یہ تحریر کاروان ناروے میں شائع ہوئی
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو متعدد الزامات میں 14 سال قید کی سزا کا اعلان ہونے کے بعد ملکی سیاست کے حوالے سے قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔ ان میں سر فہرست یہ اندازے یا پیشگوئیاں ہیں کہ فیض حمید، عمران خان کے خلاف سلطانی گواہ بنیں گے۔ اس طرح انہیں سانحہ 9 مئی میں ملوث ہونے کے الزام میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
ملک میں ایک وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 1979 میں پھانسی دی جا چکی ہے۔ اگرچہ بعد میں اسے قومی اسمبلی کی قرارداد میں انصاف کا قتل کہا گیا جب کہ سپریم کورٹ نے ایک صدارتی ریفرنس کے جواب میں اعتراف کیا کہ بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا تھا۔ یہ پھانسی اب بھی ملکی سیاست پر کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہوتی ہے لیکن ہماری افسوسناک تاریخ یہی ہے کہ جب یہ سانحہ رونما ہوا تو نہ تو کوئی بڑا احتجاج منظم ہوسکا اور نہ ہی ایک مقبول سیاسی لیڈر کو مشکوک بنیاد پر پھانسی کی سزا دینے والے ججوں یا اس پر عمل کرنے والے فوجی آمر ضیا الحق کے خلاف کوئی عوامی غم و غصہ دیکھا جا سکا۔ البتہ ایک سناٹے کا عالم ضرور تھا اور قوم پر گہری مایوسی چھا گئی تھی لیکن امور مملکت اسی طرح انجام پاتے رہے۔ بھٹو حکومت کا غیر آئینی طور سے تختہ الٹنے اور انہیں پھانسی دینے کا فیصلہ کرنے والا ضیا الحق اس کے بعد بھی تقریباً ایک دہائی تک ملک کے سیاہ و سفید کا مالک رہا۔
اس وقت بھی حالات پہلے سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ اگرچہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اب سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور عمران خان کے بعض حامی یوٹیوبرز بیرون ملک بیٹھ کر فوج اور ریاست پاکستان کے خلاف جھوٹ، مبالغہ اور اشتعال انگیزی پر مبنی مہم جوئی کرتے رہے ہیں۔ اب تو عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن ان میں سے ہی بعض عناصر عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی چلاتے ہیں اور ان کے نام سے تند و تیز بیانات بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بیان کی بنیاد پر آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے گزشتہ دنوں ایک طویل پریس کانفرنس میں عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف پر زور ’مقدمہ‘ پیش کیا تھا۔ اس پریس کانفرنس کے بارے میں جو چاہے رائے دی جائے لیکن فوج نے واضح کر دیا تھا کہ وہ تحریک انصاف کی مہم جوئی کو ملک دشمنی سے تعبیر کرتی ہے اور اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اس پریس کانفرنس کے بعد بھی تحریک انصاف کی طرف سے کسی نرمی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ پارٹی نے مصالحت کی کوئی بات کرنے یا اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے اصرار کیا ہے کہ وہ صرف جمہوریت اور آئینی حکمرانی کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اسی طرح پارٹی لیڈروں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ کی طرح اپنے لیڈر کو مائنس نہیں ہونے دے گی۔ الطاف حسین کو خود ان کی پارٹی کے لیڈروں نے 2016 میں مائنس کر کے ان کے ساتھ لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ ان پر بھی ریاست کے خلاف بیان دینے اور لوگوں کو اکسانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ تاہم الطاف حسین برطانیہ میں مقیم ہونے کی وجہ سے براہ راست پاکستانی حکام کی گرفت میں نہیں آ سکے لیکن ملکی سیاست میں ان کا نام لینا شجر ممنوعہ قرار پایا۔ حالانکہ اپنے عروج کے زمانے میں الطاف حسین کی مرضی کے بغیر کراچی و حیدرآباد میں پتہ بھی نہیں ہل سکتا تھا۔
عمران خان بلاشبہ ایک مقبول لیڈر ہیں اور ان کی عوامی تائید میں کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ خود تحریک انصاف کے دعوؤں کے مطابق اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی کا کہنا تھا کہ ملک کے 70 فیصد عوام عمران خان کی پشت پر ہیں۔ تاہم ایسے سیاسی دعوؤں سے ملکی سیاست میں من مانی کا امکان پیدا نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف نے سیاسی طریقے سے اپنے لیے جگہ بنانے اور مخالف سیاسی ماحول میں حکمت و ہوشمندی سے کام لینے کے ہر مشورے کو مسترد کیا ہے۔ اس رویہ کو عمران خان کی اصول پسندی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ قومی مفاد کے لیے عمران خان فولادی عزم کے ساتھ جیل کی سزا بھگت رہا ہے اور کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ البتہ بدقسمتی سے ان جمہوری اصولوں کی کبھی نشاندہی نہیں ہو سکی جن کی وجہ سے عمران خان سخت سیاسی موقف اختیار کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی چور لٹیروں کی پارٹیاں ہیں اور شریف و زرداری خاندان ملک کو لوٹ کر کھا چکے ہیں۔ وہ اسے اصول بتا کر سیاسی بات چیت سے انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ جس قانون و آئین کی بالادستی کے نام پر سخت گیر موقف اختیار کیا جاتا رہا ہے، اسی کے مطابق کسی شخص کو اس وقت تک قصور وار نہیں مانا جاسکتا جب تک کوئی مجاز عدالت اس کے خلاف حکم جاری نہ کردے۔ عمران خان کے دور میں ایسی کوشش کر کے دیکھ لی گئی تھی لیکن ان کے سب سیاسی مخالفین اسی نظام میں عدالتوں سے سرخرو ہو کر باہر نکل آئے۔
