شفقنا اردو: دنیا کی سب سے طویل اور گہری زیرسمندر روڈ ٹنل یا سرنگ کو ناروے میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔
اس سرنگ کا مقصد ناروے کے 2 شہروں کے درمیان سفر کا وقت کم کرنا ہے۔
17 میل طویل اس سرنگ کا نام روگ فاسٹ رکھا گیا ہے اور یہ سطح سمندر کے نیچے 329 میٹر گہرائی میں تعمیر کی جا رہی ہے۔
اس کی تعمیر جنوری 2018 میں شروع ہوئی اور 2019 میں اس پر کام روکا گیا۔
تعمیراتی کام 2021 میں دوبارہ شروع ہوا اور اب اسے 2033 میں مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔
اس کی تعمیر پر 2.4 ارب ڈالرز کا خرچہ ہونے کا امکان ہے۔
دنیا کی طویل ترین زیرسمندر سڑک کہاں تعمیر کی جا رہی ہے؟
اسے تعمیر کرنے والی کمپنی کی پراجیکٹ منیجر این برٹ موئن نے بتایا کہ اس سرنگ سے ناروے کے مغربی ساحلی خطے میں سفر زیادہ تیزی سے ممکن ہو سکے گا جبکہ Stavanger اور Haugesund کے درمیان زیادہ پائیدار تعلق قائم ہوسکے گا۔
اس سرنگ کا شمالی حصہ سب سے گہرائی میں تعمیر کیا جا رہا ہے اور یہ 5.5 میل طویل ہوگا۔
اس کی تعمیر سے Bergen اور Stavanger کے درمیان سفری وقت میں نمایاں کمی آئے گی جو ابھی کشتیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
مگر اس سرنگ کی تعمیر کے بعد یہ فاصلہ 40 منٹ میں طے ہوسکے گا۔
دنیا کی طویل ترین زیرسمندر سڑک کہاں تعمیر کی جا رہی ہے؟
یہ سرنگ 2 مختلف ٹیوبز پر مشتمل ہے اور ہر ٹیوب میں 2 ٹریفک لینز ہوں گی جبکہ ایک چوراہا بھی اس کا حصہ ہوگا جو ان دونوں ٹیوبز کو آپس میں جوڑے گا۔
سمندر کے اندر اتنی طویل سرنگ کی تعمیر کسی چیلنج سے کم نہیں اور کسی خامی سے بچنے کے لیے لیزر اور دیگر جدید آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ سرنگ ناروے کی ای 39 کوسٹل ہائی وے کا حصہ ہے جو 684 میل فاصلے پر پھیلی شاہراہ ہے۔
یہ شاہراہ شمال میں Trondheim سے جنوب میں Kristiansand تک جاتی ہے۔
ابھی اس شاہراہ پر ایک سے دوسرے سرے تک سفر کرنے میں 21 گھنٹے لگتے ہیں جس کے دوران 7 فیریز میں بھی سفر کرنا ہوتا ہے۔
مگر حکومت اسے فیری فری بنانا چاہتی ہے جس کے لیے ٹنلز اور برجز کو تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ سفری وقت 50 فیصد تک کم ہو جائے، مگر یہ منصوبہ 2050 سے قبل مکمل ہونے کا امکان نہیں۔
ابھی شمالی جاپان میں واقع Seikan ٹنل کو دنیا کی طویل ترین زیرسمندر سرنگ قرار دیا جاتا ہے۔
یہ ریلوے ٹنل ہے جس کی لمبائی 33.5 میل ہے جس میں سے زیرسمندر حصہ 14.5 میل تک پھیلا ہوا ہے۔