ایران کے لیے یہ جنگ زندگی اور موت کا سوال ہے

یہ تحریر سید مجاہدعلی کی ہے

ابھی دنیا افغانستان پر پاکستان کے حملوں اور ان کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں بند کرانے کی باتیں ہی کر رہی تھی کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایران پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ ایران نے بھی وعدے کے مطابق تمام تر سفارتی نزاکتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسرائیل کے علاوہ بحرین، کویت، قطر، دوبئی اور ابو ظہبی میں میزائل داغے ہیں۔

جنگ کی گرما گرمی میں کسی فریق کے دعوے پر یقین نہیں جا سکتا لیکن فریقین کے درمیان وسائل اور عسکری صلاحیتوں کے واضح فرق کے باوجود یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ یہ نئی جنگ انتہائی تباہ کن اور بے نتیجہ ہوگی۔ البتہ اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں عرب ممالک اور ایران کے درمیان سفارتی مفاہمت کا موجودہ ماحول ختم ہو جائے گا۔ ایران، عرب ممالک پر حملوں کا جواز یوں دیتا ہے کہ وہاں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن کسی بھی عالمی ضابطے اور سفارتی اصول کے مطابق یہ ان تمام ممالک کی خود مختاری اور علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے، جہاں یہ حملے کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ خلیجی اور عرب ممالک نے طویل عرصہ تک امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کی ہے لیکن کسی بھی خود مختار ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس ملک کے ساتھ دفاعی شراکت داری کرتا ہے۔ محض اس عذر پر کسی ملک کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔

ایران دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اگر امریکہ نے اس پر جنگ مسلط کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ آج متعدد عرب ممالک پر پھینکے گئے میزائل حملوں کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ تہران کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ ایران نے ابھی تک یہ ثبوت پیش نہیں کیا ہے کہ ان ممالک میں امریکی اڈوں سے براہ راست ایران پر حملے کیے گئے تھے۔ ایسا ثبوت موجود نہ ہونے کی صورت میں ایرانی حملے تمام عالمی ضابطوں کی ویسی ہی خلاف ورزی قرار پائیں گے جیسی جارحیت امریکہ اور اسرائیل، ایران کے خلاف کر رہے ہیں۔ ایران اگر امریکہ کو نشانہ بنانا چاہتا ہے تو اس نے ایران کے قریب سمندروں میں بھاری بحری بیڑا جمع کیا ہے۔ ایرانی میزائلوں یا حملوں کا پہلا ہدف اس امریکی طاقت کو ہو نا چاہیے تھا۔ تاہم ایران نے متعدد عرب ممالک کو بیک وقت نشانہ بنا کر جنگ کے پہلے ہی مرحلے میں اپنے لیے شدید پیچیدگی پیدا کی ہے۔ یہ جنگ جلد رکنے کا امکان نہیں ہے، اس لیے اگر امریکہ عرب ممالک کے اڈوں کو استعمال کرتا یا یہ ممالک اس کی اجازت دیتے تو ایران جوابی کارروائی کے طور پر انہیں نشانہ بنا سکتا تھا۔ البتہ ایران نے عرب ممالک کو فوری طور سے جنگ کا فریق بنا کر خود ہی جنگ کا دائرہ بہت وسیع کر لیا ہے جس کے اثرات سے نمٹنا اس کی حکومت کے لیے شاید دہائیوں تک مشکل ہو گا۔

ایرانی حکومت واضح کرتی رہی ہے کہ ایران امریکی حملے کے بعد کسی بھی حد تک جائے گا۔ جوابی کارروائی میں اسرائیل کے ساتھ ہی عرب ممالک پر میزائلوں کی بارش سے تہران کی طرف سے تخت یا تختہ والے ارادے کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایران کے لیے یہ جنگ زندگی اور موت کا سوال ہے۔ امریکی صدر واضح کرچکے ہیں کہ وہ تہران حکومت گرانا چاہتے ہیں۔ اس لیے ایرانی حکومت بھی اپنی بقا کے لیے ہر قسم کی سفارتی ضرورتوں کو بھول کر شدید کارروائی کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ آئندہ چند روز میں اندازہ ہو سکے گا کہ ایران امریکی مفادات اور عسکری اثاثوں کو کتنا نقصان پہچانے کے قابل ہے۔ عرب ممالک پر حملہ کے علاوہ آبنائے ہرمز کو بند کر کے ایران نے البتہ واضح کر دیا ہے کہ وہ ہر قسم کے تصادم اور اس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے پر تیار ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش ان تمام ممالک کے ساتھ معاشی اعلان جنگ کے مترادف بھی سمجھا جاسکتا ہے جو اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ نہیں بلکہ اس کی مذمت کرنے والوں میں شامل ہیں۔

