تعارفِ شخصیت
مولانا حافظ سید مصطفیٰ حسین توکلی
پرنسپل، مدرسہ جامعہ معصومہ، ہنگو (خیبر پختونخوا)
مولانا حافظ سید مصطفیٰ حسین توکلی کا شمار پاکستان کے ممتاز دینی و علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر ہنگو میں حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ ڈگری کالج ہنگو سے ایف اے کی سند حاصل کی۔
دینی تعلیم کے حصول کے لیے آپ نے جامعہ عسکریہ، جامعہ شہید عارف حسینیؒ اور جامعہ منتظر لاہور جیسے معروف علمی مراکز میں تعلیم حاصل کی۔ مزید اعلیٰ دینی و تحقیقی تعلیم کے لیے آپ حوزۂ علمیہ قم (ایران) تشریف لے گئے، جہاں آپ نے عصرِ حاضر کے جید مراجع و مجتہدین کے دروس سے استفادہ کیا۔ آپ کے اساتذۂ کرام میں آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی، آیت اللہ العظمیٰ وحید خراسانی، آیت اللہ مصطفوی اور آیت اللہ شب زندہ دار جیسی عظیم علمی شخصیات شامل ہیں۔
آپ نے سن 2006ء میں فقہ و اصولِ فقہ میں ایم فل مکمل کیا اور مسلسل علمی و تحقیقی کاوشوں کے بعد سن 2022ء میں فقہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ وطن واپس تشریف لائے اور دینی تعلیم، تربیتِ طلاب اور علمی خدمات کے میدان میں مصروفِ عمل ہیں۔
اس وقت آپ مدرسہ جامعہ معصومہ ہنگو کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور تدریس، تحقیق، تربیت اور تبلیغِ دین کے ذریعے معاشرے کی فکری و اخلاقی رہنمائی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
شفقنا اردو: واقعۂ غدیرِ خم کی تاریخی اور دینی حیثیت کیا ہے؟ اور آپ کے نزدیک اس واقعے کا پیغام آج کے دور کے مسلمانوں اور امتِ مسلمہ کی قیادت و اتحاد کے لیے کس طرح رہنمائی فراہم کرتا ہے؟
مولانا حافظ سید مصطفیٰ حسین توکلی: واقعہ غدیر خم اسلامی تاریخ کا وہ روشن سنگ میل ھے جو امت مسلمہ کو باھمی اتفاق اتحاد اور مثالی قیادت کے اصول فراھم کرتا ہے۔ عید غدیر خم میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مسلمانوں کو متفق کرنے کا اعلان کیا أج کے دور میں فرقہ واریت اور انتشار سے بچنے کے لیے اسی اخوت کی ضرورت ہے جس اخوت کا اعلان رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے غدیر خم میں کیا تھا واقعہ غدیر میں حضرت علی علیہ السلام کی قیادت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ امت کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو امت میں فلاح عدل انصاف اور اخلاقی اقدار کو ترجیح دے امام علی کی سیرت اور أپ کا نظام حکومت عدل مساوات پر مبنی تھا امت مسلمہ کو ان اصولوں کو اپنانا ہوگا واقعہ غدیر ھمیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر امت کے اجتماعی مفاد اور عادلانہ نظام قیادت کے تحت متحد ھونے کا درس دیتا ہے۔
شفقنا اردو: حج اسلام کا ایک بنیادی فرض ہے جو امتِ مسلمہ کو وحدت اور مساوات کا درس دیتا ہے۔ آپ حج کے اس اجتماعی و روحانی پہلو کو غدیر کے واقعے میں بیان ہونے والے پیغامِ ولایت اور قیادت کے تصور کے ساتھ کیسے جوڑتے ہیں؟
مولانا حافظ سید مصطفیٰ حسین توکلی: ۔ حج اور واقعہ غدیر دونوں اسلامی تاریخ اور امت مسلمہ کے اتحاد میں گہرا تعلق ہے حج جہاں مسلمانوں کو توحید اخوت اور عالمی وحدت کا عملی درس دیتا ھے وھاں واقعہ غدیر اس وحدت کی بقاء اور تسلسل کے لیے امامت و قیادت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے پیغمبر کا آخری حج اور مسلمانوں کا عظیم اجتماع عالمگیر وحدت اور مساوات کا سب سے بڑا مظہر تھا پیغمبر نے حج کے موقع پر اور غدیر کا مقام انتخاب کرتے ہوئے اس وحدت کی عظمت کو دنیا میں جلوہ گر کرنا تھا وحدت کی بقاء کے لئے کچھ امور کی ضرورت ھوتی ھے حج اگر امت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتا ہے تو غدیر کا اعلان تمام مسلمانوں کے درمیان انتشار سے بچانے اور ایک مرکز امامت اور ولایت سے جوڑنے کا نام ہے پیغمبر نے اعلان کیا کہ یہ جوڑ اور اتحاد ولایت کے بغیر ممکن نہیں حج مسلمانوں کو عملی طور پر ایک مرکز پر اکٹھا کرکے وحدت سکھاتا ہے واقعہ غدیر امت کو ایک قائد سے جوڑ کر اکٹھا کرتی ہے۔
شفقنااردو: بعض مکاتبِ فکر غدیر کے واقعے کو صرف محبت و فضیلت تک محدود سمجھتے ہیں جبکہ بعض اسے قیادت کے اعلان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ آپ اس اختلافِ تعبیر کو کس طرح دیکھتے ہیں، اور اس میں علمی و متوازن مکالمے کی کیا گنجائش ہے؟
مولانا حافظ سید مصطفیٰ حسین توکلی: واقعہ غدیر کو دو نقطہ نظر اور دو تعبیر سے دیکھا جاتا ہے ان دو تعبیر میں مکاتب فکر کے درمیان بنیادی اختلاف ہے۔ شیعہ نقطہ نظر کے مطابق غدیر کا بنیادی مقصد محض محبت یا فضیلت کا اظہار نہیں تھا بلکہ یہ باقاعدہ طور پر سیاسی اور مذہبی قیادت امامت کا اعلان تھا اس استدلال کی بنیاد نبی کریم کا مشہور اعلان تھا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے اسی مولا کا مطلب حاکم اور سرپرست اور رسول کا خلیفہ ھے۔ سنی مکتب فکر علماء کے نزدیک غدیر کا واقعہ صرف علی علیہ السلام کی فضیلت اور محبت سے متعلق تھا سیاسی جانشین معین کرنے کا مقصد نہیں تھا اور اس اختلاف فکر کے اسباب لفظ مولا میں اختلاف اور کچھ قومی تعصبات کے اسباب ھے اور کچھ اسباب وہ دشمنیاں تھی جو ھمیشہ تاریخ میں آل رسول سے کی گئی
شفقنا اردو
پیر، یکم جون 2026
نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہوناضروری نہیں