومت اور اسٹیبلمشمنٹ عمران خان سے 9 مئی کی ذمہ داری قبول کروانا چاہتی ہے۔’
‘یہ چاہتے ہیں عمران خان ان سے معافی مانگیں کہ 9 مئی میں نے کروایا، توڑ پھوڑ میں نے کروائی، اپنے لوگوں کو میں نے خود گولیاں ماریں، شاید وہ یہی چاہتے ہیں۔’
نورین خان کے مطابق: ‘عمران خان نے ان کو ایک ہی جواب دیا تھا کہ آپ سی سی ٹی وی فوٹیج نکالیں، کینٹ کے اندر ناکے لگے ہوئے ہیں، کوئی یہاں پر نہیں گھس سکتا بغیر فوج کی نظر پڑے یا پھر کیمروں میں آئے بغیر۔’
واضح رہے کہ گزشتہ سال 9 مئی واقعے سے قبل فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری سے جب ایک پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی سے ممکنہ مذاکرات کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ ’اپنی ہی فوج پر حملہ آور انتشاری ٹولے سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔۔۔ ایسے انتشاری ٹولے کے لیے صرف ایک راستہ ہے کہ وہ قوم کے سامنے معافی مانگے اور وعدہ کرے کہ وہ نفرت کی سیاست چھوڑ کر تعمیری سیاست میں حصہ لے گا۔‘
حکومت کیا کہتی ہے؟
عمران خان کی خاندان سے ملاقات نہ ہونا صرف الزام نہیں ہے بلکہ حکومتی شخصیات بھی اس غیراعلانیہ پابندی کی تصدیق کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
سما ٹی وی کے ایک پروگرام میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’کوئی ایسا قانون نہیں ہے جو ایک سزا یافتہ قیدی کو اجازت دے کہ وہ جیل میں بیٹھ کر حکومت یا ریاست کے خلاف تحریک چلائے۔‘
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی خاندان سے ملاقات نہ کروانے پر نہ صرف پی ٹی آئی احتجاج کر رہی ہے بلکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پیر کو پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی پی) نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’عمران خان کو قریبی رشتہ داروں، ساتھیوں یا قانونی ٹیم سے ملاقات نہ کرنے دینے کے حوالے سے اطلاعات پر وضاحت سامنے آنی چاہیے کیونکہ خاندان اور قانونی مدد تک رسائی تنہائی میں رکھنے اور حراستی طاقت کے خلاف بنیادی تحفظ ہے۔‘
پی ٹی آئی کو ’مشکل وقت میں‘ چھوڑنے والے رہنما عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم: ’سیاسی درجہ حرارت کم کرنا ہوگا‘
گذشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر عمران خان کی خراب صحت اور جیل میں موت تک کی افواہیں پھیلی ہوئی تھیں، جن کی تردید حکومتی حکام کی جانب سے کی جا چکی ہے۔
عمران خان کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں پر ان کی بہن نورین خان کہتی ہیں کہ: ’مجھے نہیں پتا کہ یہ خبر کیسے پھیلی۔‘
ان کا الزام ہے کہ ’عمران خان کو جیل میں تکلیف دی جا رہی ہے، انھیں تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور یہ سب جیل قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘
عمران خان کی دوسری بہن بھی یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ افواہیں کہاں سے پھیلنا شروع ہوئیں۔
علیمہ خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ: ’افواہیں کہاں سے آئیں، جیل کے اندر سے کیسے آ گئیں؟ جو افواہیں پھیلاتے ہیں وہ جیل والے یا اسٹیبلشمنٹ والے ہی ہوں گے۔‘
انھوں نے دعویٰ کہ کیا ’کسی نے ہمیں کہا کہ یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کا ردِ عمل دیکھ سکیں۔ ہمیں کوئی معلومات نہیں ہے۔‘
تاہم چار نومبر کو عمران خان سے ملاقات کرنے والی ان کی بہن نورین خان کہتی ہیں کہ ان کے بھائی کی ’صحت بالکل ٹھیک تھی، خوراک بھی اپنے حساب سے کھاتے ہیں، ورزش بھی کرتے ہیں اور خود کو مضبوط بھی دکھاتے ہیں۔‘
’کھانا وہاں (جیل میں) وہی پکتا ہے جو عمران خان کہتے ہیں اور ان کے پیسوں سے پکتا ہے۔‘
خاندان سے ملاقات نہ کروانے کی اطلاعات پر جیل حکام کی جانب سے تو کوئی واضح بیان نہیں جاری کیا گیا، لیکن وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا الزام ہے کہ عمران خان جیل میں بیٹھ کر ’انارکی اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے سما ٹی وی کے پروگرام میں اس بات اعتراف کیا کہ: ’قانون اجازت دیتا ہے کہ قیدی کی ملاقات خاندان سے بھی ہونی چاہیے، وکلا سے بھی ہونی چاہیے۔ لیکن کوئی ایسا قانون نہیں ہے جو ایک سزا یافتہ قیدی کو اجازت دے کہ وہ جیل میں بیٹھ کر حکومت یا ریاست کے خلاف تحریک چلائے۔‘
’کسی قانون میں نہیں لکھا کہ کسی قیدی کو حکومت کے خلاف انارکی، فتنہ، افراتفری، تحریک یا جلاؤ گھیراؤ کی اجازت دی جائے اور وہ ملاقاتیوں کے ذریعے سے ان ساری چیزوں کو مینج کرے۔‘
تاہم رانا ثنا اللہ کو بھی نہیں معلوم کہ عمران خان کی ملاقات پر پابندیاں کس کے حکم پر لگائی گئی ہیں: ’پابندی تو جیل حکام نے ہی لگائی ہو گی۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پابندی پنجاب حکومت نے لگائی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’میرے علم میں نہیں ہے۔‘
لیکن عمران خان کی بہن نورین خان کہتی ہیں کہ ان کے اور عمران کے درمیان ’عام باتیں‘ ہی ہوتی ہیں کہ ’کیا ہو رہا ہے، کیا ہوگا اور آخر میں وہ بتاتے ہیں کہ باہر جا کر کیا بتانا ہے۔‘
’ان کو اسی بات کی پریشانی ہے کہ باہر آ کر عمران خان کی بات بتائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے انھوں نے بالکل ملاقاتیں ختم کر دیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کا ’ٹی وی بند ہے، اخبار بند ہے۔ جیل کے قواعد کے مطابق آپ کسی بھی قیدی کو چار دن سے زیادہ تنہائی میں نہیں رکھ سکتے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم کسی بھی اضافی سہولت کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ ’وہ صرف کتابیں مانگتے ہیں اور اپنے بچوں سے بات کرنے کا کہتے ہیں۔‘
قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور جیل کے قوانین حکام کو قیدیوں کی ان کے اہلخانہ اور قانونی ٹیم سے ملاقات کروانے کا پابند کرتے ہیں۔
سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پرزنرز ایڈ (شارپ) کے چیف ایگزیکٹو محمد مدثر جاوید نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ: ’جیل مینویل کے مطابق چاہے سیاسی قیدی ہو یا عام قیدی ہو، ان کی ملاقاتیں ہر ہفتے ہونی چاہییں اور یہ قواعد موجود ہیں۔‘
’خاندان کا حق ہے کہ وہ قیدی سے ملیں اور قیدی اپنے وکلا یا قانونی مشیر سے مل سکیں۔‘
محمد مدثر جاوید کہتے ہیں کہ ’کسی کے پاس اختیار نہیں کہ وہ قیدیوں کی ملاقاتیں بند کروا سکیں۔‘ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’سکیورٹی یا سیفٹی کے سبب ضرور آئی جی جیل خانہ جات ایسا ایکشن لے سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی ان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ متبادل دنوں میں قیدیوں کی ملاقاتیں کروائیں اور انھیں سہولیات فراہم کریں۔‘
عمران خان کی بہنوں کا کہنا ہے کہ خاندان سے ملاقاتیں نہ کروا کر ان کے بھائی کو ’تکلیف دی جا رہی ہے۔‘
نورین خان نے خبردار کیا کہ: ’اگر انھوں نے کبھی عمران خان کے ساتھ کچھ کیا تو یہ یاد رکھیں کہ یہ نہ پاکستان میں رہنے کے قابل ہوں گے اور نہ دنیا کے کسی اور کونے میں۔‘
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
اڈیالہ جیلپی ٹی آئیجمائما خانسابق وزیر اعظم عمران خانسہیل آفریدیعلیمہ خان
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
غزہ کی شکار گاہ میں جنگ بندی کا ڈھکوسلا/وسعت اللہ خان
اگلی پوسٹ
پاکستان میں کم از کم اجرت کے نفاذ کا بحران/عابدہ علی

