آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید مجاہد علی

یہ تحریرکاروان ناروے میں شائع ہوئی
اسلام آباد میں ڈان میڈیا گروپ کے زیر اہتمام دو روزہ پاپولیشن سمٹ میں آبادی کنٹرول کرنے کے حوالے سے اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔ حکومتی نمائندوں نے اس مسئلہ کی سنگینی سمجھنے کی ضرورت پر زور ضرور دیا لیکن اس بارے میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل پیش نہیں کیا جا سکا۔ علمائے کرام بدستور یہ اصول بیان کرنے پر اصرار کرتے ہیں کہ رزق کا ذمہ دار اللہ ہے لہذا وسائل کی کمیابی کے عذر پر فیملی پلاننگ نہیں ہو سکتی۔
پاکستان جنوبی ایشیا میں آبادی میں سالانہ اضافے کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں افزائش آبادی کی شرح دو فیصد سالانہ کے لگ بھگ ہے جبکہ صرف افغانستان ایسا ملک ہے جہاں آبادی میں سالانہ اضافہ سوا دو فیصد ہے۔ بھارت سمیت باقی تمام جنوبی ایشیائی ممالک آبادی کی سالانہ شرح اضافہ کو ایک فیصد سے کم کرچکے ہیں۔ چین میں آبادی میں اضافہ اعشاریہ 10 فیصد ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی پاپولیشن سمٹ میں متعدد وفاقی وزرا نے شرکت کی۔ معاملہ کا یہ پہلو بجائے خود حکومتی بے خبری اور لاپرواہی کی عکاسی کرتا ہے کہ اس اہم قومی مسئلہ پر بات چیت کا اہتمام ایک میڈیا گروپ نے کیا۔ کسی حکومتی وزارت کو آبادی میں خطرناک اضافے پر غور کے لیے قومی مکالمہ شروع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے البتہ اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں نیوزی لینڈ کی آبادی کے مساوی ہر سال لوگوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔ لیکن اس پلیٹ فارم سے وہ اپنی حکومت کی طرف سے کوئی ایسا منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہے جس سے بچے پیدا کرنے کی حوصلہ شکنی ہو اور ملکی وسائل میں آبادی کی شرح کے مطابق اضافہ کے امکانات پیدا ہوں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران تواتر سے اس مسئلہ پر بات کی ہے کہ جب تک ملک کی آبادی پر کنٹرول نہیں ہو گا، اس وقت تک قومی پیدا وار میں اتنا اضافہ ممکن نہیں ہے جو لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنا سکے۔ اس وقت ملکی قومی پیداوار کا بیشتر حصہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورتیں پوری کرنے پر صرف ہوجاتا ہے۔ وزیر خزانہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ملک میں حقیقی ترقی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے لیے آبادی پر کنٹرول بے حد ضروری ہے۔ جب تک خاندان چھوٹے نہیں ہوں گے ان کا معیار اور ترقی کی رفتار بھی بہتر نہیں ہوگی۔ اس کا اثر پھر قومی ترقی پر مرتب ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ماہرین نے مختلف پہلوؤں سے آبادی کے مسائل اور اس پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سب سے اہم پہلو ملک میں بچوں کی اموات میں اضافہ اور تعلیمی سہولتوں کی کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس وقت قومی وسائل بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے طبقاتی تقسیم اور وسائل مکمل طور سے بروئے کار نہ لانے کی دلیل دی جاتی ہے لیکن سماجی ڈھانچہ میں بہتری کی بنیادی شرط یہی ہوتی ہے کہ آبادی کو ایک حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے۔ پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں آبادی بڑھنے کی شرح دنیا میں آبادی کے سالانہ اضافے سے دوگنا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کو مسئلہ کے طور پر پہچاننے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ یہ باور کیا جاتا ہے کہ زیادہ آبادی ملک کی صلاحیت اور قوت میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ یہ قیاس یا یقین درحقیقت حقیقی صورت حال کے برعکس ہے کہ ہر آنے والا بچہ ملکی وسائل میں حصہ دار بن کر پہلے سے غربت کا شکار لوگوں کے مصائب میں اضافہ کرتا ہے۔
قانونی ماہر حمیرا مسیح الدین نے آبادی میں اضافے کے سوال پر خواتین کی مرضی و رائے کو نظر انداز کرنے کے پہلو کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نشاندہی کہ جولائی میں اسلامی نظریاتی کونسل نے پاپولیشن کونسل کے ساتھ ’حمل کے مسائل‘ پر مشاورت کی تھی، جس میں 47 مرد اور صرف 3 خواتین موجود تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بچہ پیدا کرنے کے عمل میں خواتین کو رائے میں حصہ دار نہیں بنایا جائے گا تو آبادی میں اضافے کا پیچیدہ اور مشکل مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا۔ حمیرا مسیح الدین نے اسلام میں عورت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور قرآن کی آیت کا حوالہ دیا جس میں مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کا مددگار کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حمل کا ’بڑا بوجھ (جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی) عورت اٹھاتی ہے‘ ۔ ہر حمل میں موت کا خطرہ حقیقت ہوتا ہے۔ جس شخص نے یہ خطرہ اٹھانا ہے، اس سے مشورہ نہ کرنا ناقابلِ تصور ہے۔ شریعت کبھی اس کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اسلام میں انصاف کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’اگر حمل کسی عورت پر مسلط کر دیا جائے تو اس میں انصاف کہاں ہو گا؟‘ ۔ مشاورت اسلام میں ہر رشتے کا بنیادی اصول ہے۔
پاپولیشن سمٹ کے شرکا اس بات پر متفق تھے کی قومی سطح پر رائے بنانے اور بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ کے لیے ملک کے علما موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس طرح لوگوں میں شعور پیدا ہو گا اور فیملی پلاننگ کے بارے میں غیر شرعی ہونے کے تصور کو کمزور کیا جا سکے گا۔ منتظمین نے اس معاملہ پر گفتگو کے لیے بعض ممتاز علمائے دین کو مدعو کیا تھا۔ ان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی، جامعہ دارالعلوم کے نائب صدر مفتی زبیر اشرف عثمانی، شریعت اپیلٹ بینچ کے رکن ڈاکٹر قبلہ ایاز اور رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد شامل تھے۔ ان لوگوں نے اپنی تقاریر میں آبادی میں اضافے میں روک تھام اور اس کے معاشی پہلوؤں پر بات کرنے سے گریز کیا۔ علما کا موقف تھا کہ البتہ اس معاملہ کو عورت و نومولود کی صحت کے حوالے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اور اس بارے میں ضروری وقفہ کا مشورہ دیا جاسکتا ہے کیوں کہ اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کا حامی ہے۔ اسی طرح اولاد پیدا کرنے میں بھی اعتدال و میانہ روی سے کام لینا مناسب ہے۔
جامعہ دارالعلوم کراچی کے نائب صدر مفتی زبیر اشرف عثمانی نے دعویٰ کیا کہ آبادی میں اضافہ مسئلہ نہیں بلکہ وسیلہ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’توازن پیدا کیا جا سکتا ہے کیونکہ بعض حالات میں پیدائش پر قابو کی اجازت ہے، جیسے جب عورت کی صحت کو خطرہ ہو‘ ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی قوانین غربت یا بھوک کے خوف کی بنیاد پر خاندانی منصوبہ بندی کی حمایت نہیں کرتے اور نہ ہی اس صورت میں کہ والدین بیٹی کی پیدائش سے بچنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کی اگر آبادی میں اضافہ مسئلہ ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا ملک نے خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح طریقے سے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں آبادی کہیں زیادہ ہے لیکن انہوں نے اپنے وسائل کو سنبھالا ہے۔ البتہ مفتی صاحب نہ تو یہ بتا سکے کہ چین نے 35 سال تک ون چائلڈ پالیسی کے تحت ملکی آبادی میں اضافے پر قابو پایا اور نہ یہ ان کے علم میں تھا کہ اس وقت چین میں آبادی میں اضافہ کی شرح بہت کم ہے۔ ان کا تو بس یہ اصرار تھا کہ ’اللہ نے ہمارے ملک کو اربوں کے خزانے دیے ہیں لیکن ہم انہیں چند پیسوں کے عوض دوسروں کو بیچ رہے ہیں اور اپنے وسائل کا استعمال نہیں کر رہے‘ ۔
اس موقع پر موجود دیگر علما نے براہ راست اتنی تندی سے آبادی میں اضافے کے سوال کو نظر انداز تو نہیں کیا لیکن وہ اس دعوے پر مصر تھے کہ اللہ ہی رازق ہے، اس لیے آبادی کے حوالے سے معاشی پہلو اہم نہیں بلکہ صحت کا معاملہ قابل غور ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ کے رکن ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ ’رزق‘ کے تصور کو آبادی کے ساتھ جوڑنے کے بجائے آبادی کو صحت کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ’علما کا اتفاق ہے کہ آبادی میں اضافے کو رزق کے ساتھ نہ جوڑیں بلکہ صحت کے ساتھ جوڑیں، کیونکہ اگر آپ پیدائش میں وقفہ نہیں رکھیں گے تو ماں اور بچہ دونوں متاثر ہوں گے‘ ۔ حیرت ہے کہ رزق فراہم کرنے کو اللہ کے حوالے کرنے والے یہ علما انسانی صحت کے حوالے سے ابھی تک انسان کو ’با اختیار‘ سمجھ رہے ہیں، ورنہ اگر وہ یہ کہہ دیں کہ ’جس نے بیماری دی ہے، وہی علاج بھی کرے گا۔ اس میں پریشانی کی کیا بات ہے‘ تو کوئی ان کا کیا بگاڑ لے گا۔
آبادی میں خطرناک اضافہ ملکی ترقی اور عوامی فلاح کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن یہ مسئلہ ابھی تک حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ ایک میڈیا گروپ نے اپنے طور پر عمومی شعور پیدا کرنے کے لیے ضرور پاپولیشن سمٹ کا سلسلہ شروع کیا ہے لیکن عوام کی ذہنی تربیت کا ذمہ دار علما اس مسئلہ کی سنگینی سمجھنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ سمٹ میں بھی جب بیشتر شرکا اور سرکاری نمائندوں نے آبادی میں اضافے سے پیدا ہونے والے متعدد پہلوؤں پر روشنی ڈالی تو علما کا زور اس بات پر تھا کہ وسائل کی کمیابی کا آبادی میں اضافے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین