مینارِ پاکستان میں "شہیدِ امت کانفرنس” — ایک ایسا منظر جو زندگی بھر فراموش نہ ہوگا

یہ رپوٹ سیدہ نصرت نقوی کی ہے

اگر میں لفظوں کا دریا بھی بہا دوں تب بھی اس پروقار، منظم اور تاریخ ساز اجتماع کا آنکھوں دیکھا حال اپنے الفاظ میں مکمل طور پر سمو نہیں سکتی۔

13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی "شہیدِ امت کانفرنس” کے بارے میں جب معلوم ہوا تو دل میں شرکت کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ میں نے جامعہ معصومیہ کی منتظم خواہر عنصر نقوی سے رابطہ کیا اور دریافت کیا کہ آیا وہ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ خواتین کے لیے بس کا انتظام کیا گیا ہے اور وہ لاہور روانہ ہوں گی۔

بات ختم ہوئی تو کچھ دیر بعد ان کا محبت بھرا پیغام موصول ہوا کہ میری نشست بھی کنفرم کر دی گئی ہے اور میں ان کے ساتھ لاہور جا رہی ہوں۔ یہ خبر میرے لیے خوشی، حیرت اور تشکر کا حسین امتزاج تھی۔ میں نے فوراً اپنی تیاری شروع کر دی۔ تیاری کیا تھی، بس اپنا میڈیا بیگ ترتیب دیا اور اس عظیم سفر کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگی۔

اسی دوران محترم توقیر کھرل صاحب سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ میری شرکت ان کے لیے باعثِ افتخار ہوگی۔ ان کی حوصلہ افزائی نے اس سفر کی خوشی کو مزید دوبالا کر دیا۔

12 جون کی رات بے چینی اور انتظار میں گزری۔ آخرکار وہ صبح طلوع ہوئی جس کا شدت سے انتظار تھا۔ ناشتے کے بعد بچوں سے دعا اور محبت کے ساتھ رخصت لی، صاحبزادے نے مدرسے تک پہنچایا اور پھر خواتین کے قافلے کے ساتھ لاہور کی جانب سفر شروع ہوا۔

راستہ طویل تھا مگر منزل عشق کی تھی، اس لیے تھکن محسوس ہی نہ ہوئی۔ لاہور پہنچ کر جب تمام خواتین کے ساتھ بس سے اتر کر مینارِ پاکستان کی جانب روانہ ہوئے تو دل کی دھڑکنیں تیز تھیں۔ ہر قدم ہمیں ایک تاریخی لمحے کے قریب لے جا رہا تھا۔

مینارِ پاکستان پہنچ کر سب سے پہلے جو چیز متاثر کر گئی وہ انتظامات تھے۔ لاکھوں افراد کے اجتماع کے لیے نہایت منظم، باوقار اور بہترین انتظامات دیکھ کر دل خوشی اور فخر سے بھر گیا۔ اتنے مختصر وقت میں اس پیمانے کی تیاری یقیناً قابلِ ستائش تھی۔

میڈیا کارڈ دکھا کر جب اندر داخل ہوئی اور میڈیا سیکشن تک پہنچی تو سامنے کا منظر الفاظ سے ماورا تھا۔ وہ علماء کرام، قائدین اور شخصیات جن کے نام برسوں سے سنتے آئے تھے، جنہیں صرف تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا تھا، آج انہیں اتنے قریب سے دیکھنا میرے لیے ناقابلِ بیان اعزاز تھا۔

میں تہہ دل سے جناب توقیر کھرل صاحب کی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے علامہ امین شہیدی صاحب کا انٹرویو کرنے کا موقع فراہم کیا۔ میں نے ان سے سوال کیا:

"23 مارچ 1940ء کی قراردادِ پاکستان کے بعد آج مینارِ پاکستان میں منعقد ہونے والے اس عظیم اجتماع کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں؟”

انہوں نے جواب دیا کہ یہ اجتماع امت کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے اور امریکہ و صیہونیت کے لیے ایک واضح پیغام اور نشانِ عبرت ہے۔

کانفرنس کے دوران مختلف مقررین کے خطابات سننے کا موقع ملا۔ علامہ سید جواد نقوی کا مدلل اور پراثر اندازِ گفتگو، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا پُرعزم خطاب، علامہ امین شہیدی کی بصیرت افروز گفتگو اور دیگر قائدین کے خیالات نے حاضرین کے دلوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔

خواجہ سعد رفیق نے اپنے منفرد انداز میں حاضرین سے نعرے لگوا کر محفل کو گرما دیا جبکہ سید امین شیرازی اور دیگر مقررین نے اتحادِ امت، شعورِ اسلامی اور قومی خودمختاری کے موضوعات کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔

تقریب کے اختتام پر واپسی کا وقت آیا تو دل عجیب کیفیت میں مبتلا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی روحانی محفل ختم ہو رہی ہو اور انسان اسے چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو۔ علماء، قائدین اور لاکھوں عاشقانِ ملت کے درمیان گزارے گئے وہ لمحات دل و دماغ پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو چکے ہیں۔

واپسی کے سفر میں بار بار یہی احساس غالب رہا کہ میں ایک تاریخی لمحے کی گواہ بن کر لوٹ رہی ہوں۔

آخر میں اپنی قوم کی خواتین سے ایک بات ضرور کہنا چاہوں گی۔ کانفرنس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ شکوہ سامنے آیا کہ خواتین کو اسٹیج پر نمائندگی نہیں دی گئی۔ میری گزارش ہے کہ ہمیں اس عظیم اجتماع کے اصل مقصد اور اس کی تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

اتنے مختصر وقت میں لاکھوں افراد کے اجتماع کا انعقاد، بہترین نظم و ضبط اور مختلف مکاتبِ فکر کی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا معمولی کام نہیں تھا۔ مزید یہ کہ علامہ امین شہیدی صاحب نے اپنے خطاب میں خواتین کی خدمات اور کردار کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

ہمیں اپنی ملت کے علماء، جوانوں اور قائدین کی کاوشوں کو سراہنا چاہیے، ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور ان کے مثبت اقدامات کو مضبوط بنانا چاہیے۔

ہم معمارِ ملت کی مائیں ہیں۔ نسلوں کی تربیت ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر 13 جون کو مینارِ پاکستان میں اتحاد، شعور اور بیداری کا ایک پودا لگایا گیا ہے تو اس کی آبیاری کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں تنقید اور اختلاف برائے اختلاف کے بجائے اپنے جوانوں، علماء اور قائدین کے حوصلے بلند کرنے چاہئیں تاکہ یہ پودا تناور درخت بن سکے۔

میں اس عظیم الشان کانفرنس میں موجود میڈیا ٹیم کی واحد خاتون صحافی تھی جو اسٹیج کے سامنے قائم میڈیا کارنر سے اس پورے اجتماع کا مشاہدہ کر رہی تھی۔ میرے لیے یہی سب سے بڑا اعزاز ہے کہ میں نے اس تاریخی دن کے ہر منظر، ہر آواز اور ہر احساس کو اپنے دل و دماغ میں محفوظ کر لیا ہے۔

یہ یادیں، یہ مناظر اور یہ احساسات شاید زندگی بھر میرے ساتھ رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق پر قائم رہنے، اتحادِ امت کے لیے کردار ادا کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

Share This Article

تازه ترین