یہ تحریر سید مجاہد علی کی ہے
پاکستان کی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو شریک ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ دعوت نامہ کس کی طرف سے موصول ہوا ہے لیکن اس پیش رفت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ علاقائی سیاست اور اسٹریٹیجک معاملات میں پاکستان کی اہمیت اور ضرورت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے درپردہ خاموشی سے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کے لیے کام کیا ہے۔ گزشتہ سال جون میں بھی غزہ جنگ کے دوران جب اسرائیل نے ایران کو نشانہ بنایا اور امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر بی۔ 2 بمبار طیاروں سے بمباری کی تو پاکستان نے اس تنازعہ کو ختم کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔ سفارتی لحاظ سے پاکستان ایران کی معاونت کرتا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ ایران میں شروع ہونے والے خونی احتجاج کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر بار بار حملے کرنے کی دھمکی دیتے رہے تھے تاہم دوست ممالک نے اس تصادم سے گریز کا مشورہ دیا۔ ان ممالک میں پاکستان بھی نمایاں سفارت کاری کی وجہ سے ممتاز حیثیت کا حامل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسے امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت کے موقع پر ثالثی کی دعوت دی گئی ہے۔
خطے میں جنگ ٹالنے کے لیے پاکستان کا کردار درحقیقت خود ہماری قومی سلامتی اور مستقبل میں پیش آنے والی صورت حال کے لیے اہم ہے۔ ایران میں اگر کوئی اسرائیل نواز حکومت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگی۔ اس کی کوششیں جلاوطن ایرانی ولی عہد رضا پہلوی کرتے رہے ہیں۔ حالیہ عوامی احتجاج کو اپنی واپسی کا عذر بنا کر انہوں نے اسرائیل کی مدد سے تہران واپس آنے اور بادشاہت بحال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایک تو انہیں ایرانی عوام میں قبولیت حاصل نہیں ہے، دوسرے امریکی صدر ٹرمپ بھی رضا پہلوی پر اعتماد نہیں کرتے۔
اسی لیے یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ البتہ رضا پہلوی کی نگرانی یا معاونت سے تہران میں آنے والی کوئی تبدیلی کسی صورت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگی۔ ایسی کوئی حکومت اسرائیل کی براہ راست مداخلت و معاونت سے ہی ممکن ہو پائے گی جس کے نتیجے میں پاکستان کے ہمسایہ ملک میں اسرائیلی اثر و رسوخ ہماری سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بنے گا۔
ایسی صورت حال ایک طرف خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرنے کا سبب بن سکتی ہے تو دوسری طرف پاکستان کو ایران کی طرف سے بھی براہ راست مداخلت اور دہشت گردوں کی سرپرستی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران میں انتہا پسند مذہبی حکومت کو عوام کی شدید ناپسندیدگی کا سامنا ہے۔ امریکی معاشی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت متاثر ہے۔ اشیائے صرف مہنگی اور آمدنی کے ذرائع محدود ہیں۔ سخت گیر مذہبی حکومت نے خطے میں پراکسی جنگوں کی وجہ سے ایک طرف خود کو ہمسایہ ملکوں سے دور کیا تو دوسری طرف بچے کھچے مالی وسائل جنگوں کی بھینٹ چڑھا کر عوام کا جینا محال کر دیا۔
رہی سہی کسر گزشتہ سال اسرائیل و امریکہ کے ساتھ جنگ نے پوری کردی جس کی وجہ سے ایرانی معیشت اپنے عوام کو کوئی مالی سہولت دینے کے قابل نہیں ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی ملاؤں کی حکومت نے آزادی اظہار اور طرز زندگی پر سخت پابندیاں عائد کر کے عوام کو خود سے دور کیا ہے اور عوام کی اکثریت خود کو مجبور اور لاچار سمجھنے لگی ہے۔ گزشتہ ماہ شروع ہونے والے مظاہرے اسی عوامی بددلی اور بے بسی کا اظہار تھے۔
تہران حکومت اگرچہ دعویٰ کرتی ہے کہ اسرائیل نے احتجاج کی آڑ میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا، اس لیے یہ احتجاج عوام ضرورتوں کے اظہار کی بجائے بغاوت کی کوشش تھی جسے کچل دیا گیا۔ اس یک طرفہ موقف کی تائید کرنا مشکل ہے۔ اگرچہ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اسرائیل تہران حکومت کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش میں ملوث ہو سکتا ہے لیکن ریاستی ڈھانچے پر مکمل گرفت رکھنے والی سخت گیر حکومت اگر دشمن ملک کے ایجنٹوں اور عوام کی مجبوری کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے محض غیر ملکی سازش یا بغاوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایرانی حکومت کو سوچنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ عوام مسلسل موجودہ نظام پر بداعتمادی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن مذہبی اشرافیہ ایک خاص طرح کا نظام عوام پر ٹھونسنے پر مصر ہے۔ جبر کے ماحول میں اگر عوام کو معاشی سہولت حاصل ہو تو کسی حد تک حالات کو نارمل کیا جاسکتا ہے لیکن گزشتہ چار پانچ دہائیوں کے دوران ایرانی معیشت مسلسل دگرگوں رہی ہے اور امریکہ سے دشمنی کی بھاری قیمت ایرانی عوام کو ادا کرنا پڑی ہے۔ جبکہ حکمران اشرافیہ نے محض پابندیوں کے ذریعے عوام کو خاموش کرانے پر اکتفا کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے مظاہروں کے دوران ایرانی حکومت کو دھمکیاں بھی درحقیقت انسانی حقوق یا جمہوریت کی حمایت نہیں تھی بلکہ امریکہ، ایران کے ساتھ دیرینہ سفارتی و سیاسی معاملات کا حساب بے باق کرنا چاہتا تھا۔ ٹرمپ حکومت کو لگتا تھا کہ ایران معاشی پابندیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے۔ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل مشرق وسطیٰ میں اس کے پراکسی گروہوں کو تباہ کرچکا ہے اور عرب ممالک میں اسے کوئی خاص ہمدردی حاصل نہیں ہے۔
ایسے ماحول میں اگر عوام بھی احتجاج کر رہے ہیں تو اس کی آڑ میں ایک ضرب لگا کر تہران میں مذہبی لیڈروں کی حکمرانی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ اس دوران ایران پر حملہ کرنے پر تلے ہوئے تھے لیکن پاکستان سمیت دیگر ممالک نے امریکہ کو اس بحران کی سنگینی سے آگاہ کر کے انہیں حملے سے باز رکھنے پر آمادہ کیا۔ دوسری طرف امریکہ کے پاس موجودہ حکومت کے خاتمے کے بعد اس کا کوئی متبادل موجود نہیں تھا۔ بادی النظر میں ٹرمپ حکومت رضا پہلوی کو متبادل انتظام کے قابل نہیں سمجھتی تھی۔
ایسے حالات میں ایران میں موجودہ نظام ختم ہونے سے داخلی انتشار اور خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہوتی۔ امریکہ کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی لیکن لگتا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور پاکستان نے اس صورت حال کے حوالے سے امریکہ کو متنبہ کیا کہ ایران جیسے بڑے اور باوسائل ملک میں خانہ جنگی پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرے گی۔ اس کے بطن سے جنم لینے والی دہشت گردی اور عسکری گروہ امریکی مفادات کے لیے براہ راست خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔ غنیمت سمجھنا چاہیے کہ اس بحران کو ٹالا گیا ہے اور اب ایران، امریکہ کے ساتھ بات چیت کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
ایک طرف ترکیہ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ملاقات اور بات چیت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں تو دوسری طرف امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کے بحری بیڑے ابراہم لنکن کی طرف پرواز کرنے والے ایک ایرانی شاہد۔ 139 ڈرون کو مار گرایا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق اس ڈرون کو امریکی ایف۔ 35 لڑاکا طیارے نے نشانہ بنایا۔ مذاکرات کے ذریعے تصادم ٹالنے کی کوششوں کے درمیان ایرانی ڈرون کی امریکی بحری بیڑے کی طرف پرواز سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایرانی نظام حکومت میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو مصالحت کی بجائے ٹکراؤ پر یقین رکھتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ کسی مفاہمت پر راضی نہیں ہیں۔
یہ صورت حال مذاکرات کو واحد حل سمجھ کر ترکیہ میں امریکہ سے بات چیت کرنے کے لیے وفد بھیجنے والی تہران حکومت کے لیے حقیقی چیلنج ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان اور ثالثی میں ملوث دیگر ممالک کو بھی تہران پر واضح کرنا چاہیے کہ ایران کی طرف سے کوئی معمولی سی لغزش مذاکرات کو ناکام بنا سکتی ہے جس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ ٹرمپ بار بار حملہ کرنے کی بات کرتے رہے ہیں اور انہوں نے طاقت ور امریکی بحری بڑا ایرانی سرحد کے قریب متعین کیا ہوا ہے۔
ان حالات میں مذاکرات کو مزید وقت لینے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے حقیقی مسائل حل کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوگی۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سی این این کو انٹرویو میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جوہری ہتھیار ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم اس بات کو مانتے ہیں لیکن امریکہ کو ایران پر معاشی پابندیاں اٹھانی ہوں گی۔
ایران کا یہ نقطہ نظر متوازن اور روشن مستقبل کی طرف نشاندہی کرتا ہے لیکن دیکھنا ہو گا کہ تہران رجیم کس حد تک سنجیدگی سے یہ مقصد حاصل کرنے میں پیش رفت کرتی ہے اور ماضی کی طرح تعطل پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ ایران کے لیے امن اور اپنے عوام کی خوشحالی جوہری ہتھیاروں کے حصول سے زیادہ اہم ہونی چاہیے۔ پاکستانی نمائندوں کو ایرانی قیادت کو اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کے بعد بھی اگرچہ ایران کی مشکلات اور بحران ختم نہیں ہو جائے گا۔ بلکہ ملاؤں کی حکومت کو اب بنیادی آزادیاں دینے اور موجودہ مسلط کردہ نظام میں لچک پیدا کرنے پر آمادہ ہونا پڑے گا۔ عوام کی بے گانگی کے باوجود اگر آمرانہ نظام مسلط رکھنے کی کوشش کی گئی تو شاید کوئی سفارت کاری اور بیرونی مفادات ایران کو کسی بڑے طوفان سے محفوظ نہ رکھ سکیں۔
بشکریہ: کاروان ناروے