یہ تحریر محمد اشتیاق کی ہے
بلوچستان ایک بار پھر اس تلخ حقیقت سے دوچار ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود عسکریت پسندی کا خطرہ کم نہیں ہو رہا ہے بلکہ بدلتی ہوئی شکل میں خود کو منوا رہی ہے۔
سال 2026 کے آغاز پر 31 جنوری کو صوبے کے مختلف اضلاع، بشمول دارالحکومت کوئٹہ، میں 12 مقامات پر ہونے والے مربوط حملوں نے یہ پیغام واضح کر دیا کہ شدت پسندی کے خلاف ریاستی کوششوں کے باوجود خطرہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ پہلے سے زیادہ منظم اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔
یہ وہی بلوچستان ہے جسے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت برسوں سے پاکستان کے مستقبل کی کنجی قرار دیتی آئی ہے۔ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ، وسائل سے مالا مال خطہ، مگر امن کے خواب سے اب بھی محروم۔
سوال اب یہ نہیں کہ بلوچستان اہم ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہاں امن آخر کس راستے سے آئے گا؟ صوبائی وزیرِاعلیٰ نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کوئی سیاسی مسئلہ نہیں اور اس کا جواب صرف ریاستی طاقت ہے، ایک سخت ریاستی سوچ کی عکاسی کرتا ہے مگر کیا یہ سوچ مسئلے کی مکمل عکاسی پیش کرتی ہے؟