ایران پر امریکی حملہ تو قرین قیاس تھا لیکن یہ گمان ہونے کے باوجود کہ اسرائیل بھی ان حملوں میں شامل ہو گا، امید کی جا رہی تھی کہ ایران کو تباہ کرنے کے بارے میں تمام تر اسرائیلی گرم جوشی کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے اس جنگ کا حصہ بنانے سے گریز کریں گے۔ اگرچہ اسرائیل سے حملوں میں پہل کروا کے بظاہر ٹرمپ حکومت نے اس قانونی الجھن سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جس کے تحت جنگ شروع کرنے سے قبل امریکی صدر کانگرس کی اجازت لینے کا پابند ہوتا ہے۔ اسرائیل سے پہل کروا کے صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ امریکہ نے اپنے مفادات کے خلاف ایرانی عزائم کی وجہ سے حق دفاع کرتے ہوئے جوابی حملہ کیا ہے۔ اگرچہ کوئی امریکی یا دنیا کا شہری ایسے امریکی دعوؤں پریقین نہیں کرے گا۔ امریکی کانگرس میں پہلے ہی اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا اور چند روز پہلے ہی ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک ارکان نے ایران کے خلاف جنگ جوئی کے متعلق صدر کے اختیارات محدود کرنے کا بل کانگرس میں پیش کیا تھا۔ اس بل پر ابھی ووٹنگ نہیں ہوئی لیکن ٹرمپ نے حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا جواز دیتے ہوئے اسے امریکی سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے لیکن وہ اس کا کوئی جواز پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اس پر مستزاد اسرائیل کو شریک کر کے انہوں نے خود امریکہ کی پوزیشن کمزور کی ہے۔ اب عرب ممالک و مسلمان ممالک بظاہر اسے اسرائیل کی جنگ سمجھیں گے جس میں امریکہ پوری طاقت کے ساتھ شریک ہے۔ اس بارے میں جاری ہونے والے ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے دو باتوں پر زور دیا ہے :

ایک: ایران کے میزائل اسرائیل ہی نہیں یورپ اور امریکہ کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ حالانکہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو خطرہ کہتے ہوئے اسے بند کرنے کا مطالبہ کرتا رہا تھا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عمان کے توسط سے اس بارے میں مذاکرات بھی ہوتے رہے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ ان مذاکرات کو مثبت کہتے رہے ہیں۔ اب ٹرمپ ایرانی میزائل پروگرام کو تباہ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، جو ان کے سابقہ موقف سے مختلف ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ بہر صورت ایران پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ اس حملہ سے اسرائیل کے سوا کسی کو براہ راست فائدہ نہیں ہو گا۔

دوئم: ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ تہران کی موجودہ حکومت کو فاشسٹ اور ناقابل قبول مانتے ہیں اور اسے تبدیل کرنا ہی ان کا مقصد ہے۔ حالانکہ ٹرمپ حکومت تہران کی جس حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتی رہی ہے وہ وہی رجیم ہے جس کے خلاف انہوں نے ویڈیو پیغام میں تاریخی تناظر میں اپنا مقدمہ پیش کیا ہے۔ اگر یہ حکومت ایسی ہی ناقابل قبول تھی تو اس کے ساتھ مذاکرات کا ڈھونگ، محض حملہ کے لیے تیاری مکمل کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔ یہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ٹرمپ کی قیادت میں منہ زور امریکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کسی اصول یا ضابطے کو نہیں مانتا۔

اس حوالے سے یہ پہلو بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ ٹرمپ تہران میں حکومت تبدیل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس ایران میں کوئی ایسی متبادل قیادت یا اسٹرکچر موجود نہیں ہے جو موجودہ رجیم کی جگہ لے سکے۔ اسرائیل موجودہ حکومت گرا کر سابق ایرانی ولی عہد رضا پہلوی کو اقتدار میں لانا چاہتا ہے لیکن صدر ٹرمپ اس متبادل کے بارے میں گرم جوش نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ حکومت سے تمام تر گلے شکووں کے باوجود ایران میں سابق ایرانی ولی عہد کو قطعی طور سے کوئی قبولیت حاصل نہیں ہے۔ ایسی کسی تبدیلی سے ایرانی عوام کا کوئی بھلا نہیں ہو گا بلکہ جارحیت کا سلسلہ ویسے ہی دراز رہے گا جیسا کے سابق شاہ کے جانے کے بعد موجودہ ملا رجیم آنے کے بعد عوامی حقوق غصب کرنے کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ سیکولر ایرانی عوام نے شاہ کے مظالم سے تنگ آ کر آیت خمینی کے انقلاب کا ساتھ دیا تھا لیکن اس کے نتیجے میں انہیں مزید پابندیوں، مشکلات اور معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔

صدر ٹرمپ صرف فضائی حملوں کے ذریعے تہران حکومت گرانا چاہتے ہیں لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ زمینی فوج بھیجے بغیر یہ مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ ٹرمپ سیاسی طور سے ایسا اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ اس جنگ کے نتیجہ میں بچ جانے والی زخم خوردہ رجیم ایرانی عوام کے لیے زیادہ مشکلات و تکالیف کا سبب بنے گی۔

بشکریہ: کاروان ناروے

نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Share This Article

تازه ترین