ایک نوٹی فکیشن کو قومی سانحہ بنانے کا نادر کارنامہ/سید مجاہد علی

یہ تحریر کاروان ناروے میں شائع ہوئی
پاکستان کو دو ملکوں کے ساتھ جنگ کی صورت حال کا سامنا ہے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ کے پی کی حکومت دہشت گردی پر وفاق کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنانے کی بجائے عمران خان سے ملاقات کے سوال پر احتجاج منظم کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں ڈان میڈیا گروپ کے تحت پاپولیشن سمٹ میں بڑھتی ہوئی آبادی کے سوال پر مباحثہ ہوا ہے تاہم علما اور ماہرین کسی حل پر متفق دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن ملکی سیاسی مباحث کا مرکز ایک نوٹی فکیشن کے اجرا کا معاملہ ہے۔ خبروں کے مطابق ملک سے ایک ہفتہ دور رہنے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف گزشتہ رات لندن سے لاہور پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے بھی امور حکومت دیکھنے اور اہم کام نمٹانے کے لیے دارالحکومت میں اپنے دفتر جانے کی بجائے لاہور میں اہل خاندان سے ملاقات کرنے یا بڑے بھائی نواز شریف سے مشاورت کو اہمیت دی ہے۔ حکمرانوں کے یہ رویے ملک میں بے بنیاد مباحث کی وجہ بنتے ہیں اور سوشل میڈیا کے علاوہ ’ذمہ دار‘ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں اس حوالے سے خبروں و تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ دنوں وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کے سوال پر اس وقت بیان جاری کیے جب دیگر اخباروں کے علاوہ ملک کے معتبر انگریزی اخبار ڈان میں بھی اس معاملہ پر ایک نیوز رپورٹ شائع ہوئی، جس میں مختلف ماہرین نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ تاہم ان دونوں وفاقی وزرا نے اس تقرری کے حوالے سے نوٹی فکیشن کے اجرا کو قانونی ضرورت تسلیم کرتے ہوئے یہ بتانے سے انکار کیا کہ یہ رسمی نوٹی فکیشن کب جاری ہو گا اور کیا وجہ ہے کہ اس میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نوٹی فکیشن پر کام شروع ہو چکا ہے اور وزیر اعظم کی ملک واپسی کے بعد مناسب وقت پر اسے جاری کر دیا جائے گا۔ وزیر اعظم کو ملک واپس آئے ایک روز بیت چکا ہے لیکن سرکاری نمائندوں نے اس حوالے سے اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کی۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بھی ایک سوال کے جواب میں یہی کہا ہے کہ مناسب وقت پر یہ نوٹی فکیشن جاری ہو جائے گا۔
کسی عہدے پر تقرری کے لیے اگر آئینی طور سے فیصلہ ہو چکا ہے اور حکومت بھی اس پر متفق ہے تو اس بارے میں جستجو غیر ضروری اور بے معنی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن پاکستانی سیاسی مباحث کا رخ کچھ یوں متعین ہو چکا ہے کہ ایسے ہی مسائل کو لے کر قیاس آرائیوں، افواہیں پھیلانے اور موشگافیاں کرنے کا طوفان برپا کیا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہی ہوتا ہے کہ اہم قومی مسائل پر نہ گفتگو ہو سکتی ہے اور نہ ہی رائے عامہ کو اس مسئلہ پر متوجہ کرنے کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ ملک کے سب سیاسی عناصر اور ان کے ہمنوا اس معاملہ سے آگاہ ہیں کہ اس مشکل وقت میں ملک کو غیر ضروری اور بے مقصد سوالات پر الجھانے کی بجائے اہم اور بنیادی مسائل کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ لیکن گفتگو اور سیاسی بیانات کی نوعیت سے دیکھا جاسکتا ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو اس بارے میں کوئی خاص پریشانی لاحق نہیں ہوتی۔ یہ صورت حال پیدا کرنے کی ذمہ داری نہ تو صرف اپوزیشن پر عائد کی جا سکتی ہے اور نہ ہی حکومت تن تنہا اس معاملہ میں الجھنیں پیدا کرتی ہے۔ بلکہ دونوں طرف سے یکساں گرم جوشی سے ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے کہ عوام حقیقی مسائل پر توجہ نہ دیں اور ایسے معاملات پر الجھیں رہیں جن کا ان کی عمومی زندگی پر کوئی اثر مرتب نہیں ہو سکتا ۔
