امریکی حملے کی صورت میں چین ایران کی کتنی حمایت کرے گا؟

واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر، چین کے کردار پر باریک بینی سے نظر رکھی جا رہی ہے کہ وہ ایران کی حمایت کے لیے کس حد تک جائے گا؟ اور اگر امریکہ کے ساتھ تنازعہ چھڑ جاتا ہے تو اس کی حدود کیا ہوں گی۔

ایران کے امریکہ کے ساتھ ٹکراؤ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں چین ایک اہم کھلاڑی بن کر ابھرا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں اور معاشی تباہی نے ایران کو داخلی طور پر مشکلات کا شکار بنا رکھا ہے۔

جنوری کے آغاز میں، معاشی بدحالی، سیاسی عدم اطمینان اور مسلسل غیر ملکی دباؤ کی وجہ سے ہونے والے بڑے پیمانے پر مظاہروں نے ایرانی قیادت کے لیے برسوں کا سب سے سنگین داخلی چیلنج پیدا کر دیا تھا۔

یہ بے چینی جلد ہی ایک علاقائی بحران میں بدل گئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بڑی تعیناتی کا حکم دیا اور تنبیہ جاری کی کہ ایران اپنے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کو روکے۔

مظاہروں کے دوران، مبینہ طور پر چین نے ایرانی حکام کو ملک گیر مواصلاتی بلیک آؤٹ (انٹرنیٹ کی بندش) نافذ کرنے میں مدد فراہم کی۔

15 جنوری کو، چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے امریکی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ”جنگل کے قانون‘‘ کی واپسی قرار دیا، اور امریکی جارحیت کے برعکس ایرانی حکومت اور عوام کو ”متحد‘‘ رہنے میں چین کے ”تعمیری کردار‘‘ کی پیشکش کی۔

ہفتہ 31 جنوری کو واشنگٹن کے ساتھ شدید کشیدگی کے دوران، ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ ایران فروری کے وسط میں بحر ہند کے شمالی حصے میں چین اور روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشقیں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس اعلان کے بعد انٹرنیٹ پر غیر تصدیق شدہ دعووں کی بھرمار ہو گئی جن میں الزام لگایا گیا کہ چین ایران کو فوجی امداد فراہم کر رہا ہے، اور یہ قیاس آرائیاں بھی کی گئیں کہ آیا ایران کےامریکہ کے ساتھ فوجی تصادم کی صورت میں چینی حکومت مداخلت کرے گی یا نہیں۔

چین گزشتہ کئی برسوں سے ایران کے اہم ترین معاشی اور سفارتی شراکت داروں میں سے ایک رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب تہران کو سخت امریکی پابندیوں کا سامنا ہے اور وہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی بلیک لسٹ میں شامل ہے، چین نے اسے ایک اہم راستہ فراہم کیا ہے۔ ان پابندیوں نے عالمی مالیاتی نظام تک ایران کی رسائی کو شدید محدود کر دیا ہے اور اسے تجارت اور سیاسی مدد کے لیے چین کی مدد لینے پر مجبور کر دیا ہے۔

جون 2025ء میں اسرائیل کے ساتھ ایران کی 12 روزہ جنگ کے بعد سے اس تعلق نے ایک واضح سکیورٹی جہت اختیار کر لی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، اس کے بعد کے مہینوں میں ایران اور چین نے سکیورٹی تعاون کے معاہدوں میں توسیع کی ہے جس کا مقصد انٹیلی جنس شیئرنگ اور بیرونی خطرات کے خلاف ہم آہنگی کو بہتر بنانا ہے۔

تاہم، برلن میں قائم ”انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز‘‘ (ایس ڈبلیو پی) سے وابستہ مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی معاملات کے تجزیہ کار حمید رضا عزیزی، ایرانی حکومت کے دفاع کے لیے بیجنگ کے عزم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور وسیع تر خطے میں چین کی شمولیت بڑی حد تک عملیت پسندی پر مبنی ہے۔

عزیزی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد چین ایران کے ایک طاقتور محافظ کے طور پر سامنے نہیں آیا، اور یہ امکان کم ہے کہ وہ ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کی صورت میں ایسا کرے گا۔‘‘

اس کے برعکس، چین نے دیگر علاقائی شراکت داروں کو زیادہ مضبوط مدد فراہم کی ہے۔ عزیزی کے مطاب کشمیر کے معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں کے دوران، بیجنگ نے پاکستان کو ٹھوس فوجی مدد فراہم کی تھی۔ ایران کو اب تک اس سطح کی کوئی مدد نہیں دی گئی ہے۔

ایران کا چین کے ساتھ تعلق بنیادی طور پر واشنگٹن کے ساتھ محاذ آرائی کے سبب ہے۔ اگرچہ امریکی پابندیوں نے ایران کو چین کے قریب کر دیا ہے، لیکن انہی پابندیوں نے چینی سرمایہ کاری کو بھی محدود کر دیا ہے اور ایران میں چین کے معاشی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی صلاحیت کو روک دیا ہے۔

ایس ڈبلیو پی کے تجزیہ کار حمید رضا عزیزی کے بقول، ”فی الحال بیجنگ کا زیادہ زور امریکی یکطرفہ کارروائی کی مخالفت پر ہے نہ کہ ایرانی حکومت کی بقا کو یقینی بنانے پر۔ ایران میں بار بار ہونے والی بدامنی اور بڑے پیمانے پر کرپشن نے چین میں یہ تاثر بھی پختہ کر دیا ہے کہ موجودہ قیادت میں یہ ملک سرمایہ کاری کے لیے پرخطر ہے۔‘‘

یہ احتیاط چین کی ایران کے ساتھ تجارت اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اس کی تجارت کے درمیان بڑے فرق سے واضح ہوتی ہے۔ ”ایشیا ہاؤس‘‘ نامی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی تعاون کونسل کے چھ ممالک کے ساتھ چین کی کل تجارت تقریباً 257 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس کے مقابلے میں چین کی ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت اس کا محض ایک چھوٹا سا حصہ تھی جو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14 بلین ڈالر سے بھی کم تھی۔

عزیزی کے مطابق، ”اگرچہ چین اپنے وسیع معاشی اور توانائی کے مفادات کے تحفظ کے لیے خطے کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے، لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے دفاع کے لیے اپنی حدود سے باہر جائے گا۔‘‘

امریکہ میں، ایران اور چین کی شراکت داری کو اکثر اس تناظر میں دیکھا جاتا ہے جسے”ایکسز آف اپ ہیول‘‘ یعنی بغاوت کا محور کہا جا رہا ہے۔ یہ اصطلاح چین، روس، ایران اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک، فوجی اور معاشی ہم آہنگی کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کا مقصد امریکی قیادت والے عالمی نظام کو چیلنج کرنا ہے۔

یورپی اور نیٹو حکام نے بھی اس ہم آہنگی کو نوٹ کیا ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُٹے نے 26 جنوری کو یورپی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا، ”یہ ناقابلِ تردید ہے کہ روس، چین، شمالی کوریا اور ایران تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ شراکت داری ابھی مکمل طور پر منظم نہیں ہے، لیکن یہ ممالک مغربی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہیں۔

13 جون 2025ء کو اسرائیل کی طرف سے تہران میں کیے جانے والے ایک فضائی حملے کے بعد لوگ تباہ شدہ عمارت کے باہر جمع ہیں۔13 جون 2025ء کو اسرائیل کی طرف سے تہران میں کیے جانے والے ایک فضائی حملے کے بعد لوگ تباہ شدہ عمارت کے باہر جمع ہیں۔

امریکی پالیسی ساز حلقوں میں اس نقطہ نظر نے کبھی کبھی اس خیال کو جنم دیا ہے کہ ایران کو کمزور کرنے سے چین کی طاقت کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

برلن میں قائم ”انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز‘‘ سے وابستہ مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی معاملات کے تجزیہ کار حمید رضا عزیزی کے مطابق، اس سوچ نے تہران کے خلاف زیادہ جارحانہ انداز اپنانے میں مدد دی ہے اور ایران کو چین اور روس کے قریب دھکیلنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

عزیزی نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا، ”لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کو چین کی ضرورت زیادہ ہے، جبکہ چین کو ایران کی اتنی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا یہ سوچنا کہ تہران پر دباؤ ڈالنے سے چین کو نقصان پہنچے گا، غلط ہے۔ اس اتحاد کی اہمیت کو ضرورت سے زیادہ سمجھنا ایرانی حکومت اور امریکہ دونوں کے لیے ایک غلط حساب کتاب ثابت ہو گا۔‘‘

بشکریہ: ڈی ڈبلیو

Share This Article

تازه ترین

اقوامِ متحدہ کا کشکول خالی ہے