14 سال کی وحشیانہ خانہ جنگی کے بعد ملک کو متحد کرنے کے اپنے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر، شام کی حکومت نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے سیکولر قیادت والی، کرد سیرین ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کر لیا ہے۔ معاہدے کے تحت حکومت کرد مسلح گروپ کے زیر قبضہ زمین پر اپنا قبضہ قائم کرلے گی۔
اس کے باوجود، شام کی فوج اور SDF دونوں نے پیر کے روز ملک میں جاری گن فائٹ کی اطلاع دی، خاص طور پر الشدادی قصبے میں ،خاص کر اس جیل کے اردگردجہاں اسلامی جہاد(ISIL)کے جنگجو رکھے گئے ہیں۔
اتوار کو ہونے والا اتفاق رائے
صدر احمد الشارع نے کہا کہ شامی فوج معاہدے کے ایک حصے کے طور پر ایس ڈی ایف سے تین مشرقی اور شمال مشرقی صوبوں – ‘رقہ، دیر الزور اور حسقہ ‘ کا کنٹرول سنبھال لے گی۔
پیر کو شام کی وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ حکومت سے وابستہ فورسز اس معاہدے کے تحت ملک کے شمال مشرق میں کرد زیرقیادت شہر حسقہ کے مضافات میں پہنچ گئی ہیں
ایس ڈی ایف (کرد و ں کی ‘شامی جمہوری فورسز’) کو اب ایک وسیع تر 14 نکاتی معاہدے کے حصے کے طور پر شام کی دفاع اور داخلہ کی وزارتوں میں ضم کیا جانا ہے۔
الشارع کی حکومت نے دسمبر 2024 میں سابق صدر بشار الاسد کی معزولی کے بعد شام کو دوبارہ متحد کرنے کا عہد کیاتھا۔ جمعہ کے روز، الشارع نے کردوں کو "ایک قومی زبان” قرار دینے اور اقلیتی گروپ کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔
شامی امور کے تجزیہ کار عمر ابو لیلیٰ نے الجزیرہ کو بتایا کہ "اس وقت [ہم] خطے میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ SDF کا خاتمہ ہے۔”
شام میں SDF کرد لوگوں کی جدوجہد کی نمائندگی کرتا ہے، جو کہ پورے مشرق وسطیٰ میں موجود ایک نسلی گروہ ہے۔
کرد کون ہیں؟
کرد ان لوگوں کا ایک گروہ ہیں جو میسوپوٹیمیا (قدیم شام ، میسوپوٹیمیا کا مطلب دودریاؤں کی سرزمین ، یعنی دجلہ اور فرات کے
درمیان کا علاقہ)کے میدانی علاقوں اور قریبی پہاڑی علاقوں کے مقامی باشندےرہے ہیں جو آج جنوب مشرقی ترکی، شمال مشرقی شام، شمالی عراق، شمال مغربی ایران اور جنوب مغربی آرمینیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کرد آبادی ان علاقوں میں مرکوز ہے جنہیں اجتماعی طور پر کردستان کہا جاتا ہے۔
اس لیے کرد مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی اپنی کوئی ریاست نہیں ہے۔ ان کی بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آبادی بھی ہے، بنیادی طور پر جرمنی میں بلکہ فرانس، نیدرلینڈز اور سوئٹزرلینڈ سمیت دیگر یورپی ممالک میں بھی۔
دنیا بھر میں 30 سے 40 ملین کے درمیان کرد باشندے ہیں۔ کردوں کو دنیا کا سب سے بڑا بے وطن نسلی گروہ سمجھا جاتا ہے، جو ایک مشترکہ ثقافت اور کرد زبان سے جڑے ہوئے ہیں۔
کردش، جو ایک شمال مغربی ایرانی زبان ہے، کی کئی الگ الگ بولیاں ہیں جو کہ علاقے کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔ زیادہ تر مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ کرد ہند-یورپی(انڈو یورپی) عوام کی ایرانی شاخ ہیں۔
جب کہ زیادہ تر کرد سنی مسلمان ہیں، وہاں ایسی کرد برادریاں بھی ہیں جو شیعہ اسلام، علوی ازم، یزیدیت، عیسائیت اور دیگر عقائد کی پیروی کرتی ہیں۔
کرد بے وطن کیوں ہیں؟
کردوں نے 1500 کی دہائی میں اپنی زمینیں کھو دی تھیں جب سلطنت عثمانیہ نے کردوں کے زیر قبضہ زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
سلطنت عثمانیہ کو 1920 کے سیوریس کے معاہدے (Treaty of Sevres.)کے ذریعے تحلیل کر دیا گیا تھا، جو پہلی جنگ عظیم کے بعد کا امن معاہدہ تھا۔
اس کے تحت اتحادی طاقتوں نے ایک خود مختار کردستان بنانے کی تجویز پیش کی۔ اسے ابھرتی کرد قوم پرست تحریک کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا، لیکن یہ معاہدہ کبھی نافذ نہیں ہوا۔ ترکی نے بعد میں اتحادیوں کے ساتھ جنگ کے بعد کے سمجھوتے پر دوبارہ بات چیت کی، اور 1923 کے لوزان کے معاہدے نے ایک خود مختار کردستان کے خیال کو یکسر ختم کر دیا۔
اس کے بعد سے کردوں نے بارہا اپنی ریاست قائم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔
شام، ترکی، ایران اور عراق میں کردوں کی شکایات ایک دوسرے سے مختلف ہیں؛
چاروں ممالک میں سے ہر ایک میں، کردوں نے متعلقہ حکومتوں کے ساتھ برسوں سے مشکل تعلقات کو برداشت کیا ہے۔
شام
سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق، کرد شام میں آبادی کا تقریباً 10 فیصد ہیں۔
شام کے کردوں کو جبر اور غیر منصفانہ سلوک کا سامنا ہے۔
1962 میں، الحسکہ صوبے میں ایک خصوصی مردم شماری میں تقریباً 120,000 کردوں سے شامی شہریت چھین لی گئی۔ ان کے بچے اور نواسے بے وطن رہے، اور بعد میں 2011 کے اوائل کے اندازوں کے مطابق شہریت کے بغیر کردوں کی تعداد 300,000 کے لگ بھگ ہے۔
عربائزیشن کی پالیسیوں کے تحت کردوں کی زمین بھی عرب برادریوں میں تقسیم کی گئی ہے۔
کرد ابتدائی طور پر غیر جانبدار تھے جب 2011 میں الاسد کے خلاف بغاوت شروع ہوئی اور خانہ جنگی میں بڑھ گئی۔ تاہم، 2012 میں، شامی حکومت کے فوجیوں نے بہت سے کرد علاقوں سے انخلاء کیا، اور کرد گروپوں نے کنٹرول سنبھال لیا۔
2013 میں، ISIL (ISIS) کے جنگجوؤں نے شمالی شام کے تین کرد علاقوں پر حملہ کرنا شروع کر دیا جو مسلح گروپ کی سرزمین سے متصل ہیں۔ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) – ایک شامی کرد مسلح گروپ جو شامی کرد سیاسی جماعت ڈیموکریٹک یونین پارٹی (PYD) کا عسکری ونگ ہے – نے ان کا مقابلہ کیا۔ YPG کو ترکی میں قائم کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کی حمایت حاصل تھی۔
2014 میں داعش نے ترکی کی سرحد پر واقع شامی کرد قصبے کوبانی پر قبضہ کر لیا۔ مہینوں کی شدید لڑائی کے بعد، YPG کی قیادت میں اور امریکہ کی قیادت میں فضائی حملوں کی حمایت سے کرد فورسز نے 2015 کے اوائل میں قصبے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا۔ اسی سال اکتوبر 2015 میں، YPG اور اس کے اتحادی عرب اور دیگر دھڑوں نے SDF کو ایک وسیع اتحاد کے طور پر باقاعدہ طور پر شام کے شمالی حصے میں داعش اور eISIL سے لڑنے کے لیے قائم کیا۔
اکتوبر 2017 میں، SDF نے شام میں داعش کے اصل دارالحکومت رقہ پر قبضہ کر لیا، اور پھر داعش کے آخری بڑے گڑھ، دیر الزور میں دھکیل دیا۔ مارچ 2019 تک، SDF نے شام میں داعش کے زیر قبضہ علاقے کےآخری حصےباغوز پر قبضہ کر لیا تھا۔
شام کو متحد کرنے کی اپنی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، الشارعء نے جمعہ کے روز ایک فرمان جاری کیا جس میں عربی کے ساتھ ساتھ کرد زبان کو ایک "قومی زبان” کے طور پر تسلیم کیا گیا، اسے اسکولوں میں پڑھانے اور تمام کرد شامیوں کو شہریت بحال کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس حکم نامے میں صوبہ حساکہ میں 1962 کی مردم شماری سے متعلق اقدامات کو بھی ختم کر دیا گیا ہے جس میں بہت سے کردوں سے شامی شہریت کو فعال طور پر چھین لیا گیا تھا۔
