یہ تحریر ہم سب نیوز میں شائع ہوئی
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کے بارے میں ایک تفصیلی تشخیصی رپورٹ حکومت کو اس ہدایت کے ساتھ پیش کر دی گئی تھی کہ اسے عام مطالعے کے لئے شائع کرنے کے ساتھ تجویز کردہ اقدامات پر 8 دسمبر کے بورڈ اجلاس سے قبل عمل درآمد کا آغاز کر دیا جائے۔ حکومت کی جانب سے مکمل یقین دہانیوں کے بعد آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کو 1 ارب 29 کروڑ ڈالر کی قسط منظور کر لی۔ آج کی دنیا میں 1 ارب ڈالر انتہائی معمولی رقم ہے لیکن ہمارے لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ملک پر بیرونی قرض کا بوجھ 130 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔
آنے والے ایک سال میں ہمیں قرض اور سود کی مد میں 26 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔ آئی ایم ایف کی قسط ملنے کے بعد زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر 19 ارب ڈالر ہیں جس میں ایک ارب ڈالر بھی حکومت کا اپنا نہیں ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن صورت حال ہے۔ ہم مزید قرض لیے بغیر واجب لادا قرض کی ادائیگی نہیں کر سکتے۔ آئی ایم ایف کی چھتری نہ ہو تو کوئی بیرونی مالیاتی ادارہ یا بینک قرض فراہم نہیں کرے گا اور حکومت، نادہند ہونے کا باقاعدہ اعلان کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کا جاری رہنا، معاشی خودکشی سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس قسط کے اجرا کے لیے حکومت پاکستان بالخصوص وزارت خزانہ کی جانب سے انتھک کوششیں کی گئیں۔ لہٰذا جب آئی ایم ایف نے اس ’خطیر‘ رقم کی قسط منظور کی تو حکومت نے اطمینان کا گہرا سانس لیا اور خوشی سے نہال ہو کر خوب شادیانے بجائے۔
ہمیں آئی ایم ایف کی اگلی قسط ملنے تک کی مختصر مہلت ملی ہے۔ بہتر ہو گا کہ اس دوران اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کے حوالے سے ایک تلخ مکالمہ کر لیا جائے تا کہ معاملات کو مکمل طور پر بے قابو ہونے سے بچانے کی شاید کوئی سبیل نکل سکے۔ مکالمے کا آغاز یہ مان کر کیا جائے کہ ملک کو بدترین معاشی نہج تک پہنچانے کے ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں اپنے آپ سے چند سوال پوچھنے ہوں گے۔ کیا ہم نے 22۔ 2021 میں درآمدات کے حجم کو 80 ارب ڈالر تک پہنچاتے وقت یہ سوچا تھا کہ درآمدی بل کی ادائیگی کے لیے ڈالر کہاں سے آئیں گے؟ کیا ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اس مقصد کے لیے اونچی شرح سود پر بھاری قرض لینا پڑے گا؟ کیا یہ سادہ سی بات ہمارے علم میں نہیں تھی کہ ڈالر کی طلب میں اضافے سے روپے کی قدر میں خطرناک کمی ہو گی جس سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آ جائے گا؟ یہ جاننے کے لیے کیا لندن اسکول آف اکنامکس کے کسی پروفیسر کو بلانے کی ضرورت تھی کہ سرکاری کاروباری اداروں کا 700 ارب روپے سالانہ کا نقصان عوام سے ٹیکس نچوڑ کر پورا کرنے سے اب تک کتنا معاشی نقصان ہو چکا ہے؟ قومی معیشت پر بوجھ بننے والے ان اداروں کی نج کاری ممکن نہیں تو کیا انہیں بند کر کے عوام کو ٹیکس میں ریلیف نہیں دیا جا سکتا؟
یہ معلوم کرنے کے لیے کیا کسی نوبل انعام یافتہ معیشت دان کا مشورہ درکار تھا کہ جب آبادی 2.5 فیصد اور معیشت 1.5 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھے گی تو فی کس سالانہ آمدنی میں اضافہ کیسے ہو سکے گا؟ کیا ہم بے خبر ہیں کہ ہمارے اپنے خطے اور دیگر اسلامی ملکوں نے آبادی کے مسئلے پر کس طرح قابو پایا ہے؟ حکومت کے معاشی ماہرین کیا نہیں جانتے کہ 11 فیصد شرح سود پر سرمایہ کاری منافع بخش نہیں ہو گی؟ نجی سرمایہ کار بینکوں میں موجود کئی کھرب روپے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، صنعتیں اور کاروبار بند ہو رہے ہیں لیکن حکومت مہنگے سود پر کھربوں روپے قرض لے کر بینکوں کو ریکارڈ منافع کمانے کا موقع دے رہی ہے۔ بینکوں کا قرض عوام پر مزید ٹیکس لگا کر ادا کیا جائے گا۔ کیا حکومت نہیں جانتی کہ اس اقدام سے مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ ہو گا اور معیشت کا بحران سنگین تر ہو جائے گا؟ کیا اس کے لیے کسی نئی تحقیق کی ضرورت ہے کہ % 11 شرح سود میں % 3 کمی سے قرضوں کی ادائیگی میں 800 ارب روپے تک کی بچت اور نجی سرمایہ کاری میں بہت اضافہ ہو گا؟ عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک کی % 45 آبادی غربت کی زندگی گزار رہی ہے یعنی 11 کروڑ لوگوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ یہ کیسے مان لیا جائے کہ حکومت اس سادہ حقیقت سے نا آشنا ہے کہ اتنی بڑی افرادی قوت کی بھرپور شرکت کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ہے؟ اس طرح کی درجنوں مثالیں مزید دی جا سکتی ہیں جس سے ثابت ہو گا کہ ہر مسئلے کا حل موجود تھا جس پر عمل نہیں کیا گیا۔ ہم آج اپنے کیے کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
پاکستان کی معیشت کو آئی ایم ایف سے زیادہ بہتر کوئی دوسرا عالمی مالیاتی ادارہ نہیں جانتا۔ اسے معلوم ہے کہ پاکستان کا معاشی بحران چند سو ارب ڈالر کی قسطوں سے نہیں بلکہ بنیادی ادارہ جاتی اصلاحات (Structural Reforms) کے ذریعے ختم ہو سکے گا۔ مالی مشکلات سے دوچار امریکا کی عالمی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں لہٰذا وہ آئی ایم ایف کے ذریعے مالی مشکل میں گرفتار ہم جیسے ملکوں پر اپنا سرمایہ ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے نے ماضی کے برعکس اب انتہائی سختی سے اپنی شرائط منوانے کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔
آئی ایم ایف نے ماضی میں پاکستان کے موجودہ ترقی مخالف نظام کی تشکیل اور اس سے فیض یاب ہونے والے مراعات یافتہ طبقات کی تخلیق میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وقت کتنا بدل گیا ہے کہ آج آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ طبقات ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ دیکھئے کون فتح یاب ہوتا ہے؟
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں