کابل کا خطرناک جیو پولیٹیکل جوا: پاکستان کی افغان پالیسی دوراہے پر/بابر خاقان غلزئی

یہ تحریر ہم سب اردو میں شائع ہوئی
حالیہ چند مہینوں سے ڈیورنڈ لائن پر ہونے والی جھڑپیں اور سرحد بندی محض معمول کی سرحدی کشیدگی نہیں ہیں بلکہ ان کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ ایک ایسے ملک کے لیے جس نے چالیس سال سے زائد عرصے تک افغانستان کا ساتھ نبھایا، کابل کے لہجے میں یہ تبدیلی کسی بھائی کی طرف سے لگائے گئے گھاؤ کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں، شہر اور وسائل کھولے اور ایسے معاشی جھٹکے اور سماجی دباؤ برداشت کیے جو شاید ہی کوئی اور قوم اتنے صبر کے ساتھ سہ پاتی۔ اسی طویل تاریخ کی وجہ سے آج کی دشمنی زیادہ تکلیف دہ ہے، کیونکہ اسے محض پالیسی کا اختلاف نہیں بلکہ ایک مشترکہ ماضی سے بے وفائی سمجھا جا رہا ہے۔
جب 2021 میں امریکہ کے افراتفری سے انخلا کے بعد طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے، تو وہ سفارتی طور پر تنہا تھے۔ یہ پاکستان ہی تھا جو اس بین الاقوامی بحران میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا۔ اسلام آباد نے بین الاقوامی فورمز پر کابل کی وکالت کی اور عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کریں تاکہ انسانی المیے سے بچا جا سکے۔ یہ حمایت محض علامتی نہیں تھی بلکہ اس وقت فراہم کی گئی لائف لائن تھی جب افغانستان کے پاس دوست کم اور راستے محدود تھے۔ توقع بہت سادہ تھی: ایک مستحکم پڑوسی جو اپنی سرزمین کو اس ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا جس نے اسے دہائیوں کے تنازع میں سہارا دیا۔
افسوس کہ وہ توقع اب ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔ شراکت داری اور شکر گزاری کی بجائے پاکستان کو کھلی دشمنی کا سامنا ہے۔ افغان سرزمین آج بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور مجید بریگیڈ جیسے علیحدگی پسند گروہوں کی پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔ ان گروہوں نے پاکستان کے اندر جان لیوا حملے کیے ہیں، اور حالیہ تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان میں ملوث متعدد خودکش بمبار افغان شہری تھے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ کابل یا تو ان عناصر کو کنٹرول کرنے سے قاصر ہے یا پھر اس نے جان بوجھ کر ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیسا کہ ایک پاکستانی سیکیورٹی تجزیہ کار نے کہا، پاکستان نے افغانستان کی جنگوں کی قیمت اپنے خون، معاشی تباہی اور امن و امان کی خراب صورتحال کی شکل میں ادا کی ہے۔ اب سرحد پار سے دہشت گردی کا سامنا کرنا نہ صرف نا انصافی ہے بلکہ گہرا عدم استحکام پیدا کرنے کے مترادف ہے۔
یہ تبدیلی افغان طالبان اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے ساتھ ہی رونما ہوئی ہے۔ افغان وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ نئی دہلی اور کابل میں اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی بھارتی کوششیں ایک تشویشناک اشارہ ہیں۔ پاکستان اسے ایک ابھرتے ہوئے پاک مخالف انڈو افغان گٹھ جوڑ کے طور پر دیکھتا ہے، جس کا مقصد اسلام آباد پر جغرافیائی اور سرحدی بے یقینی کا دباؤ ڈالنا ہے۔ ٹی ٹی پی کی نئی آپریشنل طاقت، جدید ہتھیار اور میڈیا نیٹ ورک اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسے بھارتی انٹیلی جنس نیٹ ورکس کی حمایت حاصل ہے، جو افغان حکومت کے اندر موجود عناصر کی خاموش رضامندی سے کام کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ افغانستان علاقائی سیاست میں ایک ایسے کردار کی طرف بڑھ رہا ہے جو نہ صرف اس کے اپنے قومی مفادات کے منافی ہے بلکہ اس کے عوام کے مفاد میں بھی نہیں۔
ان حالات نے پاکستان کو اپنا سرحدی انتظام سخت کرنے پر مجبور کیا، جس نے براہ راست افغانستان کی کمزور معیشت کو متاثر کیا۔ لیکن پاکستان کے خدشات کو دور کرنے کے بجائے کابل معاشی خلا کو پر کرنے کے لیے نئی دہلی کی طرف دیکھ رہا ہے۔ یہ زمینی حقائق پر مبنی حکمت عملی نہیں۔ افغان ”ناقابل تسخیر“ ہونے کا افسانہ، جسے سوویت جنگ کے دوران مغربی تجزیہ کاروں نے حوصلہ بڑھانے کے لیے گھڑا تھا، پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ ہزاروں میل دور بیٹھی کوئی سپر پاور نہیں بلکہ ایک ایسا پڑوسی ہے جس کے پاس انسداد دہشت گردی کا دہائیوں کا تجربہ ہے اور جو علاقے کے جغرافیے سے بخوبی واقف ہے۔
پاک فوج نے گزشتہ بیس سال دنیا کے مشکل ترین جنگی ماحول میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے گزارے ہیں۔ اس کے پاس فضائی، زمینی اور انٹیلی جنس کی ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جو فوری ردعمل دینے، جنگی منظرنامے کو تبدیل کرنے اور اگر ضرورت پڑی تو اپنی آبادی کے تحفظ کے لیے ڈیورنڈ لائن کے پار ”بفر زون“ قائم کرنے کی بھی اہل ہیں۔ پاکستان کا تحمل ہمیشہ سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ رہا ہے، نہ کہ کمزوری کا۔ اس کا مقصد پڑوس میں انسانی المیے سے بچنا اور سفارت کاری کو موقع دینا ہے۔ لیکن افغان حکومت کو یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ پاکستان کے پاس انہیں عسکری سطح پر سبق سکھانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے، خصوصاً جب طالبان حکومت پہلے ہی اندرونی طور پر غیر مقبول ہو رہی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق طالبان اور شمالی اتحاد (خصوصاً رشید دوستم گروپ) کے مابین دوبارہ سر اٹھاتے ہوئے اندرونی تنازعات نے کابل کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے، جس سے ان کی کمزوری مزید عیاں ہو گئی ہے۔
پاکستان کی افغانستان میں دلچسپی ہمیشہ اس کی اپنی سیکیورٹی مجبوریوں کے تحت رہی ہے۔ مشرقی سرحد پر دشمن بھارت کی موجودگی میں ”اسٹریٹجک ڈیپتھ“ کا تصور کبھی بھی افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ یقینی بنانا تھا کہ پاکستان بیک وقت دو محاذوں پر دشمنی کا سامنا نہ کرے۔ آج کی افغان قیادت ان حقائق کو فراموش کر چکی ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ راہداری، رسائی اور معاشی تعاون تو چاہتے ہیں لیکن اپنی سرزمین کو ان گروہوں کے لیے استعمال ہونے دیتے ہیں جو پاکستانی شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کوئی بھی خودمختار ریاست ایسے تضادات کو قبول نہیں کر سکتی۔ غیر قانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی کا فیصلہ کوئی جذباتی قدم نہیں تھا بلکہ افغان سرزمین سے بڑھتے ہوئے خطرات کا ناگزیر جواب تھا۔
عالمی برادری نے بھی اس دوغلی پالیسی کو بھانپ لیا ہے۔ ولسن سینٹر کے مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ طالبان کا ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے انکار اسلام آباد کے لیے فیصلہ کن موڑ بن چکا ہے۔ پاکستانی ماہرین بھی اس بات سے متفق ہیں کہ کسی بھی قسم کی کشیدگی کابل کے لیے پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو گی کیونکہ پاکستان کو عسکری برتری اور انٹیلی جنس رسائی حاصل ہے۔
ساتھ ہی، نئی پیش رفت نے بحران میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ چند روز قبل افغان وزیر تجارت نے ایران کے راستے بھارت کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دی، جو پاکستان کو بائی پاس کرنے اور سرحدی پابندیوں سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ اسلام آباد میں اسے پاکستان کی قیمت پر پاک مخالف انڈو افغان تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے اور علاقائی تجارت میں پاکستان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی ایک دانستہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال اب ایک فیصلہ کن موڑ پر آن پہنچی ہے۔ اگر کابل یہ سمجھتا ہے کہ بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ یا اسرائیلی و بھارتی مقاصد کے لیے پراکسی بن کر وہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکتا ہے، تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے۔ پاکستان کے پاس افغانستان کے جغرافیے، سیاست اور قبائلی اثر و رسوخ سے نمٹنے کا 80 سال کا ادارہ جاتی تجربہ ہے۔ یہ خطے کے اسٹریٹجک نقشے کو کسی بھی غیر ملکی طاقت سے بہتر سمجھتا ہے۔ اور امریکہ یا روس کے برعکس، پاکستان کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ واخان کوریڈور پر قبضے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر تک بفر زون قائم کر لے، قبائلی ڈھانچے کے ذریعے مقامی نظم و نسق قائم کرے اور افغان سرزمین سے ابھرنے والے خطرات کو ناکارہ بنا دے۔ بگرام ائر بیس کو انٹیلی جنس یا آپریشنل مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں بھارت کی دلچسپی کی خبریں بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اگر کسی خفیہ معاہدے کے تحت ایسا تعاون شروع ہوا تو یہ پاک افغان تعلقات کو دہائیوں کی نچلی ترین سطح پر لے جائے گا۔
پاکستان کا پیغام سادہ اور اٹل ہے : افغانستان کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ علاقائی بھائی چارے کا پاس رکھنا چاہتا ہے یا بیرونی ایجنڈوں کا آلہ کار بننا چاہتا ہے۔ اگر کابل مؤخر الذکر کا انتخاب کرتا ہے، تو وہ خود کو تنہا کر لے گا، اپنی خودمختاری کو کمزور کرے گا اور اپنے عوام کے مستقبل کو غیر مستحکم کر دے گا۔ پاکستان کے صبر کی حدود ہیں اور اس کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین