یورپی یونین کی 2026 – 2030 کی انسدادِ نسلی امتیاز حکمتِ عملی کے اعلان کے موقع پر یورپی کمشنر حجہ لحبِیب کو صحافیوں کی جانب سے سوالات کی بوچھاڑ کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا یورپی یونین نے اس تجویز کو اس خدشے کے تحت نرم کر دیا ہے کہ کہیں یہ یورپی یونین اور امریکہ کے تعلقات کو مزید خراب نہ کر دے؟
اپریل 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کی ڈائیورسٹی، ایکوئیٹی اور اِنکلوژن (DEI) پالیسیوں کو ختم کر دیا تھا اور انہیں ”ووک نظریہ‘‘ قرار دیا تھا۔ اس اقدام کے بعد درجنوں کمپنیوں اور یونیورسٹیوں نے امتیاز کے خلاف اپنی وابستگیوں کو واپس لینا شروع کر دیا۔
حجہ لحبِیب جویورپی یونین کی کمشنر برائے مساوات ہیں، نے اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمان میں پریس کانفرنس کے دوران کہا، ”جہاں تک امریکیوں کا تعلق ہے، وہ وہی کرتے ہیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مذاق اڑا سکتے ہیں، مگر ہم ایسے نہیں۔ یہ ہماری اقدار ہیں، یہی ہماری شناخت ہے۔ جب وہ (ٹرمپ کے حامی) کہتے ہیں کہ ہم اپنی شناخت کھو رہے ہیں، تو انہیں بھولنا نہیں چاہیے کہ خود ٹرمپ جرمن نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘
یورپ میں انسدادِ نسل پرستی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی نئی حکمتِ عملی کو نمایاں حد تک نرم کر دیا گیا ہے، لیکن ان کے مطابق یہ تبدیلی امریکہ کے دباؤ کی بجائے یورپ کے اندرونی عوامل کے باعث ہے۔
جولی پاسکوئے، جو یورپی نیٹ ورک اگینسٹ ریسزم (ENAR) میں پالیسی و ایڈووکیسی منیجر ہیں، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہمیں اپنی پالیسی دستاویزات کو نرم کرنے کے لیے امریکہ کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا ، ”یورپی پارلیمان میں ایک انتہائی تشویشناک صورتحال جنم لے چکی ہے، جہاں دائیں بازو کی انتہاپسند قوتیں تیزی سے مضبوط ہو رہی ہیں۔ اس لیے اگر زبان میں کوئی نرمی یا تبدیلی آئی ہے تو وہ زیادہ تر یورپ کے اندرونی دباؤ کا نتیجہ ہے، نہ کہ امریکہ کا۔‘‘
یہ حکمتِ عملی یورپی یونین کے اندر اس دباؤ سے بھی نمٹے گی جو نسل پرستی سے متعلق اصطلاحات کی واضح تعریف کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ”جامع یورپی مطالعہ‘‘ شروع کیا جائے گا جس میں ”مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اسٹرکچرل یا ساختی نسل پرستی‘‘ جیسی اصطلاحات کی تعریف کی جائے گی۔ یورپی یونین سامیت دشمنی کی ایک ایسی تعریف پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی بھی کوشش کرے گا جس میں ممکنہ طور پر متنازعہ، اسرائیل کی ریاست پر کوئی بھی تنقید شامل ہو سکتی ہے۔
منصوبے میں نسلی بنیادوں پر رہائشی امتیاز کی روک تھام اور آن لائن نفرت آمیز جرائم سے نمٹنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ تاہم کمپنیوں، اداروں یا افراد کے لیے واضح سزاؤں کا تعین کرنے کی بجائے، یورپی کمیشن صرف ایک ایسی رپورٹ پیش کرے گا جس کا مقصد رکن ممالک میں قومی سطح پر سزاؤں کو مضبوط بنانا ہوگا۔
یورپی یونین کی نسل پرستی کے خلاف نئی حکمت عملی ای یو کے اُس پالیسی پروگرام کا تسلسل ہے جو 2020 میں امریکہ میں جارج فلائیڈ کے قتل اور اس کے بعد ہونے والے ”بلیک لائیوز میٹر‘‘ مظاہروں کے تناظر میں شروع ہوا تھا۔
یورپی یونین کی نئی حکمت عملی کا ایک اہم اور دلچسپ حصہ یہ ہے کہ یورپی یونین چاہتی ہے انسدادِ امتیاز کے قوانین کو نئی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) پر بھی لاگو کیا جائے، تاکہ ٹیکنالوجی کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کرے۔
حجہ لحبِیب نے مثال دیتے ہوئے کہا،” کچھ امتحانی سافٹ ویئرز سیاہ فام طالب علموں کو پہچاننے میں مشکل پیدا کرتے ہیں۔ آن لائن کار انشورنس کی قیمتیں بھی بعض اوقات ایسے عوامل کی بنیاد پر بدلتی ہیں جن کا نسلی امتیاز سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کل امتیازی سلوک اکثر خاموش ہوتا ہے، نظر نہیں آتا، اور کہیں زیادہ چُھپا ہوا ہوتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ نئی ٹیکنالوجی پرانے تعصبات کو دوبارہ نہ دہرائے۔
یورپی یونین کے AI ایکٹ نے اس مسئلے کو پہلے بھی حل کرنے کی کوشش کی تھی، مگر نئی حکمتِ عملی کا مقصد اس کام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا ہے۔
حقوقِ انسانی کی کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی نئی انسدادِ نسل پرستی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی۔
یورپی نیٹ ورک اگینسٹ ریسزم ENAR کی ایڈووکیسی کوارڈینیٹر ژولی پاسکوئٹ کے بقول،” پولیس تشدد، امتیازی مہاجرت پالیسیوں، سرحدی نگرانی اور نسلی پروفائلنگ جیسے بڑے مسائل پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا ، کیونکہ حکمتِ عملی بہت مبہم اور کمزور ہے اور شہری تنظیموں کے تحفظ کے حوالے سے بھی ناکافی ہے۔‘‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی یورپی یونین آفس کی ڈائریکٹر ایو گیڈی نے بھی مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق یہ حکمتِ عملی موجودہ سیاسی ماحول کی پیداوار ہے، جس میں حوصلہ، سختی اور واضح اقدامات کی کمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو مضبوط، جرات مندانہ پالیسی لانی چاہیے تھی، مگر اس نے ایک کمزور اور نرم حکمتِ عملی پر اکتفا کیا، جو موجودہ حالات کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی۔‘‘
شفقنا اردو
ہفتہ، 24 جنوری 2026
نوٹ: شفقنا نے یہ رپورٹ ڈی ڈبلیو سے لی