کابل پر طالبان کے قبضے سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر

بشکریہ: ڈی ڈبلیو

برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کےمابین جاری کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے سے انکار ہے۔

2022 ء میں طالبان کے افغانستان میں برسراقتدار آنے کے بعد سے پاکستان میں تشدد کی لہر میں تیزی آئی اور صرف 2025 میں عسکریت پسندوں نے 600 سے زائد پاکستانی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے ایسے بیشتر حملے افغانستان کی سرحد سے متصل دو پاکستانی صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کیے گئے۔

اسلام آباد ان حملوں کے لیے کالعدم عسکریت پسند گروپ ٹی ٹی پی اور بلوچستان کے علیحدگی پسند باغی گروپوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ اسلام آباد کا یہ بھی الزام رہا ہے کہ اس کا روایتی حریف بھارت بھی ان گروپوں کی مدد کرتا ہے۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی نئی رپورٹ کے مطابق، "اقوام متحدہ کے نگران کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے لیکن افغان طالبان عوامی طور پر اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہیں اور وہ پاکستان میں عسکریت پسندی کو ایسا داخلی تشدد قرار دیتے ہیں، جس پر مقامی طالبان کو اسلام آباد نے اکسایا ہوا ہے۔‘‘

آٹھ اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے افغانستان سرحد سے متعلق ضلع پر ٹی ٹی پی کے حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکاروں کے ہلاک ہونے کے بعد، اسلام آباد نے سرحد پار سے فضائی حملے کیے تھے، جس میں کابل پر بھی اس کا پہلا حملہ شامل تھا۔ اس وقت ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جن کے مطابق کابل پر حملے میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو نشانہ بنایا گیا۔

افغانستان نے اس حملے کا جواب پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر دیا اور اس کے بعد جھڑپوں میں میں دونوں اطراف سے فوجی اور سویلین جانیں ضائع ہوئیں۔

آئی سی جی کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر پاکستانی حکام کو افغانستان سے شدت پسندوں کے کسی مزید حملے کا سراغ ملا تو اسلام آباد حکومت سرحد پار دوبارہ حملہ کر سکتی ہے۔

طالبان حکومت کو ابھی تک کسی بھی دوسرے ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے تاہم اس نئی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی جوابی کارروائی اب بھی کافی مہلک ہو سکتی ہے۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل ہیں، جو پاکستانی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے استعمال سے ممکنہ طور پر پاکستانی ردعمل اور بھی سخت ہو گا۔

تاہم اس رپورٹ میں جنوبی ایشیا کی مجموعی صورت حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے اسلام آباد کے خارجہ تعلقات اس سے بھی کہیں زیادہ کشیدہ ہیں۔ 2025 میں پاکستان کی افغانستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مختصر جنگیں ہوئیں اور عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک اور بڑا حملہ پاکستان اور اس کے دو ہمسایہ ممالک کے درمیان پائے جانے والے غیر یقینی امن کو ختم کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں رواں برس کے دوران 10 تنازعات کی جو فہرست پیش کی گئی ہے، اس میں افغانستان-پاکستان، میانمار، اسرائیل اور امریکہ بمقابلہ ایران، اسرائیل-فلسطین، شام، یوکرین، مالی اور برکینا فاسو، ایتھوپیا-اریٹیریا، سوڈان اور وینزویلا شامل ہیں۔

ادھر پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا لیکن واضح کیا کہ دو طرفہ تعلقات میں کوئی بھی بامعنی بہتری کابل پر منحصر ہے کہ وہ ایسی ٹھوس، قابل تصدیق اور تحریری یقین دہانی کرائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

جمعرات کو وزارت خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی نے اس موقف کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کے ساتھ اسلام آباد کے تحفظات صرف سکیورٹی پر مرکوز ہیں اور اس کی جڑیں سیاسی یا نظریاتی اختلافات سے مربوط نہیں ہیں۔

طاہر اندرابی نے کہا، "پاکستان افغانستان سے دشمنی نہیں چاہتا۔” انہوں نے زور دیا کہ کابل سے واحد مطالبہ یہ کہ بطور ریاست وہ اپنی اس بنیادی ذمہ داری کی تکمیل کرے کہ وہ "دہشت گرد گروہوں اور افراد کو پاکستان میں حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکے۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ ایسے کوئی دوطرفہ تنازعات نہیں ہیں، جس طرح کے اسے بھارت کے ساتھ مسائل سامنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بار اگر دہشت گردی کے مسئلے کو قابل بھروسہ یقین دہانیوں اور قابل عمل کارروائی کے ذریعے حل کر لیا جائے تو تجارتی روابط اور علاقائی تعاون کے لیے "زبردست امکانات” موجود ہیں۔

اندرابی نے کہا کہ پاکستان کابل کے حالیہ مثبت بیانات کا بھی خیر مقدم کرتا ہے لیکن صرف بیان بازی پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا، ’’بیانات کو ٹھوس، قابل تصدیق اور تحریری یقین دہانیوں سے ثابت کرنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے تصدیق کی کہ کابل کے ساتھ سفارتی راستے کھلے ہیں، ’’سفارت خانے اور قونصل خانے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد چین اور افغانستان کے سہ فریقی مذاکرات سمیت علاقائی فورمز میں افغانستان کی مثبت انداز میں شراکت کا قائل ہے۔

Share This Article

تازه ترین

ماہ شعبان المعظم کے اعمال