سیاسی مکالمہ سے انکار نے عمران خان کی سیاسی مشکلات و تنہائی میں اضافہ کیا ہے۔ ان کے اپنے کارکن یا ووٹر تو ضرور ان کی حمایت میں کھڑے ہوں گے لیکن ملک کی دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ مفاہمت کا کوئی ایسا ماحول پیدا نہیں کیا جا سکا جس میں تحریک انصاف کے لیے احترام و قبولیت کا جذبہ پیدا ہوتا۔ اب تو فوج نے پارٹی اور اس کے لیڈر کے خلاف اپنا مقدمہ پیش کر دیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف کے لیے دیگر سیاسی عناصر کے ساتھ تعاون کا راستہ مسدود ہو گیا ہے۔ فیض حمید کی سزا کے بعد ان مشکلات میں اضافہ کا امکان ہے۔ ابھی فیض حمید کے خلاف فیصلہ کی تفصیلات تو سامنے نہیں لائی گئیں لیکن آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے جو پریس ریلیز جاری کی ہے اس کے آخری پیرے کو خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر انتشار اور عدم استحکام پھیلانے سمیت دیگر معاملات میں مداخلت کے پہلو علیحدہ طور پر دیکھے جا رہے ہیں‘ ۔
متعدد تجزیہ نگار ان الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ یہ 9 مئی 2023 کو ہونے والے ہنگاموں کی طرف اشارہ ہے اور اس میں فیض حمید کے مبینہ کردار کے بارے میں ابھی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور ممکنہ طور پر انہیں سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اگر اس سانحہ میں فیض حمید ملزم قرار پائے تو عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر لیڈروں کو بھی اس میں ملوث کیا جاسکتا ہے۔ اس صورت حال میں ایک آپشن تو یہ ہے کہ تحریک انصاف فیض حمید کے ساتھ اظہار یک جہتی کرے یا پھر ان کے ساتھ اپنے تعلقات کی تاریخ سے انحراف کرے۔ عمران خان کی قید اور پارٹی میں قیادت کے سنگین بحران کی موجودہ صورت حال میں پی ٹی آئی شاید کوئی واضح حکمت عملی اختیار نہ کرسکے۔ اس کا نقصان فیض حمید ہی کو نہیں بلکہ عمران خان کو بھی پہنچ سکتا ہے۔ دوسری طرف فیض حمید کو اگر یہ محسوس ہوا کہ تحریک انصاف کے لیے ان کی خدمات سے اب انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا تو وہ اپنی جان بخشی کے لیے عمران خان اور دیگر لوگوں کو ملوث کرنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ اسی لیے فیض حمید کیس کے بارے میں سیاسی ہیجان کی کیفیت موجود ہے اور عمران خان کے مستقبل کو اس سے منسلک کر کے دیکھا جا رہا ہے۔
یہ حالات عمران خان پر ریاست کے خلاف بغاوت کا مقدمہ مضبوط کرتے ہیں۔ یہ مقدمہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک فرد کے قتل کی سازش کرنے کے الزام سے قطعی مختلف اور بے حد سنگین ہے۔ پہلے سانحہ 9 مئی کے بعد پھر اگست 2023 میں اپنی گرفتاری کے بعد عمران خان 9 مئی کو ہونے والے واقعات کی سنگینی اور اس پر فوج کی ناراضی کا درست اندازہ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے اسے مسلسل فالس فلیگ آپریشن قرار دے کر خود فوج ہی کو اپنی تنصیبات تباہ کرنے کا قصور وار کہا ہے تاکہ تحریک انصاف کو سزا دی جا سکے۔ لیکن یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ اسے جوابی الزام سے ٹالا جا سکے۔ خاص طور سے اگر فیض حمید جیسے کردار استغاثہ کی طرف سے گواہی دینے پر راضی ہو گئے تو عمران خان اور سزائے موت کے امکان کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ جائے گا۔
بدقسمتی سے بھٹو کی پھانسی کے لگ بھگ 46 سال بعد بھی یقین سے کہنا مشکل ہے کہ ملک کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کسی سابق وزیر اعظم کو سزائے موت نہیں دلا سکتی۔ یا ملک میں سیاسی ماحول اور عدالتی نظام اتنا مستحکم ہو گیا ہے کسی کو سزائے موت دینا ممکن نہیں رہا۔ عمران خان پر ریاست کے خلاف بغاوت کے سنگین الزامات میں اگر استغاثہ ٹھوس شواہد اور گواہ لانے میں کامیاب ہو گیا تو تاریخ ایک بار پھر دہرائی جا سکتی ہے۔ یہ کہنا حسن ظن سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا کہ عوامی قبولیت کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ یا حکومت عمران خان کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتی۔ تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری تک انہیں گرفتار کرنے کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتی تھی لیکن اب انہیں قید ہوئے اڑھائی برس ہونے کو ہیں بلکہ ان سے ملاقاتوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اور پی ٹی آئی کوئی احتجاج منظم نہیں کر سکی۔ مستقبل قریب میں بھی اس کا امکان نہیں دکھائی نہیں دیتا۔
ہوس اقتدار میں ریاستی اداروں پر حملے ایک سنگین جرم ہے جسے بغاوت کے مساوی سمجھا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی ریاست انسانی و سیاسی حقوق کے حوالے مسلسل زوال پذیر ہے۔ اس لیے بہتر کی امید کرتے ہوئے بھی بدترین انجام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان حالات میں تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ ملک کی ساری سیاسی قیادت کو ہوش کے ناخن لے کر ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ملک کی وزارت عظمی پر متمکن رہنے والوں کو تختہ دار پر لٹکانے کی روایت دہرائی نہ جائے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں