فیض حمید کو سزا/سید مجاہد علی

یہ تحریر کاروان ناروے میں شائع ہوئی
آئی ایس پی آر کے اعلان کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور متعلقہ افراد کو ناجائز نقصان پہچانے کے الزام میں 14 سال قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔ ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی گزشتہ پندرہ ماہ سے جاری تھی۔ انہیں گزشتہ سال اگست میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ملک کی سب سے اہم انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق سربراہ کو پہلی بار ایسے سنگین الزامات میں سخت سزا دی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق ابھی فیض حمید کے خلاف تمام الزامات پر کارروائی مکمل نہیں ہوئی ہے بلکہ ’ملزم کے سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت، سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کے معاملات الگ سے دیکھے جا رہے ہیں‘۔ تجزیہ نگاروں نے پریس ریلیز کے اس حصے پر خاص توجہ مبذول کی ہے اور قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس فقرے کا مطلب درحقیقت سانحہ 9 مئی کے واقعات ہیں۔ اڑھائی سال پہلے اس روز تحریک انصاف نے عسکری تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں پر حملے کیے تھے اور توڑ پھوڑ کی تھی۔ عمران خان سمیت پارٹی کے متعدد اعلیٰ لیڈروں کے خلاف اس الزام میں مقدمات قائم ہیں۔ تحریک انصاف کے ساتھ تعلق کی وجہ سے یہ اندازہ قائم کیا جا رہا ہے کہ فیض حمید بھی اس روز ہونے والے واقعات میں ملوث تھے۔ اس معاملے میں ان کے کردار کے بارے میں اب مزید تحقیقات ہوں گی۔
تاہم جن 4 الزامات میں انہیں سخت سزا دی گئی ہے، وہ اپنی حد تک سنگین اور افسوسناک ہیں۔ پاک فوج کے تھری اسٹار جنرل سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ اپنے عہدے سے حاصل ہونے والے اختیارات کو ناجائز طور یا ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرے گا۔ ان الزامات کے بارے میں پاک فوج کی طرف سے زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں لہذا ان پر قیاس آرائیوں سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ لیکن اخفائے راز کے عہد کی خلاف ورزی، اور افراد کو نقصان پہنچانے کا الزام بے حد سنگین نوعیت کا ہے۔ اسی لیے فیض حمید کو دی جانے والی سزا بھی طویل ہے۔ پریس ریلیز میں یہ صراحت بھی موجود نہیں ہے کہ انہوں نے کون سے متعلقہ افراد کو نقصان پہنچایا لیکن اس بارے میں کافی یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ اسلام آباد کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کو ہراساں کرنے اور اس سے بھتہ وصول کرنے کا معاملہ ہے۔ یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے پاس بھی گیا تھا۔ اسی مقدمے کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے ججوں نے فوج سے اپنے اہلکاروں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا تھا۔ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کرتے ہوئے آئی ایس پی آر نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا تھا۔
آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ کو چونکہ سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزام میں سزا دی گئی ہے تو اسے قومی سیاست میں فوجی مداخلت کے تناظر میں بھی دیکھا جائے گا۔ تحریک انصاف نے اس وقت پاک فوج اور اس کی قیادت کے خلاف شدید مہم شروع کی ہوئی ہے کیوں کہ اس کا موقف ہے کہ موجودہ فوجی قیادت ہی درحقیقت عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہے اور اسی کی مدد و اعانت سے اسے گزشتہ سال انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے اکثریت حاصل کرنے سے محروم رکھا گیا تھا۔ البتہ فیض حمید کو سیاست میں مداخلت پر سزا دے کر فوج نے یہ واضح کیا ہے کہ اگر فوج اس بارے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اگر کوئی اعلیٰ ترین افسر بھی ایسی بے اعتدالی میں ملوث ہوتا ہے تو وہ بھی فوج کے اندرونی احتساب سے بچ نہیں سکتا۔ اس طرح فیض حمید کو نشان عبرت بنا کر مستقبل کے فوجی افسروں کو وارننگ دی گئی ہے۔
