تصادم سے واپسی کا راستہ اب بھی موجود ہے!/سید مجاہد علی

یہ تحریر کاروان ناروے میں شائع ہوئی
یوں تو ملک کو سنگین سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے جنوبی افریقہ میں اپارتھائیڈ رجیم کے بعد قائم کیے جانے والے ٹروتھ و ری کنسلی لیشن (سچ و مفاہمت) کمیشن کی طرح کا کوئی فورم قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے لیے ایسے جی دار سچ بولنے والوں کی بھی ضرورت ہوگی جو ایک قدم آگے بڑھانے کے لیے اپنے حصے کا سچ بولنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
جمعہ کے روز آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد البتہ ملکی سیاست ایسے دوراہے پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں جمہوریت ہی نہیں سیاسی ادارے کے وجود پر ہی سوالیہ نشان اٹھائے جانے لگے ہیں۔ ایک سوال تو یہی ہے کہ جب ملک کا سب سے طاقت ور ادارہ ایک سیاسی لیڈر اور اس کی قائم کی ہوئی پارٹی کے خلاف اپنا مقدمہ ’عوام کی عدالت‘ میں پیش کرچکا ہے تو عوام کی نمائندہ یا ان کی طرف سے فیصلے کرنے کا اختیار رکھنے والی حکومت کا آئندہ اقدام کیا ہو گا۔ اس حوالے سے دوسرا سوال یہ ہے کہ آئی ایس پی آر کی شکایات، گلے شکوے اور الزامات سننے کے بعد حکومت، تحریک انصاف اور عمران خان کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گی۔ ملک میں سیاسی پارٹیوں پر پابندیاں لگانے کے تجربے ہوتے رہے ہیں۔ اس لیے اگر تحریک انصاف پر پابندی کا فیصلہ ہوتا ہے تو اس پر کسی کو حیرت تو نہیں ہوگی لیکن کیا اس طریقہ سے ملکی سیاست میں اٹھنے والا موجودہ ہیجان ختم ہو جائے گا؟
تیسرا اہم سوال یہ ہے کہ اگر حکومت بھی آئی ایس پی آر کی طرح محض اپنا مقدمہ پیش کرنے اور وزرا کے بیانات میں انہی الزامات کو دہرانے تک محدود رہتی ہے تو کیا اس سے حالات میں بہتری کا امکان پیدا ہو گا؟ حکومت کی طرف سے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عمران خان سے ملاقاتوں پر مکمل پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ کیوں کہ آئی ایس پی آر کی شکایات کے مطابق ان ملاقاتوں میں سیاسی گٹھ جوڑ ہوتا ہے اور ریاست دشمن بیانیہ تیار کیا جاتا ہے۔ البتہ حکومت یا آئی ایس پی آر اس بات کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتے کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں سے بیانیے کی حد تک پروپیگنڈا مہم بند کی جا سکتی ہے۔ اب یہ اظہر من الشمس ہے کہ فوج کے خلاف زہر افشانی اور حکمران جماعتوں کے خلاف بے بنیاد خبریں پھیلانے کا کام پاکستان کی بجائے بیرون ملک تحریک انصاف سے بالواسطہ یا براہ راست وابستہ یوٹیوبرز کے ذریعے سرانجام پاتا ہے۔ ان وی لاگز یا پوڈکاسٹس میں مواد شامل کرنے کے لیے ان عناصر کو عمران خان کی طرف سے کسی اشارے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ خود اپنی مرضی کے مالک ہیں اور سوشل میڈیا وار فیئر میں اس وقت حکومت اور پاک فوج کے لیے براہ راست چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
البتہ ان یوٹیوبرز کی سرگرمیوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی اشتعال انگیزی یا نام نہاد بہادری اور بیباکی کی وجہ سے تحریک انصاف کے معتدل مزاج قائدین اور پاکستان میں سیاسی امور دیکھنے والے لیڈر بھی بے بس اور لاچار ہوچکے ہیں۔ یعنی یوٹیوبرز ایک مہم شروع کرتے ہیں اور پھر اس میں اتنی شدت پیدا کی جاتی ہے کہ پاکستان میں پارٹی کی قیادت اسی طرز عمل کو اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اس صورت حال میں تو عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی سے سیاسی بیانیے کی حد تک کوئی مقصد حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ اس کے برعکس اگر ماضی کی طرح اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق ہفتے میں دو بار عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا جائے۔ چند لوگوں کی بجائے وسیع تر حلقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو عمران خان تک رسائی دی جائے تو شاید تصادم کی موجودہ شدت میں کمی واقع ہو سکے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ عمران خان کے بارے میں عام طور سے جانا جاتا ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے والے ہیں۔ اگر صرف ایک ہی طرز کے لوگ انہیں ملیں گے تو ایک ہی طرح کی باتیں ان تک پہنچیں گی۔ اس کے برعکس اگر تحریک انصاف کے زیادہ لیڈروں کو ان تک رسائی حاصل ہو سکے بلکہ دوسری پارٹیوں یا ان کے سماجی حلقہ اثر کے لوگ بھی ان سے مل سکیں گے تو کسی بھی معاملہ میں مختلف پہلوؤں سے خیالات ان تک پہنچائے جائیں گے۔ اگرچہ انہیں قبول یا مسترد کرنے کا اختیار عمران خان ہی کے پاس ہو گا لیکن جب کسی معاملہ میں متنوع رائے سامنے ہوگی اور ان سے ملنے والے صرف چند نکات پر فوکس کرنے کی بجائے تصویر کو وسیع تر تناظر میں ان کے سامنے بیان کریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ سوچ اور رویہ کی تبدیلی کی صورت میں برآمد ہو گا۔
اس حوالے سے یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ عمران خان مئی 2023 تک کسی نہ کسی طرح ’چہیتے‘ رہے تھے اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے حمایت کی امید دلائی جاتی تھی۔ سانحہ 9 مئی کے بعد البتہ حالات یکا یک تبدیل ہوئے اور اسی سال اگست میں انہیں گرفتار کر کے مختلف مقدمات میں سزائیں دلا کر جیل میں رکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اتنی دیر تک مشکوک مقدمات میں قید میں رہنے والا شخص ضرور تلخ و مایوس ہو گا۔ پھر انہیں اپنے خلاف مقدمات کی جلد سماعت اور شفاف فیصلوں کی امید بھی نہیں دلائی جاتی۔ یہ تو اس ملک کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ وہ عدلیہ کے تین مراحل میں انصاف کا طالب ہو اور حتمی فیصلہ تک اسے بے گناہ سمجھا جائے۔ عمران خان کو یہ سہولت دینے سے جان بوجھ کر انکار کیا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے ان میں پیدا ہونے والی تلخی حالات کا فطری نتیجہ ہے۔ ان حالات کو تبدیل کرنے سے سوچنے اور بات کرنے کا طریقہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی جاری رکھنے کا طریقہ شاید سودمند نہ ہو بلکہ اس کے پہلے سے بھی زیادہ برے نتائج سامنے آئیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف، وفاقی وزرا اور مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں کی شکایات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں لیکن تصویر کو عمران خان کے نقطہ نظر سے دیکھے بغیر کوئی راست فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ عمران خان کے زاویے سے دیکھا جائے تو نہ صرف یہ کہ انہیں کمزور عدالتی فیصلوں میں قید رکھا گیا ہے بلکہ ان کے بیشتر قریبی ساتھیوں کو بھی ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ایک مقدمے میں سزا دلا کر اسی جیل میں قید کیا گیا ہے لیکن انہیں اپنے شوہر سے ملاقات کا مناسب موقع اور سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔ حالانکہ بشریٰ بی بی غیر سیاسی شخصیت ہیں اور انہیں گرفتار نہ بھی کیا جاتا تو کوئی قیامت نازل نہ ہوجاتی۔ البتہ 26 نومبر کے احتجاج کی قیادت کرنے کی وجہ سے شاید انہیں بھی سبق سکھانے کا فیصلہ ہوا۔
اس کے ساتھ ہی عمران خان کے دونوں بیٹے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ ان کا بھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن اول تو ان کی اپنے والد سے فون پر بات نہیں ہونے دی جاتی۔ دوسرے حکومت نے انہیں پاکستان آ کر اپنے والد سے ملنے اور خیریت دریافت کرنے کی سہولت اور حفاظت کی ضمانت فراہم کرنے سے مسلسل انکار کیا ہے۔ یہ طریقہ کسی بھی باپ کے لیے شدید اذیت کا سبب ہو گا اور وہ اس نظام اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف جو منہ میں آئے گا کہے گا۔ یہ غصہ کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان عوامل کو ختم کیا جائے جو عمران خان کی مایوسی اور جھنجھلاہٹ کا سبب بن رہے ہیں۔ ان میں اضافہ کرنے سے کوئی مثبت نتیجہ نکلنے کا امکان نہیں ہے۔ اس لیے عطا اللہ تارڑ فوج کو خوش کرنے کے لیے عمران خان سے ملاقاتوں پر مکمل پابندی لگانے کا اعلان کرنے کی بجائے اپنی حکومت کو یہ عقل دینے کی کوشش کریں کہ سختی کی بجائے چند سہولتیں دینے سے حالات سازگار ہوسکتے ہیں۔ ان میں سر فہرست بشریٰ بی بی کی رہائی اور عمران خان کے صاحبزادگان کو باعزت طور سے پاکستان آنے اور اپنے باپ سے ملنے بلکہ ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع فراہم کرنے سے تصادم کی شدت میں یقیناً کمی واقع ہو سکتی ہے۔
یہ امکان موجود ہے کہ ایسے اقدام سے تحریک انصاف کے نمائندے، خاص طور سے اس کا مقدمہ لڑنے والے یوٹیوبرز کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ خان ڈٹا ہوا ہے اور حکومت خوفزدہ ہو کر سہولتیں دینے پر مجبور ہو چکی ہے۔ لیکن یہی حکومت کے حوصلے اور سیاسی دانش کا امتحان ہو گا۔ نواز شریف کو یقیناً ان معاملات میں اثر و رسوخ حاصل ہے۔ انہیں عمران خان سے ذاتی حساب برابر کرنے کے مرحلے سے گزر کر اب سوچنا چاہیے کہ اس وقت یہ معاملہ قومی اتحاد اور ملکی سلامتی سے متعلق ہو چکا ہے۔ اسے زور زبردستی یا ڈنڈے سے حل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ یہ تو مانا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف مظاہروں کے ذریعے حکومت گرانے کی صلاحیت سے محروم ہے لیکن یہ بھی مان لینا چاہیے کہ عوام میں عمران خان کی مقبولیت کے سبب حکومت کے پاس بھی سیاسی راستہ تلاش کرنے کے سوا زیادہ آپشن موجود نہیں ہیں۔ یعنی عمران خان کو پھانسی کی سزا دلوانا، تحریک انصاف پر پابندی لگانا یا خیبر پختون خوا میں گورنر راج کا نفاذ تھیوری کی حد تک ضرور ممکنہ آپشنز ہیں لیکن حکومت ان میں کسی ایک آپشن کو استعمال کرنے کے بعد شاید حالات کو مزید سنبھالنے کے قابل نہ رہے۔
ممتاز صحافی و کالم نگار سہیل وڑائچ نے آج روزنامہ جنگ میں لکھے گئے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ ’یہ واضح اشارہ مل چکا ہے کہ بانی و تحریک انصاف کے بارے میں مقتدرہ کے پاس ایسے واضح ثبوت ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت ملکی افواج کو توڑنے اور نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ ان کو یہ باور کروایا گیا ہے کہ مقتدرہ کے لئے تحریک انصاف کسی طرح قابل قبول نہیں‘ ۔ اگر یہ الزام درست ہے تو اسے درون خانہ سرگوشیوں میں ایک دوسرے کو بتانے کی بجائے اس کا دستاویزی شواہد کے ساتھ اعلان کیا جائے اور عمران خان یا پی ٹی آئی کے ایسے تمام لیڈروں کو جوابدہ بنایا جائے جو اس سازش کا حصہ ہیں۔ البتہ اگر یہ الزامات کے طرز کی ہی ایک ’خبر‘ ہے تو ایسی خبریں پھیلانے سے عمران خان کی سیاسی قوت یا مزاج کی تلخی کم نہیں ہوگی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے ہفتہ کے روز پریس کانفرنس میں مصالحت اور مکالمہ کی بات کی تھی۔ اتوار کو پشاور کے جلسہ میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی تقریر میں بھی پاکستان سے محبت اور وفاداری کی ضمانت محسوس کی جا سکتی ہے۔ حکومت کو بھی نئے غدار اور ملک دشمن پیدا کرنے کی بجائے دوستوں میں اضافہ کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ بظاہر مکمل سیاسی شٹ ڈاؤن کی موجودہ صورت حال میں بھی واپسی اور تصادم سے بچنے کا راستہ بہر حال موجود ہے۔ لیکن اسے کھولنے کا اختیار تحریک انصاف کی بجائے حکومت کے پاس ہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
Share This Article

تازه ترین