آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ایک قیامت خیز تبدیلی کا نکتہ آغاز ہو سکتی ہے: احمد مغل

رہبر انقلاب آیت اللہ  سید علی خامنہ ای کا قتل محض ایک اور سرخی نہیں ہے اُس خطے میں جو پہلے ہی خونریزی سے بھرا ہوا ہے۔ انہیں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی قیادت کے دل پر وار کرکے شہید کیا ہے —یہ  ایک سوچا سمجھا اقدام جس کا اعتراف دونوں نے کھلے عام کیا اور 1989 سے ایران کی قیادت کرنے والے رہنما کو نشانہ بنانے میں اپنے گھناؤنے گٹھ جوڑ کوچھپانے  کی زیادہ کوشش بھی نہ کی۔ تہران سے آنے والی تصدیق نے اُس حقیقت کو مزید گہرا کر دیا جسے دنیا کے بڑے حصے نے ہفتے کے روز ہی محسوس کرنا شروع کر دیا تھا: ایک زلزلہ خیز تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ پاکستان میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی اور اسے شہادت قرار دیا۔ لیکن سرکاری بیانات سے ہٹ کر ایک وسیع تر احساس موجود ہے کہ یہاں صرف ایک سیاسی و روحانی رہنما کا نقصان نہیں ہوا، بلکہ اس سے کہیں بڑا واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ ایسی شہادت ہے جو دنیا کو ہلا سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر نے ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل پر سخت تنقید کی، انہیں “اقوامِ متحدہ کے منشور کے خلاف جنگ” چھیڑنے کا الزام دیا اور پاکستان، روس اور چین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اُن کے بقول ان مبینہ غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے “اصولی مؤقف” اختیار کیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک نے یا تو نظریں چرا لیں یا اسرائیل اور امریکہ کے مؤقف کا ساتھ دیا۔ یہ غیر متوقع نہیں تھا، مگر آیت اللہ کی شہادت پر عالمی رہنماؤں کا مدھم ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ عالمی نظام اور بین الاقوامی قانون کی وقعت اب باقی نہیں رہی۔ جب ٹارگٹ کلنگ کو ‘پیشگی اقدام’ قرار دے کر جائز ٹھہرایا جائے اور خودمختاری کو بے خوف روند دیا جائے تو عالمی حکمرانی کی بنیادیں کھوکھلی نظر آنے لگتی ہیں۔

اتوار کے روز امریکہ اور اسرائیل کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ پاکستان میں بھی امریکی قونصل خانوں کے باہر احتجاج ہوا جس میں کئی افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس افسوسناک جانی نقصان کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے مزید تحقیقات ضروری ہیں۔ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ ایران میں ہفتے کے روز پیش آنے والے واقعے کا غم صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا؛ یہ اُن دارالحکومتوں، گلیوں اور برادریوں تک پھیل چکا ہے جو اس حملے کو محض جغرافیائی سیاسی کارروائی نہیں بلکہ وقار اور خود ارادیت پر حملہ سمجھتی ہیں۔

اسرائیل کا دیرینہ خواب ایران میں رجیم چینج رہا ہے، اور ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے نیتن یاہو کا ساتھ دے کر اسے حقیقت بنانے کی کوشش کی۔ تاہم یہ آسان نہیں ہوگا۔ ایران کا نظامِ کمان اب بھی مضبوط ہے۔ کم از کم فوری طور پر ایران میں کسی اسرائیل نواز کٹھ پتلی حکومت کو مسلط کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ آیا چند برسوں بعد ایسا ہو پائے گا، یہ دیکھنا باقی ہے۔ البتہ یہ یقینی ہے کہ دہائیوں کی پابندیوں اور تنہائی میں ڈھلا ایرانی ریاستی ڈھانچہ وہ مزاحمت دکھا چکا ہے جسے بیرونی طاقتیں بارہا کم تر سمجھتی رہی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ بالآخر اس جنگ سے نکلنے کی کوشش کر سکتا ہے کیونکہ اسے ایرانی کارروائیوں میں نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران تین امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔ واضح ہے کہ امریکہ نے اس کے نتائج پر مکمل غور نہیں کیا اور وہ ایک ایسی جنگ کا حصہ بن گیا ہے جس سے وہ دہائیوں تک گریز کرتا رہا تھا۔ اب یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ کیا وہ اس سے بغیر مزید نقصان کے نکل سکے گا۔

اسرائیل کے لیے ’گریٹر اسرائیل‘ کا خواب تہران کے سقوط سے جڑا ہوا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس اقدام نے جو انتشار پیدا کیا ہے — خواہ مشرقِ وسطیٰ ہو، مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا یا پوری دنیا — وہ کسی ایک فریق کے بس میں نہیں ہوگا۔ ایران کو غیر مستحکم کرنا کوئی محدود کارروائی نہیں بلکہ ایسے خطے میں چنگاری سلگانا ہے جو فرقہ وارانہ، نسلی اور جغرافیائی سیاسی دراڑوں سے بھرا ہوا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال بلوچستان کے تناظر میں ایک اور چیلنج بن سکتی ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند عناصر کی جانب سے اسرائیل کی حمایت سامنے آنا حیران کن نہیں ہوگا۔ مودی-نیتن یاہو گٹھ جوڑ بھی اس پس منظر میں زیرِ بحث آتا ہے۔ ایران کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس نازک صورتحال میں ہمیں نہایت احتیاط اور تدبر سے کام لینا ہوگا۔ اب تک پاکستان نے ایران کے معاملے پر اصولی مؤقف اپناتے ہوئے سفارتی سطح پر بہتر حکمت عملی دکھائی ہے۔ مگر آنے والے برس نہ صرف ہمارے لیے بلکہ ایران کے گرد موجود تمام ممالک کے لیے کٹھن ہوں گے۔

ایسی شہادت جو دنیا کو ہلا دے، کوئی معمولی واقعہ نہیں ہوتی؛ وہ ایک موڑ ثابت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اپنا راستہ درست کرے گی یا اُس ڈگر پر چلتی رہے گی جہاں صرف طاقت فیصلہ کرتی ہے کہ کون جئے گا، کون مرے گا اور کون سے قوانین معنی رکھتے ہیں۔

شفقنا اردو

پیر، 2 مارچ 2026

نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Share This Article

تازه ترین