اقوام متحدہ کے ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں تیزرفتار ترقی کے باعث ایشیائی خطے میں کروڑوں نوکریاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں جہاں غریب ممالک تاحال بنیادی ڈیجیٹل رسائی اور تکنیکی تعلیم جیسے مسائل سے نبردآزما ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) میں ایشیا اور الکاہل خطے کے چیف اکانومسٹ فلپ شیلکنز نے کہا ہے کہ جس طرح 19ویں صدی کی صنعتی ترقی نے دنیا کو چند امیر اور بے شمار غریب ممالک میں تقسیم کر دیا تھا اسی طرح مصنوعی ذہانت کا انقلاب بھی ایسی ہی خلیج پیدا کر سکتا ہے۔ جن ممالک نے مہارتوں، کمپیوٹنگ پاور اور موثر طرز حکمرانی پر سرمایہ کاری کی ہے وہ فائدے میں رہیں گے اور دیگر پیچھے رہ جائیں گے۔
ادارے کی جاری کردہ نئی رپورٹ کے مطابق، دفاتر میں مصنوعی ذہانت سے کام لیے جانے کے نتیجے میں خواتین اور نوجوان کارکنوں کے روزگار کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں جبکہ صحت، تعلیم اور آمدنی میں ہونے والی مجموعی ترقی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
تحفظ روزگار کا مسئلہ
ادارے نے مصنوعی ذہانت میں ترقی اور پھیلاؤ کے سبب پیدا ہونے والے بیروزگاری کے ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کی اخلاقی بنیاد پر توجہ دیتے ہوئے ایسے طریقہ ہائے کار سے کام لیں جن سے ہر طبقے کو مساوی فائدہ ہو۔
ایشیا و الکاہل خطے کے لیے ‘یو این ڈی پی’ کی ڈائریکٹر کانی وگناراجا نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جبکہ بہت سے ممالک ابھی ابتدائی مرحلے میں کھڑے ہیں۔ اس حوالے سے ایشیا اور الکاہل خطے کا تجربہ واضح کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت تخلیق کرنے اور اس سے متاثر ہونے والوں میں بہت جلد بہت بڑا فرق پیدا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ اندازہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ ایشیا میں صرف اگلی دہائی کے دوران ہی مصنوعی ذہانت تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کا معاشی فائدہ لا سکتی ہے۔ اگرچہ چین، سنگاپور اور جنوبی کوریا نے اس ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اور اس سے بڑے پیمانے پر فوائد بھی حاصل کیے ہیں لیکن جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں نچلی سطح کے کارکنوں کی بڑی تعداد کا روزگار خودکار طریقہ کار سے متاثر ہو سکتا ہے۔
غریب ممالک کی ضرورت
‘یو این ڈی پی’ نے کہا ہے کہ ناقص بنیادی ڈھانچہ، محدود مہارتیں، ناکافی کمپیوٹنگ پاور اور کمزور حکمرانی مصنوعی ذہانت کے ممکنہ فوائد کو محدود کر دیتے ہیں اور اس سے جڑے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں۔
کمبوڈیا، پاپوا نیوگنی اور ویت نام جیسے ممالک کے لیے ترجیح یہ نہیں کہ وہ خود مصنوعی ذہانت تیار کریں بلکہ انہیں آواز کی ٹیکنالوجی جیسے طریقے درکار ہیں تاکہ انٹرنیٹ کی غیرموجودگی میں بھی نچلی سطح پر کام کرنے والے طبی کارکنوں اور کسانوں کو مدد مل سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایشیا اور الکاہل خطہ دنیا کی 55 فیصد سے زیادہ آبادی کی نمائندگی کرتا ہے اور دنیا میں مصنوعی ذہانت کے نصف سے زیادہ صارفین کا تعلق اسی خطے سے ہے۔ یہ خطہ تیزی سے جدت اختیار کر رہا ہے۔
دنیا میں مصنوعی ذہانت سے متعلق آلات کے 70 فیصد سے زیادہ ملکیتی حقوق چین کے پاس ہیں جبکہ چھ ممالک میں مصنوعی ذہانت کی 3,100 سے زیادہ کمپنیاں قائم ہو چکی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خطے کے سالانہ جی ڈی پی میں تقریباً دو فیصد سالانہ اضافہ کر سکتی ہے اور اس کے ذریعے صحت و مالیات جیسے شعبوں کی پیداواری صلاحیت میں پانچ فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