فیض حمید کو سزا دے کر فوج یہ بھی واضح کرنا چاہتی ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں دخیل نہیں ہے۔ محض حکومت وقت کے احکامات آئینی طور سے بجا لانے پر آمادہ رہتی ہے۔ اس طرح فوج کی خواہش ہوگی کہ اپنے ہی ایک سابق اعلیٰ افسر کو سزا دے کر اس نے عوام کے سامنے اپنی غیر جانبداری ثابت کردی ہے۔ اس طرح قوم کا فوج پر اعتبار بحال ہو گا اور دہشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ میں اسے جس عوامی تائید و حمایت کی ضرورت ہے، اسے حاصل کرنا سہل ہو جائے گا۔ تاہم یہ امید شاید اتنی آسانی سے پوری نہ ہو۔ فیض حمید کے بارے میں یہ واضح ہے کہ ان کے تحریک انصاف سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ تحریک انصاف فیض حمید کو ملنے والی سزا کو درحقیقت عمران خان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کے طور پر لے سکتی ہے۔ اس سے پہلے بھی عمران خان یہ کہہ چکے ہیں کہ فیض حمید کو سرکاری گواہ بنا کر ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آئی ایس پی آر نے فیض حمید کی سزا پر جو پریس ریلیز جاری کی ہے، اس میں اس بارے میں کوئی اشارہ موجود نہیں ہے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ فیض حمید کے خلاف سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام ثابت ہونے کے بعد یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کون سے سیاسی عناصر اس میں ملوث تھے۔ خاص طور سے سانحہ 9 مئی کے حوالے سے فیض حمید کے کردار پر جاری تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو گا کہ فوج کا یہ موقف کس حد تک درست تھا کہ اس روز عسکری تنصیبات پر حملوں کا مقصد فوج کے اندر بغاوت کے ذریعے قیادت کی تبدیلی تھا۔ اگر یہ الزام ثابت ہوتا ہے تو فیض حمید کی سزا میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے اور تحریک انصاف کے متعدد لیڈر بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔
اصولی طور سے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا ملزم قرار دے کر فوج نے دو اشارے دیے ہیں۔ ایک یہ کہ فوج کے آئینی کردار کے برعکس کام کرنے والے کسی بھی افسر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ فوج یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس کی صفوں میں ایسے عناصر موجود ہوسکتے ہیں جو متعدد وجوہات کی بنیاد پر سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں تاہم فیض حمید کا کورٹ مارشل ان کے سنگین انتباہ کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔ ملک کے طاقت ور اور با اثر ادارے کی طرف سے اپنی صفوں میں بے اعتدالی کا یہ اعتراف بے حد اہم ہے۔ اس سے مستقبل میں ملکی سیاسی عمل کو شفاف رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ فیض حمید کے خلاف فیصلہ سیاست اور فوج کی حدود کا تعین کرتا ہے۔ البتہ اس بارے میں تفصیلات اور فیض حمید کے وکلا کا موقف سامنے آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ کیا یہ فیض حمید کا انفرادی فعل تھا جس میں انہوں نے آئی ایس آئی جیسے ادارے کو بھی ملوث کیا یا اس میں فوج کے دیگر افسر اور عناصر بھی ملوث تھے۔
مسلم لیگ (ن) کے لیڈر اس حوالے سے 2018 کی انتخابی دھاندلی اور عمران خان کو اقتدار میں لانے والوں میں فیض حمید کے علاوہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام بھی لیتے ہیں۔ نواز شریف نے حال ہی میں نومنتخب ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان تمام عناصر کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا تھا جو عمران خان کو مسلط کرنے میں ملوث تھے۔ دیکھنا پڑے گا کہ کیا نواز شریف، فیض حمید کو سزا ملنے پر مطمئن ہوجائیں گے یا جنرل باجوہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ جاری رہے گا۔ اسی طرح اس سزا کے خلاف اپیل کرتے ہوئے کیا فیض حمید ساری ذمہ داری خود قبول کریں گے اپنے سابقہ باس کا نام بھی لیں گے۔ اگرچہ فوجی مبصر یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ آئی ایس آئی کا سربراہ متعدد فیصلے آرمی چیف کی اطلاع کے بغیر ہی کرتا ہے۔ اس لیے جنرل باجوہ کے کورٹ مارشل کا امکان نہیں ہے۔ لیکن دوسری طرف وزیر دفاع خواجہ آصف نے فیض حمید کی سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’قوم برسوں فیض حمید صاحب اور جنرل باجوہ کے بوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی۔ اللہ ہمیں معاف کرے، طاقت اور اقتدار کو اللہ کی عطا سمجھ کر اس کی مخلوق کے لیے استعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ خوف خدا حکمرانوں کا شیوہ بنے‘ ۔
تحریک انصاف اس رائے اور تبصرے سے مطمئن نہیں ہوگی۔ اسے فیض حمید کی سزا پر بھی اعتراض ہو گا۔ کیوں کہ یہ اس کے اپنے لیڈروں کے خلاف ایک نیا پنڈورا باکس کھولنے کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم اگر سیاسی وابستگی سے بالا ہو کر محض میرٹ کی بنیاد پر فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے اس فیصلے کا جائزہ لیا جائے تو اسے ایک مثبت اور راست سمت میں قدم کہنا چاہیے۔ فوج نے اپنے افسروں کے لیے سیاسی معاملات میں مداخلت کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ یہ ملک میں سیاسی نظام کے استحکام کے لیے ایک خوش آئند موڑ ہے۔ تاہم عسکری قیادت اور سیاسی لیڈروں کو مل کر اس اصول کی حفاظت کے لیے زیادہ تندہی سے کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہٰیں
Share This Article

تازه ترین