27 ویں آئین ترمیم کے تحت نو تخلیق شدہ عہدے ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کی تقرری کے نوٹی فکیشن کا معاملہ شاید اس وقت اہم ترین اور نازک ترین مسئلہ بنا دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جیل میں عمران خان سے ان کی ہمشیرگان و پارٹی عہدیداروں کی ملاقاتوں کا معاملہ بھی اس وقت قومی مباحث میں سر فہرست ہے۔ حکومت نے کسی باقاعدہ اعلان کے بغیر اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح حکم کے باوجود 3 نومبر سے اہل خانہ اور دیگر لوگوں کو عمران خان سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ کسی ذمہ دار عہدیدار یا ادارے نے اس بارے میں باقاعدہ بیان کے ذریعے صورت حال پر سرکاری موقف پیش کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ البتہ حکومتی وزیروں اور مشیروں کے نیم سنجیدہ بیانات کا سلسلہ ضرور جاری رہا۔ شروع میں تحریک انصاف نے اس معاملہ کو عمران خان کی صحت سے منسلک کرنے کی کوشش کی اور یہ خبریں سامنے آنے لگیں کہ پارٹی کے بانی جیل میں شدید بیمار ہیں یا انہیں خفیہ طور پر کسی دوسری جیل منتقل کیا جا چکا ہے۔ بھارتی میڈیا نے پاکستان میں جاری اس تنازعہ میں سنسنی پیدا کرنے کے لیے عمران خان کی موت کی خبریں چلانا شروع کر دیں۔
تحریک انصاف، عمران کو بے قصور قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیتی رہی ہے۔ اس کا یہ بنیادی مطالبہ رہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے بغیر نہ سیاسی تعاون ہو سکتا ہے اور نہ ہی حکمران سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ البتہ ملاقاتوں میں چند روز کے تعطل کے ساتھ ہی عمران خان کی رہائی کو بھلا کر، ان کے ساتھ ملاقات کو پی ٹی آئی کا اہم ترین مطالبہ بنا کر پیش کیا جانے لگا۔ اس طرح یہ معاملہ قومی مباحث میں سر فہرست آ گیا۔ اس مطالبے میں زور پیدا کرنے کے لیے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جنہیں عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، نے گزشتہ جمعہ کی رات اڈیالہ جیل کے باہر ساری رات دھرنا دیا اور ملاقات ہونے تک ہر منگل کو احتجاج کرنے کا اعلان بھی کیا۔ سہیل آفریدی کے اعلان کے مطابق پارٹی کے تمام پارلیمنٹیرین ہر منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کیا کریں گے۔
آج اس احتجاج کا پہلا دن تھا تاہم شام تک احتجاج کی تو کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی لیکن حکومت نے اسلام آباد میں دفعہ 144 کے تحت ہر قسم کے اجتماع پر پابندی لگا دی۔ اور احتجاج کا زور توڑنے کے لیے عمران خان کی بہن عظمی خان کو بھائی سے ملنے کی اجازت دے دی گئی۔ آج کسی وقت یہ ملاقات ہونے والی تھی۔ تحریک انصاف اور سہیل آفریدی کی قیادت میں پارٹی کی سیاست کے لیے نیا جوش و خروش دکھانے والے عناصر یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ انہوں نے کیسے عمران خان کی رہائی کا بڑا مقصد چھوڑ کر محض ان کی خیریت جاننے کے لیے ملاقات کو پی ٹی آئی کا سب سے بڑا مطالبہ بنا کر اپنی سیاسی قوت ضائع کی ہے۔ ایک ملاقات کے بعد اگر حکومت نے کئی ہفتے کا نیا وقفہ کیا تو تحریک انصاف اسی ایک نکتے پر شور مچاتی رہے گی اور اہم سیاسی معاملات میں پارٹی کا موقف فراموش رہے گا۔
