شفقنا اردو: پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ 14 جنوری کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق کچھ عرصہ قبل قائم کردہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے یہ بات آج ہی جاری کردہ ایک بیان میں بتائی گئی۔
بیان کے مطابق یہ معاہدہ مفاہمت کی ایک ایسی دستاویز ہے، جس پر دستخط اس لیے کیے گئے ہیں کہ تیزی سے ”ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل پےمنٹ ڈھانچوں کی تکنیکی تفہیم کے لیے مکالمت‘‘ شروع کی جا سکے۔
نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کی طرف سے کرپٹو کرنسیوں کا جو کاروبار کیا جاتا ہے، اس میں یہی کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
پاکستان: بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے اضافی بجلی مختص
اس معاہدے کے طے کیے جانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان یہ جائزہ لے گا کہ آیا ورلڈ لبرٹی فنانشل کے اسٹیبل کوائن کو استعمال کرتے ہوئے سرحد پار ادائیگیوں کا طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل، جسے مختصراﹰ ورلڈ لبرٹی بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسا کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم ہے، جس کا آغاز ستمبر 2024ء میں ہوا تھا۔ اس ادارے کی پاکستان کے ساتھ طے پانے والی ڈیل ایسا اولین معاہدہ ہے، جو اس کمپنی اور کسی خود مختار ریاست کے مابین طے پایا ہے اور جس کا عوامی سطح پر باقاعدہ اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق پاکستان اور ورلڈ لبرٹی کے مابین یہ معاہدہ ایک ایسے وقت پر طے پایا ہے، جب اسلام آباد اور واشنگٹن کے باہمی تعلقات میں کئی متنوع اسباب کے باعث گرمجوشی بڑھتی جا رہی ہے۔
اس وقت پاکستان کا دورہ کرنے والے زیک وٹکوف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف (تصویر) کے بیٹے ہیںاس وقت پاکستان کا دورہ کرنے والے زیک وٹکوف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف (تصویر) کے بیٹے ہیں۔
اس انضمام کے بعد یو ایس ڈی ون نامی اسٹیبل کوائن کو پاکستان کے اپنے ڈیجیٹل کرنسی انفراسٹرکچر میں آپریٹ کیا جا سکے گا۔
پاکستانی معاہدہ ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز کے ساتھ کیا گیا
پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے بیان کے مطابق یہ معاہدہ ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز نامی ادارے کے ساتھ کیا گیا ہے، جس کا تعلق ورلڈ لبرٹی فنانشل سے ہے، مگر جو مقابلتاﹰ کم معروف ہے۔
پاکستان کی طرف سے اس ایم او یو پر دستخطوں کا باقاعدہ اعلان بدھ کے روز ایسے وقت پر کیا گیا، جب ورلڈ لبرٹی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو زیک وٹکوف پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔
پاکستان: کرپٹو کرنسیوں کا استعمال غیر قانونی
کرپٹو میں نقصان سے کیسے بچیں، پھر ایک نیا اسکینڈل
03:29
زیک وٹکوف امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے بیٹے ہیں۔
زیک وٹکوف ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز نامی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر بھی ہیں۔ یہ کمپنی امریکہ میں ڈیلاویئر میں رجسٹرڈ ہے اور ورلڈ لبرٹی کے اسٹیبل کوائن برانڈ USD1 کی شریک مالک بھی ہے۔
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا فروغ، زر مبادلہ پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے؟
پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے بیان کے مطابق زیک وٹکوف نے بدھ کے روز اسلام آباد میں ”سینئر پاکستانی اسٹیک ہولڈرز‘‘ کے ساتھ ملاقات بھی کی۔
ہانگ کانگ میں امریکی صدر ٹرمپ اور سولانا، ایکس آر پی اور یو ایس ڈی سی نامی کرپٹو کرنسیوں کے ایک بڑے اشتہار کے قریب سے گزرتی ایک خاتون راہ گیرہانگ کانگ میں امریکی صدر ٹرمپ اور سولانا، ایکس آر پی اور یو ایس ڈی سی نامی کرپٹو کرنسیوں کے ایک بڑے اشتہار کے قریب سے گزرتی ایک خاتون راہ گیر
ہانگ کانگ میں امریکی صدر ٹرمپ اور سولانا، ایکس آر پی اور یو ایس ڈی سی نامی کرپٹو کرنسیوں کے ایک بڑے اشتہار کے قریب سے گزرتی ایک راہ گیرتصویر: May Jame SOPA Images/Sipa USA/picture alliance
پاکستان کے مرکزی بینک کی طرف سے گزشتہ برس جولائی میں کہا گیا تھا کہ وہ ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر پاکستانی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کی تیاریوں میں ہے اور ساتھ ہی ملک میں ورچوئل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
اشتہار
ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد کی پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات
اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں بدھ کے روز بتایا گیا کہ امریکہ سے زیک وٹکوف کی قیادت میں آئے ہوئے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد نے آج پاکستانی سربراہ حکومت سے ملاقات کی۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈیجیٹل پاکستان کے اپنے اس وژن کا اعادہ کیا، جس کا مقصد عام شہریوں کے لیے روابط، آسان رسائی اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ اور مالیاتی جدت پسندی پاکستان کی تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل اکانومی کے اہم حصے ہیں۔
بیان کے مطابق وزیر اعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل فنانشل مارکیٹوں میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو سراہا اور اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے گلوبل ڈیجیٹل اکانومی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
اس ملاقات میں زیک وٹکوف نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کی تعریف کی، جو عالمی ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے پاکستان کو ایک اہم ملک کے طور پر نمایاں بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے ’’نیکسٹ جنریشن ڈیجیٹل پےمنٹس اور کراس بارڈر مالیاتی جدتوں کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا‘‘ کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو