ایران: مزاحمت کا نیا عالمی بیانیہ

یہ تحریر عمر گڈو کی ہے

تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ اور ہر سلطنت کے عروج کے لیے ایک زوال مقدر ہوتا ہے۔ آج جب ہم اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں سانس لے رہے ہیں تو دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں پرانا ورلڈ آرڈر اپنی آخری ہچکیاں لے رہا ہے اور ایک نیا ملٹی پولر نظام جنم لے رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی محض دو ملکوں کی جنگ نہیں بلکہ یہ اس عالمی بالادستی کی جنگ ہے جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو 1991 میں سویت یونین کے بکھرنے کے بعد دنیا یونی پولر ہو گئی تھی۔ امریکہ ایک ایسی سپر پاور بن کر ابھرا جس کے سامنے کوئی دیوار نہ تھی۔ سرمایہ دارانہ نظام کو ایک آسمانی صحیفے کی طرح پیش کیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ اب رہتی دنیا تک صرف کیپٹلزم ہی راج کرے گا۔ اس طاقت کے نشے میں چور ہو کر امریکہ نے بین الاقوامی قوانین انسانی اخلاقیات اور خود مختار ریاستوں کے تقدس کو پامال کرنا شروع کیا۔ عراق، لیبیا، شام اور افغانستان کی بربادی اس عالمی دہشت گردی کی داستانیں ہیں جو امن اور جمہوریت کے لبادے میں لڑی گئیں۔ لیکن کیا ایران کے معاملے میں بھی وہی اسکرپٹ دہرایا جا سکا؟ یہ وہ سوال ہے جس نے موجودہ عالمی نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔

ایران پر حملے یا اس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے پیچھے امریکی مقاصد صرف سیاسی نہیں بلکہ گہرے معاشی ہیں۔ امریکہ یہ سمجھتا تھا کہ ایران کی قیادت کو ختم کر کے وہ وہاں کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لے گا جس طرح اس نے ماضی میں ڈاکٹر مصدق کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر شاہِ ایران کو مسلط کیا تھا۔ لیکن آج کا ایران 1953 کا ایران نہیں ہے۔ امریکی پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ ایران پر دباؤ ڈال کر اسے گھٹنوں کے بل لایا جا سکتا ہے مگر وہ یہ بھول گئے کہ مزاحمت جب نظریاتی بنیادوں پر استوار ہو جائے تو اسے بمبار طیاروں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کشمکش میں چین اور روس کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امریکہ کا اصل مقابلہ اب چین سے ہے جو ایک صنعتی سپر پاور بن چکا ہے۔ چین کو اپنی صنعت کا پہیہ چلانے کے لیے یومیہ لاکھوں بیرل تیل کی ضرورت ہے اور ایران اس کا سب سے بڑا سپلائر ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے تیل پر قبضہ کر کے یا اسے مفلوج کر کے چین کی معاشی شہ رگ کو دبایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران پر حملے کی بات آتی ہے تو روس کا دفاعی نظام اور چین کی معاشی پشت پناہی ایران کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ یہ دراصل امریکہ کی اس عالمی چوہدراہٹ کو چیلنج ہے جو وہ دہائیوں سے قائم کیے ہوئے تھا۔