فرمان سرکاری طور پر کرد شناخت کو پہلی بار شام کے قومی تانے بانے کے حصے کے طور پر تسلیم کرتا ہے اور نوروز، کردوں کے نئے سال کے تہوار کے لیے قوم تعطیل کا اعلان کرتاہے
ترکیے
کرد ترکی کی آبادی کا 19 فیصد ہیں لیکن کئی نسلوں سے، کردوں کو بے گھر ہونے اور ان کے ناموں اور ملبوسات پر پابندی کے ساتھ، مٹ جانے کا سامنا ہے۔
کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کی بنیاد عبداللہ اوکلان نے 1978 میں رکھی تھی، جس کا مقصد جنوب مشرقی ترکی میں ایک آزاد کرد ریاست بنانا تھا۔ 1984 میں، گروپ نے ترک ریاست کے خلاف مسلح بغاوت شروع کی، جس میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی اداروں پر گوریلا حملے کیے گئے۔
PKK اور ترک سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی لڑائی میں کرد اکثریتی علاقوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور بہت سے لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
1990 کی دہائی میں، PKK نے اپنے مطالبات کو واپس لے لیالیکن اس نے ترکی کی ریاست کے خلاف اپنی مسلح مزاحمت جاری رکھی، اس کے ساتھ ساتھ ملحقہ جماعتوں اور تنظیموں کے ذریعے ایک وسیع تر سیاسی اور سماجی تحریک قائم کرنے کی کوشش کی۔
SDF کی سیکولر کرد قیادت کا تعلق ترکی میں قائم PKK سے ہے۔ اگرچہ PKK نے 2025 کے اوائل میں اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے گا ، لیکن اسے ترکی، یورپی یونین اور امریکہ نے اب بھی "دہشت گرد” کے طور پر درج کیا ہے۔ PKK کے جنگجوؤں اور ترک فورسز کے درمیان چھٹپٹی جھڑپیں جاری ہیں۔
اس کے باوجود، امریکہ نے SDF کی حمایت کی کیونکہ یہ داعش کے خلاف جنگ میں ایک موثر شراکت دار تھا، جسے SDF اور امریکی قیادت والے اتحاد نے 2019 تک شمال مشرقی شام میں شکست دی تھی۔
ایران
کرد لوگ ایران کی آبادی کا تقریباً 10 فیصد ہیں۔
1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا اور ایران میں اسلامی جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا۔
جب کہ کردوں نے ابتدا میں اسلامی جمہوریہ کی حمایت کی اور ایران کے کچھ حصوں کو مختصر طور پر کنٹرول کیا، ایران کی زیادہ تر سنی مسلم کرد برادری اکثر سیاسی خود مختاری اور ثقافتی اور لسانی حقوق کے لیے کردوں کے مطالبات پر تہران سے برسر پیکاررہی ہے۔
کئی کرد گروپوں نے طویل عرصے سے مغربی ایران میں حکومت کی مخالفت کی ہے، جہاں ان کی اکثریت ہے، اور ان علاقوں میں حکومتی فورسز کے خلاف کئی بار سرگرم بغاوتیں ہوتی رہی ہیں۔
2004 میں، کردستان فری لائف پارٹی (PJAK) ایران میں اسلامی جمہوریہ کے خلاف مسلح جدوجہد کے طور پر قائم کی گئی۔ اس کے بعد سے، اس نے ایران عراق سرحد کے ساتھ پہاڑوں میں واقع اڈوں سے ایرانی سیکورٹی فورسز پر گوریلا حملے اور گھات لگائے ہیں۔
عراق
عراق کی آبادی کا 15 سے 20 فیصد کے درمیان کرد باشندے ہیں۔ اگرچہ وہ تاریخی طور پر پڑوسی ممالک میں کردوں سے زیادہ حقوق حاصل کر چکے ہیں، لیکن پھر بھی انہیں عراق میں جبر کا سامنا ہے۔
کرد قوم پرست رہنما مصطفیٰ بارزانی نے 1946 میں عراق میں خودمختاری کے لیے لڑنے کے لیے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (KDP) بنائی۔ 1961 میں، اس نے ایک مکمل مسلح جدوجہد شروع کی جسے اکثر پہلی کرد-عراقی جنگ یا ستمبر انقلاب کہا جاتا ہے۔
یہ تنازعہ 1970 کی دہائی تک جاری رہا، عراق کے شمالی صوبوں میں مسلسل جھڑپیں ہوئیں۔ پھر، 1970 کی دہائی کے آخر میں، حکومت نے کردوں کی سرزمین پر عربوں کو آباد کرنا اور کردوں کو بے گھر کرنا شروع کیا۔ ان میں سے کچھ – بہت سے یزیدی –
فوج کے زیر کنٹرول قصبوں یا شمالی عراق میں بستیوں میں آباد ہوئے۔
1991 میں، جس سال عراق خلیجی جنگ ہار گیا، بارزانی کے بیٹے، کے ڈی پی کے مسعود بارزانی، اور حریف پیٹریاٹک یونین آف کردستان (PUK) کے جلال طالبانی نے عراق میں کرد بغاوت کی قیادت کی۔ اسے اس وقت کے صدر صدام حسین کی انتظامیہ نے پرتشدد طریقے سے کچل دیا تھا۔ 1.5 ملین سے زیادہ عراقی کرد، صدام حسین کی حکومت کے کریک ڈاؤن سے بچنے کے لیے ترکی میں بھاگ گئے۔ ترکی نے جواب میں اپنی سرحدیں بند کر دیں۔ سرحد کے ساتھ ساتھ ہزاروں لوگ مارے گئے، اور اقوام متحدہ نے اپریل 1991 میں شمالی عراق میں پناہ گزینوں کے لیے ایک "محفوظ زون” قائم کیا۔ آخر کار، حالات مستحکم ہونے کے بعد زیادہ تر لوگ عراق میں اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
1992 میں، کردستان کی علاقائی حکومت (KRG) کردستان کی قومی اسمبلی نے قائم کی تھی، جو عراق کے کردستان کے علاقے میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والی پہلی پارلیمنٹ تھی۔ 1991 میں کردوں کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے تحفظ کی ضمانت دینے کے بعد، صدام حسین کی حکومت نے KRG کو اس کا انتظام سنبھالنے کی اجازت دی جو اب شمالی عراق میں نیم خودمختار کرد علاقہ ہے۔
جب کے ڈی پی اور پی یو کے نے طاقت کا اشتراک کرنے پر اتفاق کیا، تو انہیں اختلافات کا سامنا کرنا پڑا اور بعض اوقات 1994 اور 1998 کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ مسلح لڑائی میں مصروف رہے۔
تاہم، 2003 میں، دونوں گروپوں نے حسین کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کیا۔ مسعود بارزانی کی قیادت میں KRG نے تین صوبوں پر حکومت کی: دہوک، اربیل اور سلیمانیہ۔ 2005 میں طالبانی عراق کے پہلے کرد صدر بنے۔
2017 میں، KRG نے نیم خودمختار کرد علاقے اور کرکوک جیسے متنازع، کرد دعوے والے علاقوں میں آزادی ریفرنڈم کا انعقاد کیا، جو شمالی عراق میں اربیل کے جنوب میں ہے۔ 90 فیصد سے زیادہ ووٹروں نے آزادی کی حمایت کی، لیکن بغداد نے اس رائے شماری کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا۔
عراقی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ریفرنڈم عراقی آئین کے خلاف ہے، جس میں عراق کے اتحاد اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس کے بعد عراقی افواج نے کرکوک اور دیگر متنازعہ، بکھرے ہوئے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا، کردوں کو تیل کی اہم آمدنی سے
محروم کر دیا اور ریاست کے لیے ان کے عزائم کو ایک بڑا دھچکا لگا۔
اس کے نتیجے میں، مسعود نے علاقائی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، اور یہ عہدہ 2019 تک خالی رہا، جب ان کے بھتیجے، نیچروان بارزانی، کے آر جی کے صدر منتخب ہوئے۔
شفقنا اردو
جمعتہ المبارک، 23 جنوری 2026
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں