یورپی ملک میں خواتین نے مردوں کو گھریلو کام کاج کیلئے ہائر کرنا شروع کردیا

شفقنا اردو: آبادی میں عدم توازن سے متعدد عجیب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مگر ایک یورپی ملک لٹویا کو تو سب سے عجیب اثر کا سامنا ہے۔
اس ملک میں مردوں کی تعداد اتنی کم ہوگئی ہے کہ خواتین کی جانب سے ‘ایک گھنٹے کے لیے ‘شوہروں’ یا مردوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔
ایسا رومان کے لیے نہیں گھریلو کاموں کو کرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
سننے میں تو یہ کسی مزاحیہ فلم کی کہانی محسوس ہوتی ہے مگر اس ملک میں یہ عام سروس ہے۔
یورو اسٹیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق لٹویا میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں 15.5 فیصد زیادہ ہے۔
یہ عدم توازن 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں زیادہ ہے اور ہر 2 خواتین کے مقابلے میں ایک مرد ہے۔
ملکی سطح پر مردوں کی قلت سے گھروں کی زندگی کافی متاثر ہو رہی ہے۔
ایک خاتون ڈائنا نے برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی سماجی زندگی کسی خواتین کالج کی زندگی محسوس ہوتی ہے۔
اس نے بتایا کہ ‘میری 98 فیصد ساتھی ورکرز خواتین ہیں اور کئی بار ہم کسی مرد سے بات کرنا چاہتے ہیں’۔
ڈائنا کی دوست زینی نے بتایا کہ ہماری بیشتر سہلیاں شریک حیات کے لیے بیرون ملک کا رخ کرتی ہیں۔
مگر رومان سے قطع نظر روزمرہ کی زندگی کے لیے بھی مردوں کی ضرورت ہوتی ہے جو پائپس کو ٹھیک کرسکے یا بھاری سامان اٹھا کر یہاں سے وہاں منتقل کرسکے۔
تو اس کا حل لٹویا میں رینٹ اے ہسبنڈ انڈسٹری کی شکل میں سامنے آیا۔
مختلف پلیٹ فارمز کی جانب سے ایک گھنٹے کے لیے عارضی ‘شوہروں’ کی خدمات پیش کی جاتی ہیں جو پلمبنگ، بڑھی کے کام، گھر کی مرمت اور کسی بھی کام کو کرسکتے ہیں۔
ایک سروس کا تو وعدہ ہے کہ ایک گھنٹے کا شوہر دیوار کو پینٹ کرسکتا ہے، پردے ٹھیک کرسکتا ہے اور پھر کوئی بات کیے بغیر واپس چلا جائے گا۔
تو آبادی میں یہ عدم توازن کیوں ہے؟
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہاں کے مردوں کی اوسط عمر کافی کم ہے کیونکہ وہاں تمباکو نوشی کی شرح کافی زیادہ ہے۔
اس سے ہٹ کر 60 فیصد سے زائد مرد موٹاپے یا اضافی جسمانی وزن کے مالک ہیں تو اسی وجہ سے ہائر اے ہسبنڈ انڈسٹری کافی پھل پھول رہی ہے۔
تو اس ملک میں خواتین مردوں کو رومانس کے لیے کرائے پر حاصل نہیں کرتیں، بس انہیں اپنے کچن سنک یا ایسے ہی کسی کام کو کرانے کے لیے کسی کی ضرورت ہوتی ہے۔
Share This Article

تازه ترین

ماہ شعبان المعظم کے اعمال