’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کا عہدہ آئینی ترمیم کے ذریعے موجودہ حکومت ہی نے تخلیق کیا ہے۔ اس بارے میں کسی طرف سے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ عہدہ آرمی چیف کو دینے اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ و دفتر ختم کرنے کے سوال پر یہ تنقید ضرور کی گئی ہے کہ ملک میں آرمی چیف کو ’سپر مین‘ بنانے کی آئینی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے اپنے پسندیدہ فیلڈ مارشل کی نئی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کرنے میں کوتاہی کا کوئی عذر پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اس کا نتیجہ ہے قیاس آرائیوں اور بے معنی مباحث میں فوج کے ساتھ حکومت کی دوری سے لے کر اس سوال پر دونوں شریف برادران کے درمیان اختلافات کو دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کوئی شہباز شریف کی جگہ نواز شریف کو وزیر اعظم بنوانے کی بات کرتا ہے اور کسی طرف سے سی ڈی ایف کے عہدے کی مدت پر حکومت میں بے چینی کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے۔
خواجہ آصف اور اعظم نذیر تارڑ کے بیانات سے بھی یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس الجھن میں ہے کہ کہیں مزید پانچ سال کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو یہ عہدہ دے کر مسلم لیگ (ن) کے لیڈر یعنی شریف خاندان بالکل ہی بے دست و پا نہ ہو جائے۔ تو کیوں نہ نوٹی فکیشن کو صرف دو سال کے لیے جاری کیا جائے۔ تاکہ یہ کہا جا سکے کہ 2027 میں عاصم منیر بطور آرمی چیف پانچ سال مکمل ہونے کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے۔ یوں حکومت کے پاس یہ ’اختیار‘ موجود رہے گا کہ کسی مشکل کی صورت میں 2029 کے انتخابات سے پہلے نیا آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز لایا جا سکے۔
درون خانہ بے سر و پا اور نادر روزگار مشورے دینے والوں کی ہر گز کمی نہیں ہے لیکن ملکی سیاست میں تیس سال سے زائد گزارنے والے شریف برادران یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ ایسی ہی حرکتوں کی وجہ سے فوج میں سول قیادت پر بے اعتباری میں اضافہ ہوتا ہے۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے آخری چیئرمین جنرل ساحر شمشاد مرزا 27 نومبر کو ریٹائر ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد فطری طور سے آئینی ترمیم کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنانے کا سرکاری اعلان جاری ہونا چاہیے تھا۔ اس میں لیت و لعل نہ انتظامی ناکامی ہے اور نہ کسی سرکاری عمل میں کوئی دشواری ہونی چاہیے۔ یہ نوٹی فکیشن حکومت کے اشارے پر پانچ منٹ میں جاری ہو سکتا ہے۔ البتہ اپنے پاؤں پر کلہاڑا چلانے کے شوقین شریف برادران اگر سول ملٹری تعلقات میں ایک نیا تجربہ کر کے محض اپنی ’قوت‘ منوانا چاہتے ہیں تو انہیں اس تجربے کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔ دلوں میں میل آتے اور نیتوں کو مشکوک سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔
اس دوران ملک کو آبادی میں اضافے کا سامنا رہے اور ملک کے ’ممتاز علما‘ واضح کرتے رہیں کہ غربت و افلاس یا قومی معاشی مجبوریوں کے باوجود ’فیملی پلاننگ‘ نہیں ہو سکتی۔ یا مودی حکومت تاک لگائے بیٹھی ہو کہ کب ’آپریشن سندور‘ کا نامکمل ایجنڈا مکمل کرے۔ اور تحریک طالبان پاکستان مسلسل سرکاری عمال اور فوجی افسروں کو نشانہ بنانے میں مستعد ہو۔ لگتا ہے نوٹی فکیشن پر سیاست کرنے والوں کو ان مسائل سے غرض نہیں ہے۔ یہی رویے ملکی حکمران اشرافیہ کے بارے میں عمومی عوامی غم و غصہ میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین