Top Posts
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف...
یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں...
بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ...
بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟
حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور...
آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید...
کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے...
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35...
3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی...
گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

غزہ کی شکار گاہ میں جنگ بندی کا ڈھکوسلا/وسعت اللہ خان

by TAK 13:28 | منگل دسمبر 2، 2025
13:28 | منگل دسمبر 2، 2025 31 views
31
یہ تحریر ایکسپریس نیوز میں شائع ہوئی
سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے چوبیس اکتوبر پچیس تک مغربی کنارے پر اسرائیلی فوج اور مسلح یہودی آبادکار ڈھائی سو بچوں سمیت گیارہ سو فلسطینی قتل اور گیارہ ہزار کو زخمی کر چکے ہیں۔جب کہ اس عرصے میں مغربی کنارے پر اکیس ہزار سے زائد گرفتاریاں ہوئی ہیں۔
ہیروشیما شہر کے نصف رقبے کے برابر مشتمل غزہ پر پانچ سے چھ ہیروشیما سائز جوہری بموں کی طاقت کے برابردو بار برسایا جا چکا ہے۔غزہ اس وقت کم ازکم پانچ کروڑ ٹن سے زائد ملبے کا ڈھیر ہے۔ستر ہزار ہلاکتیں تو باضابطہ گنی جا چکی ہیں مگر لگ بھگ دس ہزار لاپتہ لاشیں ملبے تلے دبی پڑی ہیں اور انھیں نکالنے کے لیے جو بھاری مشینری درکار ہے اس کی درآمد پر اسرائیل نے پابندی لگا رکھی ہے۔
جو غیر ملکی ڈاکٹر غزہ یا مغربی کنارے پر زخمیوں کے علاج اور سرجری کے لیے آنا چاہتے ہیں انھیں اسرائیل ویزہ دینے سے انکاری ہے۔ دس اکتوبر کی جنگ بندی سے اب تک اسرائیل چھ سو بار سے زائد اس کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔اس جنگ بندی کے بعد سے اب تک لگ بھگ چار سو مزید فلسطینی شہید اور ایک ہزار سے اوپر زخمی ہو چکے ہیں۔
جنگ بندی سمجھوتے کے تحت روزانہ چھ سو ٹرکوں کو رسد لانے کی اجازت دی جانی تھی مگر اوسطاً ڈیڑھ سو ٹرکوں کو ہی غزہ کے اندر آنے دیا جا رہا ہے۔قحط زدگان کے لیے کھانے پینے کی اشیا کے نام پر گوشت ، ڈیری مصنوعات یا سبزی کے بجائے صرف وہ ڈبہ بند اشیا لانے کی اجازت ہے جن میں بہت کم غذائیت پائی جاتی ہے۔جب کہ ادویات ، خیموں ، گرم کپڑوں اور تعمیراتی میٹریل لانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔
امدادی تنظیموں کا اندازہ ہے کہ اس وقت خوراک کی جو مقدار لانے کی اجازت ہے وہ ایک چوتھائی سے بھی کم آبادی کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزیں ( انرا ) کے سرحد پار گوداموں میں اتنی خوراک پڑی ہے جو غزہ کی پوری آبادی کی تین ماہ کی ضروریات پوری کر سکتی ہے مگر انرا کو اسرائیل نے دھشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔حالانکہ علامی عدالتِ انصاف نے اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد یہ رولنگ دے رکھی ہے کہ اسرائیل کسی بھی بین الاقوامی امدادی ایجنسی بشمول انرا کا غزہ میں داخلہ نہیں روک سکتا۔عدالت نے اسرائیل کی یہ دلیل مسترد کر دی کہ انرا غیر جانبدار ادارہ نہیں ۔عدالت کا کہنا ہے کہ انرا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ امدادی ادارہ ہے۔
اگرچہ سترہ نومبر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بیس نکاتی ٹرمپ غزہ امن منصوبے کی منظوری دے دی ہے مگر دو ہفتے گذرنے کے باوجود اس منصوبے کے تحت ٹرمپ کی صدارت میں جو امن بورڈ اور غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے جو بین الاقوامی عبوری انتظامیہ قائم ہونی تھی اس کا دور دور تک اتا پتہ نہیں۔یہ انتظام بھی اسرائیل کی رضامندی سے تشکیل پانا تھا تاکہ فلسطینیوں پر براہِ راست قبضے کو اسرائیلی حمائیت یافتہ بین الاقوامی قبضے کا روپ دیا جا سکے۔اس عرصے میں اگر کوئی شرپسندی مسلسل ہے تو وہ لگاتار اسرائیلی حملے ہیں جن کی مذمت امریکا سمیت کسی ایک ملک نے بھی کھل کے نہیں کی جو ٹرمپ امن پلان کے ضامن ہیں۔البتہ روائیتی افسوس اور رسمی تشویش کے مشینی بیانات جاری ہیں۔
ایسے غیر یقینی حالات میں بین الاقوامی فورس کی تشکیل بھی مخدوش ہے جسے غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کی ذمے داریاں سنبھالنی ہیں۔اسرائیل کی شعوری کوشش ہے کہ امن فوج کی تشکیل کی نوبت ہی نہ آئے تاکہ نسل کشی کے لیے ہاتھ کھلا رہے۔ویسے بھی ٹرمپ پلان میں نسل کشی کی روک تھام کا کوئی نکتہ شامل نہیں ۔
نام نہاد جنگ بندی سے بس اتنا فرق ضرور پڑا ہے کہ پہلے اگر روزانہ سو عورتیں ، بچے ، بوڑھے اور جوان شہید ہو رہے تھے اب ان کی تعداد کم ہو گئی ہے مگر غذائی اور انسانی امداد کی ترسیل پر مسلسل پابندی کے سبب نسل کشی کا عمل متبادل طریقوں سے جوں کا توں جاری ہے۔
اس نام نہاد جنگ بندی کا اسرائیل اور اس کی اتحادی حکومتوں کو سب سے بڑا فائدہ پبلک ریلیشننگ کے میدان میں ہوا ہے۔جنگ بندی کے تاثر کے سبب بڑے بڑے مذمتی مظاہرے نہیں ہو رہے۔جن حکومتوں نے علامتی طور پر اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے کا دعوی کیا تھا اب جرمنی سمیت ان ممالک نے حالات کو نارمل فرض کر کے کاغذی پابندیاں بھی ہٹا لی ہیں۔یعنی جنگ بندی نے اسرائیل کی نسل کش پالیسی کو ایک اضافی سیاسی و سفارتی نقاب فراہم کر دیا ہے جسے وہ ہر روز نوچ کر پھینکنے اور پہننے کے لیے پہلے سے زیادہ آزاد ہے۔
اسرائیل کا اس وقت غزہ کے تریپن فیصد علاقے پر مکمل فوجی قبضہ ہے۔نہ ہی ٹرمپ پلان پر پوری طرح عمل درآمد ہو گا اور نہ ہی اسرائیل سے مطالبہ ہو گا کہ وہ منصوبے کے اگلے مرحلے میں اپنی فوجیں مزید پیچھے ہٹائے۔
اسرائیل نے اپنے قبضے کی حدبندی کے لیے ایک خیالی زرد لائن بنا رکھی ہے۔چونکہ یہ خیالی ہے اس لیے روزانہ آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے۔اس کی کوئی واضح حدبندی جان بوجھ کر نہیں کی گئی۔
غزہ کے کسی باشندے کو اس تصوراتی زرد لائن کا معلوم نہیں چنانچہ وہ لاعلمی میں اسرائیلی فوج کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔امریکا سمیت کسی بھی اتحادی نے جنگ بندی کے بعد سے آج تک اسرائیل سے مطالبہ نہیں کیا کہ وہ اس نام نہاد خطِ زرد پر واضح نشانیاں لگائے تاکہ فلسطینی اسے عبور کرنے میں احتیاط برتیں۔
اسرائیل ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اس سے روزانہ کے شکار میں کمی آ سکتی ہے۔حتمی مقصد یہ ہے کہ یا تو تنگ آ کے فلسطینی بچا کھچا علاقہ بھی خالی کر دیں یا پھر انھیں لاشوں میں تبدیل کر کے یہ علاقہ خالی کروا لیا جائے۔جنگ یا جنگ بندی۔دونوں صورتوں میں اسرائیل کا بنیادی ہدف جوں کا توں ہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
اقوام متحدہانرواسلامتی کونسلغزہ نسل کشیہیروشیما
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
: 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 18 غیر حاضر ملزمان کو اشتہاری قرار
اگلی پوسٹ
’پیغامات‘ اور ’انارکی کا خدشہ‘: اڈیالہ جیل میں عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ کیا ہے؟

