شفقنا اردو:سوڈان میں جاری جنگ کے ہزار دن مکمل ہونے پر اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے خبردار کیا ہے کہ یہ تنازع دنیا کے بدترین غذائی بحران اور جبری نقل مکانی کے سب سے بڑے المیے کو جنم دے چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ملکی فوج اور اس کی مخالف ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین اپریل 2023 سے جاری لڑائی کے باعث ملک بھر میں 93 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 43 لاکھ سے زیادہ سرحد پار کر کے دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں، ملک میں 2 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
اگرچہ بے گھر ہونے والوں میں سے بہت سے لوگ دارالحکومت خرطوم واپس لوٹ آئے ہیں، تاہم وہاں بھی عام شہریوں کو بہت بڑے مسائل اور خطرات درپیش ہیں جن میں اَن پھٹے گولہ بارود کی موجودگی بھی شامل ہے۔
اوچا کے ترجمان جینز لائرکے کا کہنا ہے کہ، ملک کے مغرب میں کردفان خطے کے مختلف محاذوں پر لڑائی جاری ہے۔ محاصروں کے باعث جنوبی کردفان کے دارالحکومت قادوقلی اور اس کے شمال میں واقع قصبے دلنگ کا دیگر جگہوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں خوراک، صحت کی سہولیات اور کھیتوں و منڈیوں تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔
وسیع جنسی تشدد
دارفور خطے میں جھڑپیں اور ڈرون حملے بدستور جاری ہیں جبکہ محاذ جنگ سے بہت دور شہری ڈھانچے پر بھی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں لڑائی میں بچے مسلسل ہلاک و زخمی ہو رہے ہیں۔ رواں ہفتے کے آغاز میں شمالی کردفان کے شہر الابیض پر ایک حملے میں آٹھ بچوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے مطابق، اپریل 2023 میں تنازع شروع ہونے کے بعد روانہ اوسطاً 5,000 بچے بے گھر ہو رہے ہیں۔ یونیسف کے ترجمان ریکارڈو پائرز نے بتایا ہے کہ بہت سے بچے بار بار بے گھر ہو چکے ہیں اور جہاں بھی وہ پناہ لیتے ہیں تشدد ان کا پیچھا کرتا ہے۔ لاکھوں بچے جنسی تشدد کے خطرے سے دوچار ہیں اور ہولناک طور سے ایسے متاثرین میں بہت چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔
خواتین بھی بے لگام جنسی تشدد اور استحصال کا شکار ہیں۔ اوچا کے مطابق، تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کو صنفی بنیاد پر تشدد کا خطرہ ہے جن میں بڑی تعداد خواتین اور لڑکیوں کی ہے۔
امدادی وسائل کی قلت
خواتین کی سربراہی والے گھرانوں کو غذائی عدم تحفظ کا خطرہ تین گنا زیادہ ہے اور ایسے گھرانوں میں سے تین چوتھائی نے بتایا کہ ان کے پاس کھانے کے لیے حسب ضرورت خوراک موجود نہیں ہے۔
امدادی وسائل کی شدید قلت نے سوڈان میں اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کے کام کو متاثر کیا ہے۔ گزشتہ سال ملک کے لیے طلب کیے گئے 4.2 ارب ڈالر میں سے صرف 36 فیصد ہی مہیا ہو پائے ہیں۔
ان حالات میں اوچا نے تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ ضرورت مند افراد میں سے 2 کروڑ لوگوں کی مدد کا ہدف مقرر کیا ہے جس پر 2.9 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔
شفقنا اردو
ہفتہ، 10 جنوری 2026
نوٹ: شفقنا نے یہ رپورٹ یو این سے لی