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد

13:08 | جمعرات دسمبر 4، 2025

سینیٹر فیصل واوڈا نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی...

03:54 | جمعرات دسمبر 4، 2025

عمران خان سے بہن کی ملاقات بیرسٹرگوہرکے رابطوں...

04:06 | بدھ دسمبر 3، 2025

بانی پی ٹی آئی صحت یاب ہیں: بہن...

15:14 | منگل دسمبر 2، 2025

عمران خان کہاں اور کس حال میں ہیں؟

13:29 | منگل دسمبر 2، 2025

: 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس...

09:51 | منگل دسمبر 2، 2025

جس میں ہمت ہے گورنر راج لگا کر...

08:23 | منگل دسمبر 2، 2025

پی ٹی آئی احتجاج: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد...

04:14 | منگل دسمبر 2، 2025

خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگتا دکھائی نہیں...

03:59 | منگل دسمبر 2، 2025

ملاقات ہونے تک!تنویر قیصر شاہد

13:17 | پیر دسمبر 1، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظور

  • یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں کروڑوں افراد بیروزگار ہونے کا خطرہ

  • بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ سازوں کی آمدنی میں اضافہ: SIPRI رپورٹ: ایس اے شہزاد

  • بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟

  • حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کردی

  • آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید مجاہد علی

  • کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے لے گی؟/جانتھن مارگولس

  • قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35 کیوں حذف کی گئی؟

  • 3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی کو فرق ہی نہیں پڑا! محمد توحید

  • گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد

  • ائیر انڈیا کا احمد آباد طیارہ حادثہ مشکوک ہے: امریکی اخبار کا الزام

  • امریکہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں گرفتارشخص پاکستانی نہیں: دفتر خارجہ پاکستان

  • کرپشن پر آئی ایم ایف رپورٹ چارج شیٹ قرار دی گئی

  • فضائی آلودگی: نئی دہلی میں دو سال میں سانس کی بیماری کے دو لاکھ سے زائد کیسز

  • نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے سے افغانستان کی عوام یا حکومت کا کوئی تعلق نہیں/افغان وزیر خارجہ

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ

  • امریکہ میںپاکستانی نژادنوجوان غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودیہ میں ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات بے نتیجہ ختم

  • وفاقی وزارت تجارت کاانسانی بنیادوں پر طورخم اور چمن تجارتی گزرگاہوں کو کھولنےکا فیصلہ

  • جنوبی افریقا نے دوسرے ون ڈے میں بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی

مقبول ترین

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