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد میں مقبوضہ...

04:08 | جمعرات دسمبر 4، 2025

یو این ویمن رپورٹ/آن لائن ہراسانی: دنیا کی...

15:22 | اتوار نومبر 30، 2025

خان یونس میں اسرائیلی ڈرون حملے میں 2...

03:52 | اتوار نومبر 30، 2025

غزہ میں مسلسل اسرائیلی حملوں کے باعث امدادی...

04:24 | ہفتہ نومبر 29، 2025

یو این رپورٹ/بیروزگاری اور معاشی مواقع کی کمی...

19:05 | جمعہ نومبر 28، 2025

متحدہ عرب امارات نے فلسطینیوں کیلئے خوراک کے...

06:43 | جمعرات نومبر 27، 2025

امریکی سینیٹر برنی سینڈر نےٹرمپ انتظامیہ سے غزہ...

04:16 | جمعرات نومبر 27، 2025

یو این رپورٹ/دنیا بھر میں ہر 10 منٹ...

15:41 | بدھ نومبر 26، 2025

اقوام متحدہ کی پہلگام حملے کے بعد بھارتی...

10:15 | منگل نومبر 25، 2025

اقوام متحدہ میں پاکستان کا غزہ سے صیہونی...

04:25 | منگل نومبر 25، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظور

  • یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں کروڑوں افراد بیروزگار ہونے کا خطرہ

  • بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ سازوں کی آمدنی میں اضافہ: SIPRI رپورٹ: ایس اے شہزاد

  • بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟

  • حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کردی

  • آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید مجاہد علی

  • کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے لے گی؟/جانتھن مارگولس

  • قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35 کیوں حذف کی گئی؟

  • 3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی کو فرق ہی نہیں پڑا! محمد توحید

  • گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد

  • ائیر انڈیا کا احمد آباد طیارہ حادثہ مشکوک ہے: امریکی اخبار کا الزام

  • امریکہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں گرفتارشخص پاکستانی نہیں: دفتر خارجہ پاکستان

  • کرپشن پر آئی ایم ایف رپورٹ چارج شیٹ قرار دی گئی

  • فضائی آلودگی: نئی دہلی میں دو سال میں سانس کی بیماری کے دو لاکھ سے زائد کیسز

  • نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے سے افغانستان کی عوام یا حکومت کا کوئی تعلق نہیں/افغان وزیر خارجہ

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ

  • امریکہ میںپاکستانی نژادنوجوان غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودیہ میں ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات بے نتیجہ ختم

  • وفاقی وزارت تجارت کاانسانی بنیادوں پر طورخم اور چمن تجارتی گزرگاہوں کو کھولنےکا فیصلہ

  • جنوبی افریقا نے دوسرے ون ڈے میں بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی

مقبول ترین

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