ہماری اشرافیہ کو تھوڑا سا تو ڈرنا چاہیے/شہزاد احمد رضی

یہ تحریر ہم سب اردو میں شائع ہوئی
کراچی میں ایک معصوم بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گیا۔ اس کا کھلے مین ہول میں گرنا تو المیہ تھا ہی لیکن اس کو ڈھونڈنے میں غفلت یا نا اہلی اس سے بھی زیادہ المناک صورتحال تھی۔ یہ صورتحال اس ملک میں ایک عام فرد کی زندگی کی قدروقیمت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ویسے تو پورا ملک ہی اشرافیہ کی چراگاہ بن چکا ہے لیکن صوبہ سندھ اس حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس صوبے کے ”مالکوں“ کا کہنا ہے کہ جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے اور وہ یہ انتقام عوام سے بھرپور طریقے سے لے رہے ہیں۔ ایک عام شخص اس قدر بے وقعت ہے کہ اس کی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں۔ وہ جئے یا مرے، کرتا دھرتاؤں کی اس کی کوئی پرواہ نہیں۔
ماضی تو ہمارا پہلے بھی کوئی تابناک نہ تھا لیکن حالیہ برسوں میں ہم نے تنزلی کی بعض منزلیں اس قدر تیزی سے طے کی ہیں کہ خوف آتا ہے کہ ہم کہاں جاکر ٹھہریں گے اور ہماری اشرافیہ بے شرمی اور بے حسی کی کون کون سی مثالیں قائم کرے گی؟ کہیں بھی اطمینان بخش صورتحال نہیں۔ کرپشن اس قدر انتہا تک پہنچ چکی ہے کہ اب عالمی ساہوکار بھی چیخ اٹھے ہیں۔ لیکن ہماری اشرافیہ کو اس سے کیا! وہ اگلے بجٹ میں مزید ٹیکس لگا کر مزید کرپشن کر لے گی۔ عوام کی ہڈیاں تک چوس کر بھی اسے چین نہیں مل رہا۔ انصاف کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ عدالتیں مذاق بن چکی ہیں۔ کون سا دروازہ کھٹکھٹایا جائے؟ کس سے اس مرض کی دوا مانگی جائے؟ کس کے آگے ہاتھ پھیلائیں جائیں؟ بیچاری عوام کو اب کسی سے کوئی امید نہیں۔ شاید ہمارے کرتا دھرتاؤں نے خود ہی اپنے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال لیا ہے تا کہ انھیں بے بس عوام کی پکار سنائی نہ دے۔
بے روزگاری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ایک اسامی کے لیے ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان درخواستیں دے رہے ہوتے ہیں۔ بعض دعووں کے مطابق بے روزگاروں کی تعداد لاکھوں کا ہندسہ عبور کرچکی۔ اس صورتحال سے مایوس ہو کر ہمارے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ہی چھوڑتے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح بری طرح گر چکی ہے۔ ہر نوجوان ملک چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتا ہے۔ وطن عزیز کا نوجوان خود کو سیاسی عمل سے بھی بے دخل کرتا جا رہا ہے۔ شاید وہ جان چکا ہے کہ سیاست کا میدان شاہی خاندانوں کے بچوں کے لیے ہی مختص ہے، غریب کے بچے کو صرف دو جمع دو چار روٹیوں کا ہی سوچنا چاہیے۔
یہ ریاست اگر ایک عام فرد کے ہارڈ سٹیٹ بن چکی ہے تو اشرافیہ کے لیے ویسے ہی سافٹ سٹیٹ ہے جیسے ہمیشہ سے تھی۔ قانون اگر سخت ہوا تو صرف غریب کے لیے۔ امیر کے لیے آج بھی بہت سارے راستے ہیں۔ اگر آپ کی کروڑوں کی گاڑی کے نیچے آ کر کوئی غریب مر جاتا ہے تو فکرمند ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ آپ چند لاکھ دیں، دباؤ ڈالیں اور صلح صفائی کر لیں۔ قانون بھی آپ کی حفاظت کرے گا کیونکہ وہ تو ہمیشہ سے آپ کے گھر کی باندی ہے۔
ہماری اشرافیہ کو ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ بعض اوقات تبدیلی اتنی غیرمتوقع طریقے سے آتی ہے کہ بھاگنے کا وقت بھی نہیں ملتا۔ اتنا دیدہ دلیر ہونا بھی ٹھیک نہیں۔ حضور، اگر آپ کا ضمیر مر بھی چکا ہے تب بھی آپ کو غیر متوقع طور پر طور پر نمودار ہونے والے سیاہ بادلوں سے ڈرنا چاہیے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین

کرد کون ہیں؟ جواد نقوی