ایران کے ردِعمل نے دنیا کو حیران کر دیا۔ جہاں عرب ممالک اور اسرائیل یہ سمجھتے تھے کہ وہ امریکی حفاظتی چھتری کے نیچے محفوظ ہیں وہاں ایران نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر اس کی سرزمین پر حملہ ہوا تو خطے کا کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔ ایران نے صرف دفاع نہیں کیا بلکہ ایک جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ امریکی فوجی ٹھکانے اور ان کے اتحادی اب نشانے پر ہیں۔ اس اقدام نے مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک کی نیندیں اڑا دیں جو اپنی بقا کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے تھے۔ وہ آئرن ڈوم جسے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا جدید ٹیکنالوجی کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں کے لبرل طبقے اور مخصوص مذہبی حلقوں کا رویہ بھی عجیب رہا ہے۔ لبرل دانشور جو مغربی تہذیب کے سحر میں جکڑے ہوئے ہیں ایران کی مزاحمت کو خودکشی قرار دیتے رہے اور یہ مشورہ دیتے رہے کہ ایران کو اپنا تیل اور وقار امریکہ کے حوالے کر دینا چاہیے کیونکہ وہ ایک بڑی طاقت ہے۔ دوسری طرف مذہبی تعصب کی وجہ سے کچھ حلقے ایران کی اس جنگ کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ یہ جنگ شیعہ یا سنی کی نہیں بلکہ یہ ایک خود مختار ملک کی بقا اور سامراجی طاقت کے خلاف کھڑے ہونے کی جنگ ہے۔ اگر ہم دنیا کو صرف مسلک کی عینک سے دیکھتے رہیں گے تو ہم کبھی بھی اس وسیع تر معاشی اور سیاسی کھیل کو نہیں سمجھ سکیں گے جو عالمی طاقتیں ہمارے خطے میں کھیل رہی ہیں۔

امریکہ نے اپنی جنگوں کو ہمیشہ تہذیبوں کے تصادم کا نام دیا۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی تاکہ مسلمان ممالک معاشی ترقی اور ٹیکنالوجی پر توجہ دینے کے بجائے آپس کے مذہبی اختلافات میں الجھے رہیں۔ امریکی پالیسی سازوں نے جان بوجھ کر ایسے نصاب اور نظریات کو فروغ دیا جو مسلمانوں کو جدید دنیا کے تقاضوں سے دور رکھیں۔ لیکن آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ اصلی دہشت گرد کون ہے۔ وہ جو ہزاروں میل دور سے آ کر ہسپتالوں، اسکولوں اور پُر امن شہریوں پر بمباری کرتا ہے یا وہ جو اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے سینہ سپر ہے؟

موجودہ صورتحال یہ اشارہ دے رہی ہے کہ امریکہ کا ورلڈ آرڈر اب ماضی کا قصہ بننے والا ہے۔ ایران کے خلاف حالیہ مہم جوئی نے الٹا امریکہ ہی کی خارجہ پالیسی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اب دنیا ملٹی پولر ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں روس، چین، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک مل کر ایک نیا بلاک تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ نیا نظام سرمایہ دارانہ استحصال کے بجائے باہمی اشتراک اور علاقائی خود مختاری پر مبنی ہو سکتا ہے۔

اگرچہ تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بڑی جنگوں کے بعد ہی بڑے انقلابات آتے ہیں۔ جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت سے ملکوں کو نوآبادیاتی نظام سے آزادی ملی اسی طرح اس موجودہ عالمی کشیدگی کے نتیجے میں بہت سی ریاستیں امریکی غلامی کے جوئے سے نجات پائیں گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے قومی مفادات کا ازسرنو جائزہ لیں اور ایک ایسی خارجہ پالیسی اپنائیں جو کسی سپر پاور کے مفاد کے بجائے ہمارے اپنے عوام اور خطے کے امن کی ضامن ہو۔

ایران امریکہ کشمکش محض ایک عارضی بحران نہیں ہے بلکہ یہ اس بڑی تبدیلی کا دیباچہ ہے جو عالمی سیاست کے افق پر نمودار ہونے والی ہے۔ طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے اور جو قومیں اس تبدیلی کو بھانپ لیں گی وہی مستقبل کے نقشے پر اپنا نام برقرار رکھ سکیں گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم اور جبر کی بنیاد پر قائم نظام کبھی مستقل نہیں رہتا اور آج کا امریکہ اپنی ہی غلطیوں کے بوجھ تلے دبتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

بشکریہ: ہم سب

نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Share This Article

تازه ترین