یہ تحریر سید مجاہد علی کی ہے
دنیا بھر سے سفارتی کامیابی اور مصالحتی کوششوں پر داد و تحسین وصول کرنے والی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چند ججوں کو ٹارگٹ کرنے اور ان کے سرکار مخالف طرز عمل کی سزا دینے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ حالانکہ حکومت ہی کے چنے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججوں کے تبادلے کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس بلانے اور متعلقہ ججوں کی مرضی کے بغیر ان کا تبادلہ کرنے کی شدید مخالفت کی تھی۔
آج جوڈیشل کمیشن کا اجلاس اگرچہ چیف جسٹس ہی کی صدارت میں منعقد ہوا لیکن ان کی صدارت میں انہیں ہی نظر انداز کرنے کا پورا اہتمام کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی غیررسمی درخواست پر مشورہ دیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے کل 9 ججوں میں سے پانچ کو دوسری ہائی کورٹس میں بھیجنے کا ارادہ ترک کر دیا جائے۔ البتہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی حکومت کو راضی رکھنے کے لیے چیف جسٹس کے مشورے کو اہمیت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ اس کی بجائے جوڈیشل کمیشن کا باقاعدہ اجلاس بلانے کے لیے درخواست دائر کردی۔
چیف جسٹس نے اس درخواست پر کمیشن کا اجلاس بلانے سے گریز کیا تاکہ کسی طرح یہ غیر منصفانہ کوشش ٹال دی جائے۔ لیکن اس گریز کے بعد جوڈیشل کمیشن کے پانچ ارکان نے آئینی شق 175 اے ( 22 ) کے تحت 7 اپریل کو کمیشن کا اجلاس بلانے کی درخواست جمع کرائی۔ قانوناً ایسی درخواست سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس پندرہ روز میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کے پابند ہوتے ہیں۔ لہذا یہ اجلاس آج منعقد ہوا اور تین ’ناپسندیدہ‘ ججوں کو تین مختلف ہائی کورٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں کمیشن کے بارہ ارکان میں سے صرف تین نے اس فیصلہ کی مخالفت کی جن میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے علاوہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر گوہر علی اور سینیٹر علی ظفر شامل تھے۔ پیپلز پارٹی شروع میں ان تبدیلیوں کی مخالفت کرتی رہی تھی لیکن آج منعقد ہونے والے اجلاس میں اس کے نمائندوں نے حکومت کے ساتھ مل کر ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں اسلام آباد کے سینئر جج جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ لاہور ہائیکورٹ کرنے کی منظوری دی گئی۔ جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہی کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو سندھ ہائیکورٹ اور جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائیکورٹ تبدیل کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کے تبادلے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا جن میں جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس خادم سومرو بھی شامل تھے۔ تاہم اس تجویز کے محرک چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے آخری مرحلے پر یہ تجویز واپس لے لی۔ واضح رہے جن ججوں کے تبادلے کیے گئے ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ میں انہیں پہلے ہی تنہا و بے اختیار کرنے کے لیے متعدد عدالتی انتظامی اقدامات کیے جا چکے تھے۔ یہ تینوں ان 6 ججوں میں شامل تھے جنہوں نے مارچ 2024 میں سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین کے نام ایک کھلے خط میں عدالتی امور میں انٹیلی جنس اداروں کی مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کی شکایت کی تھی۔ اس کے بعد یہ تینوں جج ان پانچ ججوں میں بھی شامل تھے جنہوں نے لاہور ہائی کورٹ سے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ تبدیل کر کے انہیں وہی سنیارٹی دینے کی بھی مخالفت کی تھی۔ اس مخالفت کے باوجود جسٹس عامر فاروق کے سپریم کورٹ کا جج بننے کے بعد جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ ان ججوں نے بعد میں جسٹس ڈوگر کی تقریب حلف برداری میں بطور احتجاج شرکت سے گریز کیا تھا۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے یہ تبادلے 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کے تحت کیے ہیں۔ اس شق کے مطابق ہائی کورٹ کے کسی جج کو اس کی مرضی پوچھے بغیر کسی دوسری ہائی کورٹ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ایسے کسی فیصلے کی مخالفت کرنے والے جج کو سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کرتے ہوئے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ البتہ جسٹس بابر ستار اور دیگر متاثرہ ججوں نے چیف جسٹس اور جوڈیشل کمیشن سے اپنے دلائل پیش کرنے کی اجازت طلب کی تھی تاہم اس درخواست پر غور نہیں کیا گیا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئے ججوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے اور اس بارے میں متعدد نام بھی میڈیا میں گردش کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی بات مان کر جوڈیشل کمیشن کے سرکاری ارکان نے تین ججوں کا تبادلہ منظور کیا اور ملک کے سب سے بڑے عدالتی عہدے پر فائز چیف جسٹس کو اپنی قانونی و آئینی رائے کی وجہ سے تنہا کر دیا گیا۔ حالانکہ یہ فیصلہ چیف جسٹس یحیی آفریدی ہی کی صدارت میں منعقد ہوا تھا لیکن سرکاری ارکان صدر مجلس کی رائے سننے پر آمادہ نہیں تھے۔
چیف جسٹس نے ان تبادلوں کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ متعدد ججوں کو کسی وجہ و عذر کے بغیر ان کے صوبوں میں واپس کرنے سے وفاقیت اثر انداز ہوگی اور وفاق کی اکائیوں میں بیگانگی کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ تبادلے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مساوی نمائندگی کے اصول کو بھی نقصان پہنچائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہتھکنڈے سے ہائی کورٹ کے ججوں کو انتظامی عہدیدار میں بدل دیا جائے گا جس سے عدالتی خود مختاری پر سنگین اثر مرتب ہو سکتا ہے۔ تاہم چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سب سے وزنی دلیل یہ تھی کہ ججوں کے تبادلے کو انہیں سزا دینے کے طریقے کے طور پر استعمال کرنے کی روایت نہ ڈالی جائے۔ اس سے متعلقہ جج کے ساتھ تو ناانصافی ہوگی لیکن ججوں کا احتساب کرنے کے لئے قائم سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار بھی چیلنج ہو گا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کو کسی جج سے شکایت ہے یا اس کے کردار پر شبہ ہے تو اس کے خلاف معاملہ جوڈیشل کونسل میں بھیجا جائے تاکہ مناسب اور آئینی فورم پر اس کے مستقبل کا فیصلہ ہو سکے۔ البتہ حکومتی ارکان نے چیف جسٹس کی قانونی رائے کو اہمیت دینے کی بجائے سیاسی ضرورتوں اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر اس فیصلے پر اصرار کیا۔
یہ تبادلے چند ججوں کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے عدالتی اختیار اور ججوں کی خود مختاری سے رائے قائم کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اب یا تو صرف ایسے لوگوں کو جج بھرتی کیا جائے گا جو قانون و آئین کی بجائے حکومت کی مرضی و منشا کے مطابق فیصلے کرنا ہی ضروری سمجھیں گے یا خود مختاری سے سوچنے والے جج بھی تبادلے کے خوف سے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کے معاملے میں ججوں کی بجائے پارلیمنٹ کے سیاسی نمائندوں کو جوڈیشل کمیشن میں اکثریت دے دی گئی تھی۔ اس طرح ججوں کی تقرری و تبادلوں کا اختیار عملی طور سے حکمران پارٹی کے ہاتھ میں آ گیا کیوں کہ اسی کے نامزد کیے ہوئے ارکان کے پاس اکثریت ہوتی ہے۔ اب یہ روایت بھی راسخ کی جا رہی ہے کہ چیف جسٹس کی آئینی رائے کو بھی نظر انداز کر کے کسی معاملہ میں ان کی مخالفت کی پرواہ نہ کی جائے۔ یوں قانون و آئین کی سب سے اہم اور مقدس علامت کو بے توقیر کیا جا رہا ہے۔
حکومت سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ملک میں عدلیہ کی آزادی کو دفن کرنے کا اہتمام کر رہی ہے۔ لیکن اسے اندازہ نہیں ہے کہ وقت تبدیل ہونے کے ساتھ یہی طریقہ اس کے اپنے سیاسی مفادات کے برعکس استعمال ہو گا۔ عدلیہ کی خود مختاری پر ہونے والے حملے ججوں کو بے توقیر اور جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔
بشکریہ: کاروان ناروے
نوٹ: شفقنا کااسس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں